اپنی تہذیبی روایات سے عوام کو روشناس کرانے کا بہترین ذریعہ ہے تھیٹر آرٹ اور کلچر:منیش سسودیا

اردو ہمارے علمی ادبی اور ثقافتی ورثہ کی امین ہے :پروفیسر شہپر رسول
سری رام سینٹر منڈی ہاؤس میںاردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام ۳۰ ویں اردو ڈراما فیسٹول کا آغاز
ڈراما ’غالب ہمارا شاعر ‘سے لطف اندوز ہوئے ناظرین
نئی دہلی:ماضی کی ۲۹ سالہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام ۳۰ واں اردو ڈراما فیسٹول سری رام سینٹر صفدر ہاشمی مارگ ،منڈی ہاؤس ، نئی دہلی میں کل شام شروع ہوگیا ۔ اردو ادب کی چاشنی اور شائستگی سے بھر پور اپنی نوعیت کا یہ منفرد پروگرام ۲۹؍ نومبر ۲۰۱۸تک جاری رہے گا ۔ فیسٹول میں ،غالب ہمارا شاعر،سرائے کی مالکن ،جلیاں والا باغ ،ایک ٹکٹ رامپور اپھول بنیّ دیوالی کی وہ رات،دوسرا کمرہ اور موقع اچھا ہے جیسے موضوعات پر مشتمل ڈرامے پیش کیے جائیں گے۔افتتاحی تقریب میں منیش سسودیا نائب وزیر دہلی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور معروف قلمکار و ممبر ساہتیہ کلاپریشد دلیپ پانڈے مہمان مکرم کے طور پر شریک رہے ۔بعد ازاںراجیش تیواری کی ہدایت میں تھیٹر ریسرچ یونٹ فار اسٹیج ٹولس نے طالب رامپوری کا تحریر کردہ ڈرامہ ’’غالب ہمارا شاعر ‘‘ پیش کیا جس سے ناظرین خوب لطف اندوز ہوئے ۔۱۸۵۷کے غدر کی دستک ،دہشت ناک شور شرابے ،بہادر شاہ ظفر کا دربار اور استاد ذوق ،غالب کی شخصیت ،شاعری اوربادہ خواری کا احاطہ کرتا یہ ڈرامہ فنکاری کی بہترین مثال ہے۔ڈرامے کا کرادار واضح کرتا ہے کہ مرزا اسداللہ خاں غالب نے شاعری ہی نہیں بلکہ اپنے خطوط اور جادوئی شخصیت سے بھی لوگوں کو خوب متاثر کیا ہے ۔تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والے اس ڈرامے میں لوگ اس طرح منہمک رہے کہ پورا ہال خاموشی کی تصویر بنا رہا اختتام پر حاضرین نے تالیوں کی گڑ کراہٹ سے فنکاروں کا استقبال کیا ۔
اردو اکادمی دہلی کے وائس چیئر مین پروفیسر شہپر رسول نے خیر مقدمی کلمات پیش کرتے ہوئے کہاکہ اردو ہمارا تہذیبی ورثہ ہے جس سے امن و اتحاد ،پیار ،محبت اور قومی یکجہتی کی ایک طویل تاریخ وابستہ ہے ،اس کو باقی رکھنا اور آئندہ نسلوں تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ۔ غالب کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزلوں میں جو خیال آرائی اور ندرت ہمیں ان کے یہاں دیکھنے کو ملتی ہے کہیں اور نہیں ملتی۔ اس سے جہاں ان کے خیال کی بلندی ظاہر ہوتی ہے وہیں اسلوب شاعری میں بھی ان کا الگ ہی رنگ نظر آتا ہے ،ان کاشعر کہ ’’ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے‘‘،’’کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور‘‘یہ کہنے کے لیے مجبور کرتا ہے کہ غالب کل بھی غالب تھے اور آج بھی غالب ہیں ۔ انہوں نے اردو زبان کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ زبان لوگوں کے جذبات و احساسات کی ترجمانی اس انداز میں کرتی ہے کہ وہ اس کے گرویدہ ہوجاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے اردو اکادمی دہلی کے بینر تلے متنوع موضوعات پر پروگرام منعقد کییجاتے ہیں تاکہ زیادہ زیادہ سے افراد اس سے قریب کیے جاسکیں ۔انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت اردو کے فروغ کے لئے سنجیدہ ہے ہم شکر گزار ہیں نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا اور وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے ان کی کرم فرمائی ہمیشہ شامل حال رہتی ہے ۔ منیش سسودیانے کہا کہ تھیٹر ،آرٹ اور کلچر کے حوالے سے ہم اپنی اس تہذیب کو زندہ کرنا چاہتے ہیں جس میں امن، یکجہتی،انسانیت اور دردمندی شامل تھی ۔انہوں نے کہا کہ جب تک اردو زندہ ہے پیار محبت کو کوئی مار نہیں سکتا یہی وہ زبان ہے جس نے انسان کو گفتگو کا سلیقہ سکھایا اور انقلاب زندہ باد جیسا نعرہ دیا ،آج جس طرح کی فضا ملک میں پیدا کی جارہی ہے وہ ملک اور قوم کے لییتباہ کن ہے ۔ضرورت ہے کہ اس سوچ کو بدلا جائے ۔لٹریچر اور رنگ منچ کے ذریعہ معاشرے کے بگاڑ کو دور کیا جائے ۔اپنی تہذیبی ،علمی اور ثقافتی روایت سے عوام کو روشناس کرایا جائے ۔ اردو اکادمی دہلی کے سکریٹری ایس ایم علی نے کہا کہ ملک کی دیگرریاستوں کی اردو اکیڈمیوں کے بالمقابل اردو اکادمی دہلی اردو کی ترویج واشاعت میں نہایت فعال کردار ادا کر رہی ہے، کثیر تعداد میں ادبی کتابیں شائع کرنے کے علاوہ جہاں وہ صوبائی سطح پر اردو کے مراکز چلاتی ہے وہیں تسلسل کے ساتھ علمی ،ادبی اور ثقافتی پروگرام بھی منعقد کرتی ہے جس سے محبان اردو خوف فیضیاب ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک کی کوئی بھی اردو اکیڈمی اس طرح کے کلچرل پروگرام منعقد نہیں کرتی جس طرح کے پروگرام دہلی اردو اکادمی کرتی ہے، میں ہر دلعزیزرہنما نائب وزیر اعلی دہلی منیش سسودیا اور وزیر اعلی اروندکیجریوال کا شکریہ اداکرتا ہوں جن کی ہمت افزائی کی بدولت اس طرح کے معیاری پروگرام منعقد ہو پاتے ہیں ۔پرو گرام میں آج پیش کئے گئے ڈرامے کے تخلیق کار طالب رامپوری، گورنگ کونسل کے ممبر فرید الحق ، فرحان بیگ ،ادبا و شعراکے علاوہ ناظرین کی کثیر تعداد موجود رہی ۔پروگرام کی نظامت ریشما فاروقی نے کی جبکہ اس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اردو اکا دمی کے عملہ نے اہم کردار ادا کیا ۔
تصاویر:
۱۔ ڈراما فیسٹول کے افتتاحی پروگرام میں اکادمی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپر رسول نائب وزیر اعلیٰ جناب منیش سسودیا کا پھولوں سے استقبال کرتے ہوئے۔ ساتھ میں سکریٹری اکادمی ایس۔ ایم۔ علی، ڈراما نگار جناب طالب رامپوری اور ہدایت کار جناب راجیش تیواری۔
۲۔ سکریٹری اکادمی ایس۔ ایم علی جناب دلیپ پانڈے کا پھولوں سے استقبال کرتے ہوئے۔
۳۔ ڈراما ’’غالب ہمارا شاعر‘‘ کے اداکاروں اور مہمانوں کے ساتھ نائب وزیر اعلیٰ جناب منش سسودیا۔
۴۔ ڈراما ’’غالب ہمارا شاعر‘‘ کا ایک منظر۔
۵۔ ڈرامے کے ناظرین کا منظر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram