لندن اردو ادب کا گہوارا ہےاور لوگ اپنی روایت کے پاسدار

..ڈاکٹر وسیم راشد

الحمداللہ 3 ہفتے لندن اور یوروپ میں گزار کر وطن واپسی ہوئی ہے ۔ لندن میں کئی پروگرام تھے جس پر وگرام کے لئے میں گئی تھی وہ اردو اور فارسی کے بڑے اسکالر اور کئی کتابوں کے مصنف حیدر طباطبائی صاحب کی یاد میں تھا ۔حیدر طبا طبائی نے ایک مجاز اکادمی بنائی تھی جس کو ان کے انتقال کے بعد ان کی اہلیہ سدھا شرما نے سنبھالا ہے اور پہلا بڑا پروگرام ان کی ہی یاد میں رکھا جس میں یوروپ سے کئی اسکالرز اور ہندوستان سے میری حاضری ہوئی حیدر طباطبائی میرے اردو اخبار’چوتھی دنیا ‘کے لئے مستقل کالم لکھتے تھے جو لندن نامہ کے نام سے شائع ہوتا تھا تقریباً 6 سال وہ متواترلکھتے رہے اور علالت کے دوران بھی ان کے کالم پابندی سے آتے رہتے تھے۔
لندن کے دل یعنی سینٹرل لندن میں نہروسنیٹر میں یہ پروگرام رکھا گیا تھا ۔وسیع ہال میں بے حد خوبصورت اسٹیج اور ہال کے ساتھ گاندھی جی کے قدم آدم تصویر لگی ہوئی تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ لندن میں اتنے محبان اردو جانے کہاں سے آگئے ہیں کہ شعراء اور غزل سنگرز کے علاوہ سامعین کی تعداد بھی کافی تھی۔ پورا ہال بھرا ہوا تھا۔ اس پروگرام کے لئے محترم اقبال حیدر فرینکفرٹ جرمنی سے تشریف لائے تھے۔ اقبال بھائی ہیومن ویلفیئر آرگنائز یشن جرمنی کے صدر ہیں۔
آج اس کالم کو لکھنے کامقصد بھی یہی ہے کہ دیا ر غیرمیں اردو والوں کی لگن اور جنون آپ کو دکھاؤں  جو قابل ستائش ہے۔ مشاعرے میں ہندوستان سے ہجرت کر کے جا نے والوںمیں بڑا نام محترم عقیل دانش اور راغب دہلوی کا تھا اقبال حیدر کی صدارت تھی ا ور میں ناچیز مہمان خصوصی کی حیثیت سے شامل تھی۔شعرا کا کلام اوران کے تلفظ سے یہ احساس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ یہ لوگ 40،50 سال سے یہاں رہ رہے ہیں لندن اردو ادب کا مرکز بھی ہے۔ اور وہاں اسکول آف اورینٹل اسٹڈیز میں اردو پڑھائی بھی جاتی ہے باقی وہاں مدرسے اور مساجد میں بھی اردو کی تدریس کا انتظام ہے۔ ہال میں موجودلوگ ظاہر ہے سبھی اشیائی تھے۔ خواتین خوبصورت ساڑی اور شلوار سوٹ میں ملبوس تھیں نفاست سے کیا ہوا میک اپ لیکن سادگی کے ساتھ ۔وہاں جب بھی کوئی اردو ادب کے تعلق سے بڑا پروگرام ہوتا ہے وہاں کے لوگ کوشش کر تے ہیں کہ اپنے روایتی لباس زیب تن کر یں ان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ ہم سے زیادہ تہذیب و تمدن کے پاسدار ہیں۔
(یہ سلسلہ جا ری رہے گا ابھی آپ سے بہت سے باتیں کر نی ہیں۔)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram