مولانا محمد طلحہ کاندھلوی کے انتقال پر اظہار تعزیت

شیخ طلحہ خانوادہ کاندھلہ کی علمی، اصلاحی اور روحانی وارث کے سچے امین تھے: شمس الہدی قاسمی

آنند نگر مہراج گنج: مظاہر العلوم کے سابق شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی مہاجر مدنی نور اللہ مرقدہ کے صاحبزادے، پیر طریقت ومشہور عالم دین مولانا محمد طلحہ کاندھلوی کا گذشتہ روز طویل علالت کے بعد میرٹھ کے آنند ہسپتال میں انتقال ہوگیا۔
حافظ شجاعت فیض عام چیریٹیبل ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری حافظ شمس الہدی قاسمی نے حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی صاحبزادہ و جانشین حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی قدس سرہ کے سانحہ ارتحال پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہا ر کرتے ہوئے اسے ملت اسلامیہ ہند کے لیے بڑا خسارہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ جامعہ مظاہر العلوم سہارن پور کے سرپرست اور خانوادہ کاندھلہ کی علمی، اصلاحی اور روحانی وراثت کے سچے امین تھے ۔ آپ شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ سے تربیت و سلوک کے لیے بیعت ہوئے، اجازت و خلافت حضرت شیخ الحدیث ؒ سے حاصل کی اور پھر اسی منہج پر بیعت وارشاد کا سلسلہ شروع کیا۔ اللہ تعالی نے آپ کو توازن و اعتدال، بے نفسی، تواضع و خدمت کا جذبہ اور اصابت رائے کا جوہر عطا فرمایا تھا۔ آپ صاحب سیرت وکردار، نرم خو، کریم النفس اور سادہ لوح شخصیت کے مالک تھے۔ پوری زندگی زہد و غنا، کثرت ذکر، مذاکرہ دینی، احیائے سنت واشاعت دین و شریعت میں مستغرق رہے۔ آپ دارالعلوم دیوبند کے تاحیات رکن شوری اور مظاہر العلوم سہارن پور کے رکن شوری وسرپرست رہے۔ خانوادہ مدنی سے آپ کو تعلق وراثت میں حاصل ہوا تھا، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے آپ کے بچپن میں آپ کو پیرجی کا لقب دیا تھا جو بعد میں مقبول عام وخاص ہوا۔
ٹرسٹ کے جنرل سپروائز حافظ عبید الرحمن الحسینی نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا محمد طلحہ کاندھلوی کے رخصت ہوجانے سے علمی و خانقاہی دنیا کو ناقابلِ تلافی نقصان پہونچا ہے۔ مولانا مرحوم عظیم نسبت کے حامل اور بزرگانہ اداؤں کے حامل تھے۔ ان کا وجود ملتِ اسلامیہ کے لیے بلاشبہ نعمت و برکت تھا۔ ان کے فیوض و برکات سے ایک عالم مستفیض ہوا۔ ان کے انتقال سے جو سونا پن پیدا ہوا ہے وہ دیر اور دور تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔ اللہ عز و جل امت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *