اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

وائس چانسلر نے چانسلر پر یونیورسٹی کیمپس میں داخلہ پر لگائی پابندی

نئی دہلی: مولاناآزاد اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اسلم پرویز نے چانسلر فیروزبخت احمد پر ہی کیمپس میں داخلہ پر پابندی لگادی ہے۔ اردو میں کتنی رسہ کشی ہے ، اس کا اندازہ اہل اردو کو بخوبی ہوگا۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے، یعنی ایک ذمہ دار شخص نے ہی دوسرے ذمہ دار شخص کو یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہونے پر پابندی لگادی ہے۔ یہ عجب سی بات ہے کہ چانسلر پر وائس چانسلر کی پابندی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ ڈاکٹر اسلم پرویز جو کہ مولاناآزاد یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں نے فیروز بخت احمد پر جو کہ اسی یونیورسٹی کے چانسلر ہیں پر حیدرآباد میں واقع یونیورسٹی جو کہ مولاناآزاد یونیورسٹی کے نام سے مشہور ہے، میں داخلہ وی سی نے اپنی اجازت پر مشروط کردیا ہے۔ چانسلر فیروز بخت احمد نے اس سلسلے میں وائس چانسلر ڈاکٹر اسلم پرویز کو ایک تفصیلی خط لکھتے ہوئے ان کے اقدام کو غیرآئینی بتایا ہے اور یونیورسٹی کے وزیٹر صدر جمہوریہ، وزیراعظم ، ایچ آرڈی مرکزی وزیر، یوجی سی اور مولاناآزاد یونیورسٹی کے رجسٹرار کو وہ تفصیلی خط ایک مزید کورنگ لیٹر کے ساتھ بھیج دیا ہے۔ اردو یونیورسٹی میں یہ اپنی نوعیت کا شاید پہلا واقعہ ہے۔ اس سلسلے میں چانسلر فیروز بخت احمد نے کہا کہ ضابطہ میں چانسلر کو یونیورسٹی میں پہنچنے کے لیے وائس چانسلرسے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ جبکہ وائس چانسلر ڈاکٹر اسلم پرویز نے کہا کہ ضابطہ میں چانسلر سال میں دوبار آسکتا ہے، تاکہ یونیورسٹی کا اپنا فنڈ متاثر نہ ہو۔اس کے علاوہ اسی یونیورسٹی کے سابق چانسلر ظفرسریش والا نے کہا کہ ، اردو یونیورسٹی میں تین سالہ قیادت کے دوران وی سی کے ساتھ میرا تلخ تجربہ رہا ہے۔ اسی معاملہ پر ایڈوکیٹ اطیب صدیقی نے کہا کہ وی سی کے ذریعہ چانسلر پر حکم چلانا آمرانہ ہے، اس پر سرکار کو ایکشن لینا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram