دردناک کہانی ۔کابل میں نکاح مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ۔۔۔

بی بی سی کے شکریے کے ساتھ

کابل: خودکش حملے میں بچ جانے والے دولہا دلہن اپنوں کی نفرت کا شکار

میر واعظ علمی نکاح نامے پر دستخط کرنے والے تھے جب دھماکہ ہوا

دُھواں چھٹنے کے بعد پتہ چلا کہ کس سطح کی تباہی ہوئی تھی۔ بربادی کا ایک منظر جو کابل میں ایک شادی کی تقریب میں دھماکہ کے بعد دیکھا گیا۔ یہ تقریب دولتِ اسلامیہ کے ایک خود کش حملے کا نشانہ بنی تھی۔اس تقریب میں دولہا اور دلہن دونوں بچ گئے لیکن شادی میں شریک ہونے والوں میں 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔لیکن ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور دوسرے رشتہ داروں کی ناراضی سے انھیں روزانہ ہی ایک اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔

شادی کی تقریب

اس برس 17 اگست بروز سوموار، میر واعظ علمی ایک پُرہجوم کمرے میں اپنے دیگر رشتے داروں اور قریبی دوستوں کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے۔26 برس کے علمی کی زندگی خوابوں اور خواہشات سے بھری ہوئے تھی۔ ایک ایسے ملک میں جو کئی دہائیوں سے خانہ جنگی کا شکار تھا، وہ اپنی شادی کے دن اپنے لیے ایک نئی صبح امید کے لیے دعا گو تھا۔شادی ہال میں سیکنڑوں مہمان نکاح کی تقریب کے ختم ہونے کا بیتابی کے ساتھ انتظار کر ہے تھے تاکہ روائتی عشائیے کا آغاز ہو لیکن ان کی قسمت میں یہ کھانا نہیں تھا۔

دھماکہ

علمی کی ہونے والی 18 برس کی دلہن ریحانہ، علمی کی بہن اور اپنی ماں کی مدد سے ایک کمرے میں اپنی تیاریاں مکمل کر رہی تھی۔ نکاح خواں کی آواز پر علمی دوسروں کو دھکیلتا ہوا نکاح نامہ پر دستخط کرنے کے لیے آگے بڑھا۔ لیکن کر نہیں سکا۔تیز بم دھماکے نے انسانی جانوں کے پرخچے اڑادئے۔ درجنوں افراد موقع پر ہی ہلاک ہو ایک خودکش حملہ آور نے شادی ہال میں عین اس مقام پر جہاں مرد بیٹھے ہوئے تھے دھماکہ کیا۔ اس دھماکے سے عمارت کی چھت مکمل طور پر تار تار ہو گئی اور دوبئی شادی ہال کے سامنے والی عمارت کے شیشوں کو بھی چکناچور کردیا۔گئے تھےایک بہت ہی طاقتور دھماکے کی آواز نے پوری عمارت کو ہلا دیااس دھماکے کی آواز اور اسکے ارتعاش کو میلوں دور محسوس کیا گیا اور جب دھواں چھٹا تو تباہی کی نوعیت سمجھ میں آئی۔وہ دوست احباب جن کا علمی نے کچھ ہی گھنٹے پرمسرت مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کیا تھا اب جلی ہوئی ہڈیوں اور گوشت کے لوتھڑوں میں تبدیل ہو چکے تھے۔اس دھماکے کی شدت سے علمی بیہوش ہو گئے جبکہ ان کی دلہن اور دیگر رشتے دار سخت صدمے میں تھے۔ہوش میں آنے کے کچھ گھنٹوں بعد علمی گھر پر تھے۔ کچھ دیر بعد انھیں معلوم ہوا کہ ان کے دوست اور رشتے دار مرنے والوں کی گنتی کرنے میں مصروف ہیں۔علمی نے اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’لوگ آ رہے تھے اور مجھے بتا رہے تھے کہ میرا کزن مر گیا ہے، دوست مر گیا ہے۔ دوست دیگر دوستوں کا ذکر کر رہے تھے جو مارے گئے۔ میرے بھائی کے سات دوست ہلاک ہوئے۔‘علمی نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے کے بعد ان کی زندگی کیسے تبدیل ہو گئی ہے۔’میں نے اپنے کزن اور میری بیوی نے اپنے چھوٹے بھائی کو کھو دیا۔ اس کا سر دھماکے میں پھٹ گیا تھا۔ ہم اس کے جسم کو سر کے بغیر ہی دفنا سکے۔‘دھماکے کے ایک دن بعد ہی اس کے سسر نے اسے بتایا کہ افغان میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے خاندان کے 14 افراد ہلاک ہوئے۔علمی کہتے ہیں کہ ’میرے بہت خواب تھے، امیدیں اور توقعات تھیں۔ کچھ بھی پورا نہیں ہوا۔ میں غم اور تکلیف کی حالت میں ہوں۔‘

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ حملہ کیا ہے۔

جنگ سے تباہ حال افغانستان میں دھماکے کا خوف بہت شدید تھا۔ اس کے نتیجے میں ملک میں ان تقریبات کو بھی منسوخ کر دیا گیا جو افغانستان کے خارجی معاملات میں برطانیہ کی مداخلت کے خاتمے کے معاہدے کے سو سال مکمل ہونے کے سلسلے میں منعقد کی جا رہی تھیں۔علمی نے اپنی شادی کے لیے ایک اور مذہبی رہنما کی مدد لی۔ کیونکہ نکاح کی رسم دھماکے کی وجہ سے نہیں ہو سکی تھی۔ اس کے پانچ دن بعد خاموشی سے بغیر کسی دھوم دھام کے ان کی شادی ہوئی۔’ایسا ہے جیسے روز مر رہے ہوں

اب تقریباً ایک ماہ بعد بھی زخم ہرے ہیں۔ ’میں اور میرے والد اور بھائی گھر میں رات کو پہرہ دیتے ہیں ہمیں لگتا ہے کہ کوئی بھی ہم پر حملہ کر سکتا ہے۔‘

وہ جن لوگوں کو بطور دوست اور ہمسائے کے جانتے تھے وہ اب ان پر بے رحمی سے تنقید کرتے ہیں۔علمی کہتے ہیں کہ ’جب بھی ہم باہر جاتے ہیں تو لوگ ہم پر الزام دھرتے ہیں اور ہمیں گالیاں دیتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہمیں مارا جا رہا ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ تعزیتی تقریب کے موقع پر بھی انھیں بہت شدید غصے کا سامنا کرنا پڑا۔وہ کہتے ہیں کہ ’ایک شخص نے مجھے کہا کہ دھماکے میں ہم نے بیٹا کھویا۔ تم دونوں کیسے زندہ ہو۔‘علمی کہتے ہیں کہ دھماکے کے تین دن بعد تک وہ نہ کچھ کھا سکتے تھے نہ پی سکتے تھے۔ حتٰی کہ اب بھی وہ صدمے اور تکلیف میں ہیں۔علمی کہتے ہیں کہ میں نے انھیں کہا کہ ’یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اگر مجھے علم ہوتا کہ دھماکہ ہونا ہے تو میں پوری تقریب ہی ملتوی کر دیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ہم محتاج ہیں۔ جو خدا پر یقین رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ ان کی تقدیر میں تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ میری بیوی اب بہت کم گھر سے نکلتی ہے۔’جب بھی ہم روشنی کرتے ہیں اسے گھبراہٹ ہوتی ہے۔ وہ خوفزدہ ہو جاتی ہے۔‘اس نے ہم سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ان کی شادی دنیا کے بہت سے حصوں میں ہونے والی ارینج میرج کی طرح ہی تھی۔علمی کی والدہ اور دلہن کی والدہ آپس میں دور کی رشتہ دار ہیں اور یہ اور یہ رشتہ انھیں دونوں نے طے کیا۔علمی کا تعلق شیعہ ہزارہ کمیونٹی سے ہے۔

سنی مسلمان شدت پسندوں نے جن میں طالبان اور دولت اسلامیہ بھی شامل ہیں، پاکستان اور افغانستان میں شیعہ اقلیتوں کو کئی بار نشانہ بنایا ہے۔

ابھی حکام نے انھیں تحقیقات کے بارے میں مطلع نہیں کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمیں کیوں نشانہ بنایا گیا۔ ’ہماری شادی میں مہمانوں میں کوئی ایک بھی مقامی افسر، تاجر یا سیاست دان نہیں تھا۔‘

اس حملے میں مختلف نسلی گروہوں کے لوگ ہلاک ہوئے۔

حکومتی پالیسی کے تحت ہلاک شدگان کے ورثا کو معاوضہ ملا تھا۔ علمی کہتے ہیں کہ پارلیمان کے ایک رکن ہمارے گھر آئے اور انھوں نے پانچ لاکھ افغانی دیے۔

وہ کہتے ہیں کہ جو رشتے دار حملے میں ہلاک ہوئے ان سے میری بہت اچھی یادیں وابستہ تھیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اب ہم ان کے لیے سینکڑوں بار بھی اجتماعات کریں تو وہ تو لوٹ کر نہیں آئیں گے سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔

جب علمی نے ان تصاویر کو دیکھا جو ان کی شادی کے موقع پر دھماکے سے پہلے لی گئی تھیں تو انھوں نے انھیں پھاڑ کر پھینکنا چاہا۔

’تصاویر دیکھنے کے بعد مجھے زیادہ رنج ہوا۔ میں پوری رات سو نہیں سکا۔ میں رویا میں اور کر بھی کیا سکتا تھا؟‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میرا اپنے لیے کچھ بھی منصوبہ نہیں ہے۔ میں ہر چیز سے اکتا چکا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی ہماری مدد کرے اس ملک کو چھوڑنے میں۔‘

مگر وہ جانتے ہیں کہ وہ طویل عرصے تک نہ گھر بیٹھ سکتے ہیں اور نہ ہی انتظار کر سکتے ہیں۔ ان کے والد کابل میونسپیلٹی میں نوکری کرتے ہیں۔

علمی کو ابھی ایک لاکھ دس ہزار افغانی کی رقم واپس کرنی ہے جو انھوں نے اپنی شادی کے لیے بطور قرض لی تھی۔

منفی جذبات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے علمی نے سوچا کہ وہ اپنی درزی کی دکان دوبارہ کھول لیں لیکن اس کا نتیجہ بھی توقعات کے برعکس رہا۔

ایک گاہک نے اپنے سلنے کے لیے دیے ہوئے کپڑے واپس لے لیے۔ ایک اور گاہک نے کہا کہ دھماکے سے بہت سے لوگ مر گئے مگر یہ ابھی بھی زندہ ہے اس دکان کو بند ہو جانا چاہیے۔

وہ ایسا عداوت پر مبنی رویے کا سامنا نہیں کر سکتے تھے اس لیے انھوں نے دکان بند کر دی۔

ان کی بیوی ریحانہ جو دسویں جماعت میں پڑھ رہی تھی اب پڑھائی کی جانب واپس جانے میں ہچکچا رہی ہیں۔

وہ میرواعظ علمی سے کہتی ہیں کہ میں کیسے سکول جا سکتی ہوں۔

’مجھے حملے میں بچ جانے کا افسوس ہے‘

علمی کہتے ہیں کہ اسے اپنی تعلیم نہیں چھوڑنی چاہیے لیکن جب وہ واپس گئی تو اس نے کلاس روم میں تلخ ماحول دیکھا۔

کسی نے اسے بتایا کہ ’اب جبکہ تم یہاں ہو، ایک خودکش حملہ آور آ رہا ہوگا۔‘ ان الفاظ نے ریحانہ کو توڑ ڈالا اور اب وہ سکول چھوڑ چکی ہیں۔

افسوس

’میری زندگی میں کوئی خوشی نہیں ہے۔ میں ایک مختلف انسان بن چکا ہوں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ انھیں اپنے زندہ بچ جانے پر افسوس ہے۔’میں اور میری بیوی ہم دونوں سوچتے ہیں کہ بہتر ہوتا کہ ہم مرجاتے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram