منٹو کہتے تھے کہ میں چلتا پھرتا بمبئی ہوں: فیصل فاروق

ممبئی: منٹو کا ممبئی سے بہت گہرا تعلق ہے۔ مجھے اِس بات کی بے حد خوشی ہے کہ فلم ساز نندیتا داس نے ۷۰/سال بعد سعادت حسن منٹو کو ممبئی واپس لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ۹۴۸ ۱ء میں منٹو نے بمبئی کو خیرآباد کہا تھا۔۰۱۸ ۲ء میں فلم منٹو کے ذریعہ منٹو دوبارہ ممبئی آئے ہیں۔ اتنا وقت تو لگ جاتا ہے جب دو ملکوں کے عوام آپس میں ملنے کو تڑپ رہے ہوں اور اُن کی تڑپ سے لوگ جل رہے ہوں اور وہ اِس بات پر آمادہ ہوں کہ جو پیار و محبت سے ملنا چاہتے ہیں اُنہیں نہ ملنے دیا جائے۔ اِن خیالات کا اظہار بہ روز منگل۶ ۲/ستمبر کی شام پاکستان کے سینئر صحافی، ڈرامہ نگار اور فلم منٹو کے ریسرچ اسکالر سعید احمد نے ممبئی پریس کلب میں اردو جرنلسٹ اسوسی ایشن اور ممبئی پریس کلب کے اشتراک سے فلم منٹو سے متعلق منعقدہ تقریب میں کیا۔

سعید احمد کے مطابق چونکہ منٹو نے بہت برے حالات دیکھے تھے، وہ خود بدزبانی اور فحش کلامی کا شکار ہوئے تھے۔ باپ کی سخت گیری اور بھائیوں کے تغافل نے منٹو کے مزاج میں تلخی پیدا کر دی تھی۔ اِس لئے اُن کے افسانوں میں یہ تمام باتیں پائی جاتی ہیں۔ منٹو کی حق بیانی اور اُن کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے سعید احمد نے منٹو کے افسانوں کے کرداروں کو لافانی قرا ر دیا اور کہا کہ منٹو کردار کا بادشاہ تھا۔ اُنہیں کردار نگاری کے ہنر میں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ منٹو کے کرداروں نے آج کے حالات کو بھی اجاگر کیا ہے۔ سعادت حسن منٹو ایک بدزبان ادیب تھے کیوں کہ معاشرے کو لے کر اُن کے تجربات تلخ تھے اور وہی اُن کی تخلیقات میں بھی جھلکتا ہے۔

منٹو کے تعلق سے اُنہوں نے کہا کہ اردو کے مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو ایک ایسے ادیب تھے جنہوں نے ہمیشہ حق بیانی سے کام لیا اور معاشرے کو آئینہ دکھانے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ فحش نگاری اور بدکلامی کیلئے منٹو پر کئی مقدمات قائم کئے گئے اور اُن مقدمات کو لڑتے لڑتے وہ اِس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ سعید احمد نے بتایا کہ منٹو کا ممبئی سے بہت گہرا تعلق ہے۔ اِس کی واضح مثال ہے کہ ایک مرتبہ اُن کے افسانے ‘ٹھنڈا گوشث’ پر جب مقدمہ چلا تو پاکستان کی پولیس نے منٹو کے گھر پر چھاپہ مارا اور اُن سے دریافت کیا کہ تمہاری کتابیں کہاں ہیں تو اُنہوں نے بمبئی کا پتہ دے دیا۔ پولیس نے کہا کہ یہ تو ہندوستان کے شہربمبئی کا پتہ ہے جس پر اُنہوں نے کہا کہ میری کتابیں وہیں ہیں اِس لئے وہاں کا پتہ دیا ہے۔ منٹو کہتے تھے کہ مَیں چلتا پھرتابمبئی ہوں۔

بالی ووڈ فلم ساز اور اداکارہ نندیتا داس جنہوں نے صبر، شفقت اور کافی محنت و مشقت سے فلم منٹو تیار کی ہے گزشتہ ماہ دی ایشیٹک سوسائٹی میں متنوع سامعین سے خطاب کرتے ہوئے منٹو کا ایک جملہ دہرایا تھا کہ ہو سکتا ہے اگربمبئی پاکستان چلا جائے تو اُس کے پیچھے پیچھے مَیں بھی چل پڑوں۔منٹو نے شروعاتی دِنوں ممبئی کے بائیکلہ میں کام کیا اور پھر بہ حیثیت افسانہ نگار، مکالمہ نگار و منظر نویس منٹو جن فلم کمپنیوں ںسے وابستہ رہے اُن میں امپیریل فلم کمپنی، سروج موویٹون، فلمستان قابلِ ذکر ہیں۔ اِس کے علاوہ منٹو نے ہندوستانی سنیما کی پہلی خاتون دیویکا رانی کی بمبئی ٹاکیز کے ساتھ بطور اداکار فلم آٹھ دِن میں کام کیا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شہرِ بمبئی سے منٹو کو خاص محبت تھی۔ شاید اِسی لئے منٹو نے محسوس کیا تھا کہ یہ شہر سوال نہیں کرتا۔

سعید احمد نے بتایا کہ منٹو کا ممبئی کے جن علاقوں سے گہرا تعلق رہا ہے مثال کے طور پر عرب گلی اور کلئیرروڈ وغیرہ کا دورہ کرنے کے بعد ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جہاں سے منٹو کی کہانیاں ختم ہوتی ہیں اب وہاں سے نئی کہانیوں کو لکھنے کی ضرورت ہے۔ منٹو کے افسانوں کے بیشتر کردار ممبئی شہر کے ہی ہیں۔ اُن کا محمد بھائی کا کردار آج بھی زندہ ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ بمبئی میں منٹو نے اپنی زندگی انتہائی بے باکی کے ساتھ گزاری۔ منٹو کو نہ کسی کا ڈر تھا نہ خوف۔ وہ بمبئی کے افسانے لکھتے تھے۔ اُنہوں نے کئی سو افسانے لکھے مگر اِس کے باوجود اُنہیں وہ شہرت نہیں ملی جس کے وہ حقدار تھے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید احمد نے کہا کہ نندیتا داس کی ایک گھنٹے سولہ منٹ کی فلم میں منٹو کو جتنا سمیٹا جا سکتا تھا سمیٹا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ منٹو اگر بیالیس سال کی عمر میں انتقال نہیں کر جاتے تو وہ اور کارنامے کرتے۔ اُنہوں نے کہا کہ منٹو جو کچھ لکھ گئے ہیں اُس سے زیادہ فحاشی آج کے معاشرے میں دیکھنے اور سننے کو ملتی ہے۔

ایک جگہ شہربمبئی سے عشق کا اظہار کرتے ہوئے منٹو لکھتے ہیں کہ آج میرا دل اُداس ہے۔ ایک عجیب کیفیت چھائی ہوئی ہے، چار ساڑھے چار برس پہلے جب مَیںنے اپنے دوسرے وطن بمبئی کو چھوڑا تھا تو میرا دل اِسی طرح دُکھی تھا۔ مجھے وہ جگہ چھوڑنے کا صدمہ تھا جہاں مَیں نے اپنی زندگی کے بڑے مشقت بھرے دِن گزارے تھے۔ اُس زمین نے مجھ جیسے آوارہ اور خاندان کے دھتکارے ہوئے انسان کو اپنے دامن میں جگہ دی تھی۔ اُس نے مجھ سے کہا تھا، تم یہاں دو پیسے روزانہ پر بھی خوش رہ سکتے ہو اور دس ہزار روزانہ پر بھی۔ مَیں یہاں پاکستان میں موجود ہوں۔ یہاں سے کہیں اور چلا گیا تو وہاں بھی موجود رہوں گا۔ مَیں چلتا پھرتابمبئی ہوں۔ جہاں بھی قیام کرونگا وہیں میرا اپنا جہاں آباد ہو جائے گا۔

نظامت کے فرائض سینئرصحافی سرفراز آرزو اور رسم شکریہ پریس کلب کی سیکریٹری لتا مشرا نے ادا کئے۔مہمان سعید احمد کا گرمجوشی سے استقبال کرتے ہوئے دی انڈین ایکسپریس سے وابستہ انگریزی زبان کے قدآور صحافی اور ممبئی پریس کلب کے صدر گربیر سنگھ نے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات پر روشنی ڈالی۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو استوار کرنے اور فروغ دینے میں سرگرم کراچی اور ممبئی پریس کلب کی کاوشوں کی تفصیلات پیش کرنے کے علاوہ گربیر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ تین سے چار سال میں دونوں ملکوں کے ویزا دینے میں اور پیار و محبت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ایسے میں سعید احمد کا دورہ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات ہموار کرنے میں اہم رول ادا کر سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest