مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کے پروقار ایوارڈز کا اعلان

 

 

 

 

 

 

 

 

مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کے پروقار ایوارڈز کا اعلان
مختلف زمروں میں بائیس ایوارڈ
مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی نے اپنے با وقار ایوارڈ کا اعلان کردیا ہے۔ اکیڈمی کے ایوارڈ میں بین الاقومی ایوارڈ ، قومی ایوارڈ اور صوبائی ایوارڈ شامل ہیں ۔ راجا رام موہن رائے کے نام سے بین الاقوامی ایوارڈ ممتاز ادیب و ناقد پروفیسر گوپی چند نارنگ کو دیاجائے گا ۔ واضح رہے کہ راجا رام موہن رائے نام سے مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی نے دوہزار تین میں پہلی مرتبہ ایوارڈ دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا اور پہلا ایوارڈ ممتاز ادیب و محقق رشید حسن خان کو دیا گیا تھا ۔ مگر اس کے بعد جب صوبہ میں اقتدار کی منتقلی ہوئی تو راجا رام موہن رائے ایوارڈ کو بند کردیا گیا ۔ اب اس ایوارڈ کو دوبارہ سولہ سال بعد شرو ع کیا گیا ہے اور جیوری نے اس کیلئے ممتاز ادیب وناقد پروفیسر گوپی چند نارنگ کے نام کا انتخاب کیا ہے۔ راجا رام موہن رائے کے نام سے بین الاقوامی ایوارڈ میں پروفیسر گوپی چند نارگ کو ایوارڈ کے طورپر ڈھائی لاکھ روپے اور توصیفی سند پیش کی جائے گی ۔
مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے قومی ایوارڈ کا بھی اعلان کیا ہے ۔ قومی ایوارڈ میں شین قاف نظام کو تخلیقی ادب کے لئے میر تقی میر ایوارڈ، اردو صحافت کے لئے حیدر آباد کے زاہد علی خان کو حکیم قمر الحسن خان ایوارڈ، تخلیقی ادب کے لئے گلزار دہلوی کوحامد سعید خاں ایوارڈ، اجلال مجید کو تخلیق ادب کے لئے شاداں اندوری ایوارڈ، اردوماہانہ شگوفہ حیدر آباد کوجوہر قریشی ایوارڈ، اردو ڈرامہ کے لئے سعید عالم کوابراہیم یوسف ایوراڈ کا اعلان کیا گیا ہے۔ قومی ایوارڈ پانے والے اشخاص کو اکاون ہزار روپے اور توصیفی سند پیش کی جائے گی ۔
مدھیہ پردیش اردواکادمی نے اپنے صوبائی ایوارڈ کا بھی اعلان کیا ہے۔ صوبائی ایوارڈ میں ڈاکٹر شفیع ہدایت قریشی کوتخلیقی ادب کے لئے نواب صدیق حسن خاں ایوارڈ، عارف علی عارف کو سراج میر خاں سحر ایوارڈ، پرویز عادل نگینہ بجنور کوباسط بھوپالی ایوارڈ، سلمان مجاز کوروائی کو محمد علی تاج ایوارڈ، یوسف منصوری کوشعری بھوپالی ایوارڈ، رشدی جمیل کو اردو تدریس کے لئے کیف بھوپالی ایوارڈ، غیر مسلم اردو زبان و ادب کی خدمت کے لئے راج کمار کیسوانی کو شمبھو دیال سخن ، ڈاکٹر عشرت ناہید کو جاں نثار اختر ایوارڈ، قاسم رسا گوالیار کو پنا لال سریواستو ایوارڈ، ڈاکٹر عنبر عابد کو سورج کلا سہائے سرور ایوارڈ، صبیحہ صدف کو شاہجہاں بیگم تاجور ایوارڈ، نثار راہی کو ندافاضلی ایوارڈ، ڈاکٹر مینا نقوی کو پروفیسر آفاق احمد ایوارڈ، شعور آشنا برہانپور کوپروفیسر عبد القوی دسنوی ایوارڈ، حسن فتحپوری کو پروفیسر حامد حسن ایوارڈ اور انیتا سنگھوی کو پروفیسر شفیقہ فرحت ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کے چیئرمین ڈاکٹر عزیز قریشی کا کہنا ہے کہ ان ادیبوں کو پروقار تقریب میں ایوارڈ دیئے جائیں ، لیکن ملک میں کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر ایوارڈ تقسیم پروگرام کا انعقاد ممکن نہیں ہے ۔ یہ ایوارڈس ان کے پتے پر بھیج دیئے جائیں گے ۔ ڈاکٹر عزیز قریشی کہتے ہیں کہ ان کی خواہش کہ مدھیہ پردیش میں اردو زبان کا فروغ ہو، اردو کے شاعروں و ادیبوں کو ان کاحق ملے اور اردو کے نئے قاری پیدا کئے جائیں اور اس کیلئے وہ صوبہ کے سبھی اضلاع میں اردو کلاسز شروع کرنے کا منصوبہ تیار کر رہے ہیں ۔ کورونا وائر س کے خاتمہ کے بعد اس منصوبے پر عمل کیا جائے گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *