مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدارتی تاج کیلئے گھماسان شباب پر

پارلیمانی الیکشن میں کانگریس پارٹی کی شرم ناک ہار کے بعد “محاسبہ”کرنے کا دور جاری ہے،چھنڈواڑہ کے عوام کو مبارکباد دینی چاہیے کہ انہوں نے “باپ”ــ”بیٹوں ” کی لاج رکھتے ہوئے دونوں کو دھلی اور بھوپال بھیج کر کانگریس پارٹی کی لاج رکھ لی،ورنہ بادشاہ گر عوام جہاں تاج پوشی کرنے کی طاقت رکھتی ہے وہیں خاک میں ملانے میں وقت نہیں لگاتی ہے،اور اسی کانام جمہوریت ہے،شرم ناک شکست کیلئے پارٹی کے قومی صدر جناب راہول گاندھی نے جہاں کمل ناتھ کو قصوروارمانا ہے وہیں یہ بات بھی چھن کر سامنے آرہی ہے کہ سرکار پر فوکس کرنے کی وجہ سے کمل ناتھ پارٹی کے تنظیمی امور پر توجہ نہیں دے پائے لہٰذا ایسی صورتحال میں صوبائی وزیراعلیٰ جناب کمل ناتھ پارٹی کے صدارتی تاج کی ذمے داری اپنے کسی پسندیدہ چہرے کو دنیا چاہیے ہیں چونکہ مدھیہ پردیش میں بھی بڑے سیاسی رہنمائوں میں اپنے وجودکو سیاسی افق پر قائم رکھنے کیلئے انا ّکی لڑائی کئی سالوں سے بدستور جاری ہے اور علاقائی طورپر کانگریس کے کچھ قدآوررہنما اپنے علاقوں میں نہ صرف بہت مضبوط ہیں بلکہ کچھ علاقوں میں ان کا اپناسیاسی دبدبہ بھی قائم ہے،ان میں دگوجے سنگھ جیوتی رادتیہ سندھیا،اجے سنگھ راہل بھیا،ارون یادو اورکانتی لال بھوریہ شامل ہیں،اور ان لیڈران کے اردگردہی کانگریس کی سیاست گھومتی رہتی ہے،صدارتی تاج کیلئے صوبائی وزیراعلیٰ کمل ناتھ کی پسندبالا بچن ہیں تو جیوتی رادتیہ سندھیا اپنے پسندیدہ گووندسنگھ راج پوت کی حمایت کرکے صدارتی تاج ان کو پہنانے کیلئے کوشاں ہیں حالاںکہ دونوں ہی رہنمائوں کے پاس فی الحال نہ صرف وزارتی ذمے داری ہے بلکہ کانگریس کے بڑے عہدوں پر بھی دونوں حضرات قابض ہیں لیکن اپنے سیاسی آقائوں کے اشارے پر جناب بالابچن اور گووند سنگھ راجپورت اپنے موجودہ عہدے کی قربانی دینے کو تیار ہیں،مذکورہ ناموں کے ساتھ پوشیدہ طورپر اندورکے رہنما اور صوبائی کانگریس کمیٹی کے کارگذار صدر جناب جیتوپٹواری اور صوبائی وزیر سجن سنگھ ورماکا نام بھی سیاسی گلیاروں میں اچھا لا جارہا ہے ،جیتوپٹواری راہل گا ند ھی کی فہرست میں شامل بتائے جاتے ہیں ،ویسے سرکار اور تنظیم دونوں کو چلانے اور دونوں پہیوں کا توازن برقرار رکھنے کیلئے پارٹی صدر اور سرکارکے میکھا میں آپسی مفاہمت اور تال میل ضروری ہے لہٰذا سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ راہول گاندھی کمل ناتھ پر لاکھ غصہ بتائیں یا ان پر گرجیں ،برسیں لیکن صوبائی کانگریس کمیٹی کا تاج ان کی مرضی کے مطابق رہنما کو دینے میں ہی کانگریس کی بھلائی وہے ورنہ ٹانگ کھیچ نے سے سے سرکار پائیدار نہیں ہوسکتی ہے،اب یہ کانگریس کے قومی صدر راہل گاندھی پر منحصر ہے کہ پارٹی کی پالیسی کے مدنظر وہ صدارتی تاج کس کو پہناتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest