بی جے پی شیو سینا کا مہایدھ جاری ۔دونوں آمنے سامنے

مہاراشٹرا میں نئی ​​حکومت میں وزیر اعلی کے عہدے اور وزارتی محکموں کی شراکت کو لے کر بی جے پی اور شیوسینا سخت پریشانی میں ہیں ۔ مہاراشٹر کےاسمبلی الیکشن کے نتائج آنے کے بعد سے ہی بی جے پی اورشیو سینا کے درمیان حکومت بنانے کولے کررسہ شی جاری ہے۔ دونوں ہی پارٹیوں نے آج گورنربھگت سنگھ کوشیاری سےملاقات کی ۔ اس ملاقات سے قبل شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نےماتوشری میں اراکین اسمبلی کے ساتھ میٹنگ کی۔ میٹنگ میں اراکین اسمبلی نے ادھوٹھاکرے سے وزیراعلیٰ عہدے کےاپنےمطالبے پرقائم رہنے کو کہا ہے،شیوسینا کی طرف سے مستقل بیان بازی بھی جاری ہے۔ اب پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور ایڈیٹر برائے مخاطب سامنا سنجے راوت نے کہا کہ بی جے پی سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود حکومت بنانے میں ناکام ہے۔ یہ واضح ہے کہ وہ اکثریت حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ اگلے دو دن میں مہاراشٹر میں ایک حکومت بنائی جائے۔ اس سے قبل بی جے پی قائدین نے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کی۔پریس کانفرنس میں شیوسینا کی میٹنگ کی تفصیلات دیتے ہوئے راوت نے کہا ، “پارٹی کا کوئی کردار نہیں بدلا ہے۔ تمام اراکین اسمبلی نے متفقہ طور پر ادھو ٹھاکرے کے فیصلے کو حتمی فیصلہ قرار دیا۔ مہاراشٹر کے عوام کی خواہش ہے کہ ریاست میں جلد ہی ایک حکومت بنائی جائے۔ اگر بی جے پی یہ کہتی ہے کہ یہاں اس کی حکومت ہوگی تو وہ حکومت بنانے کا دعوی کیوں نہیں کرتی ہے؟ وہ گورنر سے خالی ہاتھ کیوں لوٹے ہیں؟ سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود ، اگر بی جے پی حکومت نہیں بنا رہی ہے ، تو یہ واضح ہے کہ اسے اکثریت نہیں مل رہی ہے۔۔مہاراشٹر کی اسمبلی کی میعاد ہفتہ ، نو نومبر کو ختم ہوگی۔گر اس دن تک کوئی بھی پارٹی حکومت نہیں بناسکتی ہے تو پھر گورنر ریاست میں صدر راج کے لئے سفارش کرسکتے ہیں۔


   	

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram