مہاراشٹر میں پل پل بدلتی سیاست  ۔ مظفر حسین غزالی

مرکزی وزیر نتن گڈگری نے کہا کہ کرکٹ اور سیاست میں کبھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ کوئی ہارتے ہارتے آخر میں جیت جاتا ہے، ان کی یہ بات بی جے پی کے سیاسی پس منظر پر صادق آتی ہے۔ منی پور، گوا، جموں وکشمیر، کرناٹک کے بعد اب مہاراشٹر میں اس کا مظاہرہ ہوا۔ رات کو طے ہو گیا تھا کہ مہاراشٹر میں شیو سینا، این سی پی اور کانگریس کی مدد سے حکومت بنائے گی۔ جس کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے ہوں گے۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت نے شیوسینا کی حکومت سازی کا راستہ صاف ہوتا دیکھ رات میں ہی بازی پلٹ دی۔ صبح کو سبھی اخباروں کے پہلے صفحہ پر شیوسینا کے حکومت بنانے کی خبر شائع ہوئی۔ لیکن دن نکلنے کے ساتھ ہی وہاں سیاسی بساط پلٹ چکی تھی۔ بی جے پی نے ثابت کر دیا کہ سیاست میں کبھی کچھ بھی ہو سکتا ہے اس نے این سی پی کے اجیت پورا کی حمایت سے حکومت بنا لی۔ صدر راج کب ختم ہوا اور دیوندر پھڑنویس کو حکومت سازی کا دعوت نامہ کب ملا اس کی کسی کو کانوکان خبر نہیں ہوئی۔ صبح کو آٹھ بجے پھڑ نویس وزیر اعلیٰ اور اجیت پوار کو نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف دلا دیا گیا۔

بی جے پی نے حکومت بنا کر سیاسی پنڈتوں کے سارے اندازے غلط ثابت کر دیئے۔ کہنا پڑے گا کہ بی جے پی کم از کم سیاسی ڈپلومیسی میں اپنے مخالفین پر بھاری ہے۔ وہ اپنی سیاست کھلم کھلا ڈنکے کی چوٹ پر کرتی ہے۔ اس کے نظریہ یا نیت پر کوئی اعتراض کر سکتا ہے، اس کے دور حکومت میں گرتی معیشت، سنگین بے روزگاری، مہنگائی، بگڑتے سماجی رشتوں، یکجہتی اور اس کے طریقہ کار پر سوال کیا جا سکتا ہے لیکن وہ اپنے تنظیمی نظام، سیاست، ڈپلومیسی اور چالاکی بھرے راج کوشل میں دوسری سیاسی جماعتوں سے آگے ہے۔ اسے کسی بھی قیمت پر کرسی چاہئے، اس کے نزدیک سبھی الفاظ کا ایک ہی مطلب ہے اقتدار۔ کبھی بی جے پی میں کردار، چہرے اور اخلاقیات کو اہمیت دی جاتی تھی اب سام، دام، دنڈ بھید اس کی پہچان بن چکی ہے۔ مہاراشٹر اس کی تازہمثال ہے۔
مہاراشٹر میں حکومت بنانے کے لئے پوار خاندان کے بے شمار گھوٹالوں کو نظر انداز کردیا گیا۔ الیکشن کے دوران اجیت پوار اور ان کی پارٹی این سی پی پر بی جے پی اور خود مودی جی کرپشن کے الزامات جڑ رہے تھے۔ اجیت پوار پر ای ڈی کی کارروائی بھی ہوئی تھی۔ لیکن بی جے پی کی حمایت کرتے ہی اجیت پوار اور ان کا خاندان بی جے پی کی گنگا میں ڈوبکی لگا کر پاک ہو گیا ۔ سینچائی گھوٹالہ کے آٹھ معاملوں میں انہیں کلین چٹ مل گئی۔ اے سی بی نے اپنی پریس ریلیز میں اجیت پوار کے خلاف کسی بھی ثبوت کے ملنے سے انکار کیا ہے۔ اجیت پوار کا نام ٹی ایم سی کے مکل رائے، ٹی ڈی پی کے راجیہ سبھا ممبر وائی ایس چودھری، جھارکھنڈ کے بھانو پرتاپ جیسے لوگوں کی فہرست میں جڑ گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ بی جے پی کے ڈیٹرجنٹ پاوڈر سے دھلنے کا اثر کتنے دن باقی رہتا ہے۔
سیاسی جوڑ توڑ اور خیمہ بدلنے کا کھیل مہاراشٹر میں پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ شرد پوار اس کھیل کے پرانے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے 1978 میں محض 38 سال کی عمر میں کانگریس سے بغاوت کرکے الگ گروپ بنا لیا تھا۔ اس کا نام پروگریسو ڈیموکریٹک فرنٹ رکھا اور جنتا پارٹی کے اشتراک سے مہاراشٹر میں سرکار بنائی تھی۔ جو 1980 میں کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد گر گئی۔ وہ کچھ وقت بعد پھر کانگریس میں شامل ہو گئے اور 1990 میں کانگریس کے وزیر اعلیٰ بنے۔ اس وقت اسمبلی میں کانگریس کی 141 سیٹیں تھیں۔ اس وقت انہوں نے اپنے دوست بال ٹھاکرے پارٹی کے سب سے مضبوط لیڈر چھگن بھج بل کو توڑا تھا۔ 1992 میں ممبئی کا سنگین فساد انہیں کے دور حکومت میں ہوا تھا۔ شردپوار نے کانگریس پارٹی کو اس وقت حیرت میں ڈال دیا تھا جب 1999 میں سونیا گاندھی کے غیر ملکی ہونے کے معاملہ پر پارٹی کو چھوڑ دیا تھا۔ اس بار پی اے سنگما اور طارق انور ان کے ساتھ تھے۔ تب انہوں نے نیشنل کانگریس پارٹی کی بنیاد ڈالی تھی۔ انہوں نے شیوسینا کے قدآور لیڈر گنیش نائیک کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ 2012 میں دھننجے منڈے کو این سی پی میں شامل کر گوپی ناتھ منڈے کو انہوں نے دھکا دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ 1995 میں جب بی جے پی شیوسینا کی حکومت بنی تو حکومت کی حمایت کرنے والے کئی آزاد ایم ایل اے شردپوار کے قریبی تھے۔ 2014 میں بلا شرط بی جے پی کی حمایت کا اعلان کر کے سب کو چونکا دیا تھا۔
اس لئے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ 41 سال پہلے شردپوار نے جو کانگریس کے ساتھ کیا آج وہی اجیت پوار نے ان کے ساتھ کیا ہے۔ تو کئی مہاراشٹر میں ہوئے سیاسی ڈرامہ کو پوار کی لیلا مان رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پورے کھیل میں پردے کے پیچھے شردپوار ہی ہیں۔ جبکہ شردپوار نے ادھو ٹھاکرے کے ساتھ مشترک پیریس کانفرنس اور اجیت پوار کی جگہ جینت پاٹل کو لیجسلیچر پارٹی کا لیڈر بنا کر اس کی تردید کی ہے۔ پارٹی لیڈر کو بدلے جانے کی گورنر کو بروقت اطلاع اور سپریم کورٹ میں نو منتخب حکومت کو چیلنج کرنے میں شیوسینا کا ساتھ دے کر مخالفین کی زبان بند کر دی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مہاراشٹر میں پچھلے بیس دن سے چل رہے سیاسی بحران میں شرد پوار ہی سکندر بن کر ابھرے ہیں۔ سب سے زیادہ فائدہ بھی انہیں کو ہوا ہے۔ جبکہ کانگریس اس پورے معاملہ میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی تھی۔ ہندو وادی شیوسینا کو حمایت دینے پر اس کی سیکولر شبہ داؤں پر لگی ہوئی تھی۔ بی جے پی، این سی پی نے شاید کانگریس کو اس شرم اور دھرم سنکٹ سے بچا لیا تھا۔ مگر اب شیوسینا، این سی پی کی سرکار میں کانگریس کی شمولیت کہیں اس کی تاریخی غلطی ثابت نہ ہو۔ دوسری ریاستوں میں اسے اس کی بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔
سرکار بنانے کے لئے 288 سیٹوں والی مہاراشٹر اسمبلی میں اکثریت کا آنکڑا 145 ہے۔ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو 105، شیوسینا کو 56، این سی پی کو 54 کانگریس کو 44 سیٹیں ملی ہیں۔ بی جے پی شیوسینا نے مل کر چناؤ لڑا تھا۔ دونوں کے پاس حکومت بنانے کے لئے اکثریت موجود تھی۔ لیکن یہ اتحاد ٹوٹ گیا اور بی جے پی کو سرکار بنانے کے لئے 40 سیٹوں کی ضرورت ہو گئی۔ اجیت پوار این سی پی لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر منتخب ہوئے تھے وہپ جاری کرنے کا اختیار بھی ان کے پاس تھا۔ اسی کو دیکھتے ہوئے بی جے پی اجیت پوار کی حمایت سے حکومت بنائی تھی۔ مانا جا رہا تھا کہ اجیت پوار کے پاس این سی پی کے 35 ایم ایل اے ہیں۔ جبکہ دل بدل قانون سے بچنے کے لئے انہیں 36 ایم ایل اے کی ضرورت تھی۔ سیاست میں اخلاقی اقدار کی گراوٹ اور بی جے پی کے مشن لوٹس کو دیکھتے ہوئے بی جے پی کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنا آسان لگ رہا تھا۔ مگر شردپوار کے اجیت پوار پر دباؤ اور سپریم کورٹ کی مداخلت نے بی جے پی کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔ سوال یہ ہے کہ شیوسینا کی حکومت بننے کے بعد کیا مہاراشٹر کے سیاسی بحران کا خاتمہ ہوگا یا کچھ نئے مسائل کا آغاز۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram