پرائم ٹائم میں مسلمانوں کو براہ راست ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔جانئے پوری خبر

آج کچھ سینئر صحافیوں نے گلف نیوز کو بتایا کہ ہندوستان میں پرائم ٹائم ٹیلی ویژن مسلمانوں کیخلاف نفرت پھیلانے کا ایک پلیٹ فارم بن گیا ہے۔براہ راست ٹیلی ویژن مباحثوں اور رپورٹنگ میں مسلمانوں کو کھلے عام نشانہ بنایا جارہاہے اور ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ سینئر ہندوستانی صحافیوں نے گلف نیوز سےگفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کا ایک بہت بڑا طبقہ مسلمانوں کو پائمال کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور پوری مسلم کمیونٹی کو کو پسماندہ اور غدار قرار دے رہا ہے۔براہ راست ٹیلی ویژن پرمسلمانوں کو کھلے عام “ملک دشمن” کہا جاتا ہے ا،جس کے سبب مسلمانوں پر روزانہ ہونے والے یہ حملے معاشرے میں بدامنی کا سبب بن رہے ہیں۔
مزید یہ کہ ان چینلز کی ٹی آر پی بہت بڑھ جانے کی وجہ سے اس نفرت نے پرائم ٹائم جواز حاصل کرلیا ہے۔لیکن ، کچھ ایسے بھی چینلز ہیں جنھوں نے ہمارے ملک میں بڑھتی عدم رواداری میں بہت بڑا تعاون کیا ہے۔ سینئر صحافی ، مصنف اور ناشر ، پیرنجوئے گوہ ٹھاکرتا نے ، خلیج نیوز کو بتایا کہ ان طبقات نے ہندوستان کی آبادی کا ساتواں حصہ – جس میں مسلمان اور دیگر اقلیتیں شامل ہیں ، کو دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔براہ راست ٹیلی ویژن پر ، انہیں کھلے عام “ملک دشمن” کہا جاتا ہے۔ اسلامو فوبیا کی یہ وہ شکل ہے جو پھیل چکی ہے۔ خاص طور پر ، میں چند ٹیلی ویژن اینکرز کا نام لینا چاہتا ہوں جنہوں نے ہندوستانی معاشرے میں ھال میں زہر کو بڑھاوا دیا ہے ، اورملک کی فضا زہریلی کردی ہےا ن میں آج تک کی انجنا اوم کشیپ ، زی نیوز کے سدھیر چودھری ، نیٹ ورک 18 ہندی کے امیش دیوگن اور انڈیاٹوڈے کے گورو ساونت شامل ہیں۔
رویش کمار ایک بے حد سلجھے ہوئے اور سیکولر کردار کے صحافی کے روپ میں جانے جاتے ہیں لیکن ان کا کہنا بھی یہی ہے کہ میڈیا کبھی بھی اتنا فرقہ وارانہ اور متعصب نہیں تھا اور مجھے پریشانی ہے کہ میڈیا ہندو نوجوانوں کو ہجوم میں تبدیل کررہا ہے۔ جو نوکریاں ، اچھی تعلیم ، ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں ، انہیں کسی خاص سیاسی جماعت کی حمایت کرنے کے لئے فسادیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔نیشنل میڈیا جمہوریت کا قتل کر رہا ہے
آزاد ویب سائٹ ا سکرول نے حال ہی میں ایک میڈیا کمنٹری میں کہا ، “راتوں رات ، ٹی وی مباحثے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین فرقہ وارانہ تنازعا ت کو بڑھایا جارہا ہے اور اس طرح کی پروگرامنگ چالاکی سے کی جارہی ہے کہ ہندو مسلم تنازع بڑھ جائے۔گذشتہ ہفتے اس وقت اس میں اضافہ دیکھنے میں آیا جب سپریم کورٹ نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین ایودھیا تنازعہ میں دلائل پیش کیے۔
اس ہفتے اے بی پی نیوز چینل پر ، اینکرسمیت اوستھی نے لکھنؤ میں قتل ہونے والے دائیں بازو کے رہنما کی والدہ کا انٹرویو لیا۔ اگرچہ بوڑھی عورت ان افراد کے نام بتارہی تھی جن کے بارے میں وہ جانتی ہے اور جن کو وہ اپنے بیٹے کی موت کا ذمہ دار سمجھتی ہے ، لیکن سمیت اوستھی نے اسے نظر انداز کیا اور ہندومسلم میں بدلنے کی کوشش کی ۔ اوستھی کو اس خاتون نے ڈانٹا جو اسے فرقہ وارانہ بیان دینے کے لئے اکسارہا تھا ۔سدرشن چینل تو کھلے عام زہر پھیلارہا ہے مگر کوئی روکنے والا نہیں ہے۔یہ سب کھلے عام ۔ہورہا ہے ہندوستان کا سیکولر کردار اسکی اقدار سب ختم ہرہا ہے اور ملک بربادی کی طرف جارہا ہے۔راجدیپ سر دیسائی ،تحسین پونے والا ،بھوپیندر چوبے جیسے سبھی سینئر صحافی اس وقت ہندوستانی میڈیا کی وہ حلات دیکھ رہے ہین جو کبھی نہین دیکھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram