جو چاہتے ہو اسے حاصل کرو۔آبیناز جان علی موریشس

 

 

 

جو چاہتے ہو اسے حاصل کرو

بچپن میں والدین ہمیں آگے بڑھانے کے لئے کیا کیا نہیں کرتے تھے۔ اچھے اسکول میں ہمارا داخلہ کرایا جاتا تھا۔ نیک خاندان اور نیک اخلاق سے نسبت رکھنے والے بچوں کی صحبت کی طرف ہمیں راغب کرایا جاتا۔ بہترین اشیائے خوردونوش فراہم کی جاتیں جس کی بدولت ہماری صحت بحال رہتی۔ ہمارے والدین ہمیں نئی چیزوں کے تجربے کے لئے حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔ بالغ ہو نے کے بعد ہماری ضروریات کو پورا کرنے والاکوئی نہیں ہے۔
مشکل حالات سے پرہیز کرنے میں راحت ملتی ہے اور اکثر بہت سے لوگ یہی راستہ اپناتے ہیں۔ لیکن بالغ ہونے کا مطلب نہیں کہ زندگی میں آرام ہی آرام ہونا چاہئے۔ انسان کا ذاتی مشن ہے کہ وہ نرم و ملائم چھائوں سے ہٹ کر اپنے خوابوں کو شرمندئہ تعبیر کرے۔ مزیدتعلیم حاصل کرے،ز ندگی میں آگے بڑھے اور ترقی پائے۔ اپنی خواہشات کو نظر انداز کرنے سے اور جدوجہد سے کنارہ کشی کرنے سے انسان ایک جگہ منجمد ہوجاتا ہے۔ جب تک سانس چلتی رہتی ہے وہ کچھ نہ کچھ حاصل کرنے کے لئے مچلتا رہتا ہے۔ وہ زیادہ بڑا اور زیادہ طاقتور بننا چاہتا ہے۔ اب ان خواہشات کو دبایا جائے یا ان کو عملی جامہ پہنایا جائے، اسی فیصلے کے تحت ہماری زندگی کو آگے جانے کاراستہ ملتا ہے یا ہم ایک ہی جگہ پھنس جاتے ہیں۔
خواہشات اور آرزوئیں بدعا ئیں نہیں ہوتیں۔ آپ کو اپنی موجودہ صورتِ حال اور اپنی خواہشات کے درمیان ہمیشہ تنائو محسوس ہوگا۔ زندگی کے مسائل کا سامنا عمر بھر رہتا ہے ۔ درحقیقت انسان اس کی جستجو میں رہتا ہے کیونکہ اسی سے اس کے خون میں حرارت اور گرمی پیدا ہوتی ہے۔ انسان کی بنیادی ضرورت روٹی، کپڑا اور مکان ہے۔ اس کے بعد رشتہ داروں، دوستوں اور ایسے لوگوں کی اسے ضرورت ہوتی ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے۔ جب یہ تمام چیزیں حاصل ہوجائیں انسان کسی اور تلاش میں منہمک ہونے لگتا ہے۔ ایسی چیزیں جو ذہنی طور پر اسے چیلنج کریں۔ وہ زندگی کو بہتر سمجھنے کی آرزو کرتا ہے۔ یا پھر وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوںکو بروئے کار لانے کے لئے اور ذہنی تسکین حاصل کرنے کے لئے ترستا ہے۔ ہمارا سماج بنیادی ضرورتوںکو تو پورا کرتا ہے لیکن باقی ضروریات کی تشنگی بھی ضرور محسوس ہوتی ہے۔
جب ہماری بنیادی ضرورتیں پوری نہیں ہوتی ہیں تو ہمارا جسم ہمیں اشارے کرتا ہے۔ ناشتہ کئے بغیر مسلسل کام کرتے رہنے سے دوپہر تک سردرد اور پیٹ کا درد شروع ہوجاتا ہے۔ جب پانی پینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو پیاس لگتی ہے۔ ٹھنڈک کی وجہ سے جسم کانپنے لگتا ہے۔ اکیلے ہونا اور اداس ہونا بھی نفسیاتی اشارے ہیں۔ کبھی کبھی سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے۔ لیکن ان کو دور کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی رد عمل ضروری ہے۔ زندگی میں ایک مقام سے آگے نہ بڑھ پانا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ہم رات اور دن کے معمولات میں الجھ گئے ہیں اور کسی نئی منزل تک پہنچنے میں ناکام ہوئے ہیں۔ اس اثنا میں جن جذبات سے ہم دوچار ہوتے ہیں زندگی کو آگے لے جانے کے اشارہ ہیں تاکہ دنیا حسین تربن جائے۔
اسی طرح جب ہم غلط راستہ اختیار کرتے ہیں اور کوئی بھی چیز ہمیں خوش نہیں کرپاتی یہ بھی ذہن کا ایک اشارہ ہی ہے۔ آپ خود کو دنیا سے دور محسوس کریں گے۔ زندگی کی چیزیں آپ کو لطف نہیں دے پائیں گی۔ آپ کی کوئی ضرورت ہے جو پوری نہیں ہو رہی ہے اور ذہن آپ کو متنبہ کررہا ہے کہ ’دھیان دو! تمہیں اس صورتِ حال کو بدلنا ہے۔ جذبات و محسوسات کو نظر انداز کرنے سے حالات میں تبدیلی نہیں آتی۔
اپنی زندگی کا دیانت داری سے جائزہ لیں اور معلوم کریں کہ آپ کن چیزوں سے پرہیز کر رہے ہیں اور کیوں۔ اگر آپ جواب سے مطمئن نہیں ہیں تو کچھ کر دکھانے کا وقت آگیا ہے۔ جمود میں رہنا زندگی کا نصب العین نہیں بلکہ آپ کو اپنی زندگی میں کچھ انوکھی چیز پیدا کرنی ہے۔ نئے چیلنج کو گلے لگانے سے کیا معلوم زندگی کس راستے پر لے جا سکتی ہے۔ نیا کام انجام دینے سے بھلے ہی کامیابی نہ ملے، آپ اپنی شخصیت کے ان نئے پہلوئوں کا انکشاف کرتے ہیں جو زیادہ بہادر اور طاقتور ہیں۔ آپ اپنی حقیقی شخصیت سے روشناس ہوتے ہیں۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ اگر چاہیں تو اپنی زندگی کو آگے بڑھاسکتے ہیں یا اسی طرح پوری زندگی گزار سکتے ہیں۔ زندگی کو نیا رخ دینے کا اہم اصول: وہ کام انجام دینا ہے جس کو کرنے کے لئے آپ کا من نہیں کرتا۔ ہمارا ذہن اور ہمارے جذبات عمل کرتے وقت ہمیں طرح طرح کے غلط خیالات میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ آگے نہ بڑھنے کے لئے وہ طرح طرح کا جال بچھاتا ہے۔
ہمیں کو معلوم ہے کہ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارا ذہن دوسری غیر ضروری چیزوں میں ہمیں مصروف رکھتا ہے جیسے انٹرنیٹ پر وقت گزارنا، زیادہ ٹی وی دیکھنا، سونا، غیر ضروری خریداری کرنا۔۔۔غرض ایسی چیزوں پر کام کرنا جو فی الحال اہمیت کے حامل نہیں۔ اگر آپ کو لگے کہ معنی خیز کام سے ہٹ کر آپ کچھ نہیں کر رہے ہیں تو یہ خواب غفلت سے بیدار ہونے کا وقت ہے۔
دراصل ذہن ہمارا تحفظ کرتاہے۔ نئی چیزوں کے لئے تکلیفوں کا سامنا کرناضروری ہے۔ ذہن ہمیں سمجھانے کی لاتعداد کوشش کرتا ہے کہ چیزیں جیسی ہیں انہیں ویسے ہی رہنے دو۔ جب معمولات میں تغیررونما ہوتے ہیںتو ذہن بغاوت کرتا ہے۔ اسے نئی چیزیں پسند نہیں۔ نئی چیزیں بنانے میں زیادہ محنت لگتی ہے۔ اسی لئے جب کوئی نیا کام کرنے کو جی تیار نہیں تب بھی آگے بڑھتے رہیں۔
تھکان دراصل ایک جال ہے۔ آپ تھکے نہیں ہیں۔ آپ کو بس تھکان محسوس ہوتی ہے۔ کوشش کرنے سے تھکان کو دور کرسکتے ہیں۔ آپ میں اس تھکان سے زیادہ طاقت باقی ہے۔ انسان ہمیشہ صحیح وقت کا انتظار کرتا رہتا ہے۔ زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں۔ آگے بڑھتے جائیں۔ کیا معلوم اگر ہمت کی جائے تو راستہ کہاں تک لے جاسکتا ہے۔ خوف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آپ اپنی میٹنگ میں جائیں، فون اٹھا کر وہ ضروری کال کریں یا کسی سے کوئی مدد مانگنی ہو تو آگے بڑھیں۔ انٹرنیٹ پر وقت ضائع کرتے ہوئے اور آنے والے کام کے بارے میں سوچتے رہنے سے ہم آگے نہیں جاپائیں گے۔
ضرورت کے حساب سے دوسروں سے مددمانگیں یا انہیں اپنی سوچ سے آگاہ کریں تاکہ وہ آپ کی حوصلہ افزائی کریں۔ بعض اوقات انسان بہت کچھ کرنا چاہتا ہے لیکن طے نہیں کرپاتا کہ وہ کون سا کام کرے۔ ایسی صورت میں دونوں کام کرنے میں کوئی عذر نہیں۔ خود کو دائرے میں باندھ کے رکھنا ضروری نہیں۔ ایک وقت میں ایک ہی مقصد کے لئے کوشش کرنا ضروری نہیں۔ آپ ایسے ذرائع تلاش کریںجو آپ کو زندگی میں سب کچھ حاصل کرنے میں مدد کرے۔ چھوٹے چھوٹے اعمال سے آپ اپنے تمام کام پورے کرسکتے ہیں۔ بس یہ خیال رکھیں کہ آپ کی کوشش جاری وساری رہے۔ اگر آپ نے پانچ منٹ کے لئے ورزش کی۔ اچھی بات ہے اور معنی بھی رکھتا ہے کہ آپ اپنا وزن کم کرنے کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔ اگر آپ صرف ایک فون کرسکتے ہیں تو یہی سہی۔ اپنے کام کو چھوٹے چھوٹے حصّوں میں تقسیم کریں تاکہ آپ آگے بڑھ سکیں۔
جب ہم زندگی پر مثبت نظریہ رکھتے ہیں تو خود کو طاقتور محسوس کرتے ہیں اور بہت سارے خیالات پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ تمام خیالات کامیاب نہیں ہوتے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کو مسترد کیا جائے گا۔ ایسے میںمایوسی کا سامنا ضرور کریں گے اور پھر سے غنودگی چھاجائے گی۔ جب آپ کے کسی خیال کو رد کیا گیا ہو، چند گھنٹوں میں ہمدردی تلاش کرنا اور ماتم مناناضروری ہے۔ اس کے بعد ہمت جٹا کر آگے جانے کا نیا نقشہ بنائیں۔
اگر ذہن پر زیادہ دبائو پڑرہا ہے، اس کا مطلب کئی ساری چیزیں ذہن میں گردش کر رہی ہیں۔ جس سے دماغ سن پڑ جاتا ہے۔ ان تمام خیالات کو کاغذات پر اتاریں۔ جن کاموں کو بعد میں پورا کیا جا سکتا ہے ان کو کانٹیں اور صرف ایک چیز کا انتخاب کریں اور بس وہی واحد کام انجام دیں۔ آپ کا من ہلکا ہوجائے گا اور آپ پھر سے طاقتور ہوجائیں گے۔
اگر آپ پھر بھی اپنا حوصلہ نہیں بڑھا پارہے ہیں، تو اس کام کو کسی اور کے حوالے کیجئے۔ اگر صبح بستر سے اٹھنا مشکل پڑ رہا ہے، یا باہر دوڑنے یا اپنے بزنس کا منصوبہ بنانا مشکل لگ رہا ہے، یا اپنے لئے مناسب رشتہ تلاش کرنے میں ہمت نہیں ہو رہی ہے تو کسی اور کو اس مہم پر لگا دیجئے۔ اس طرح آپ کے پاس کام نہ کرنے کا کوئی بہانہ نہیں بچے گا۔ دوسروں کو اس کام کی ذمہ داری دینے سے وہ کام مکمل ہوجائے گا۔
بعض لوگوں کو آگے جانے کا راستہ نظر نہیں آتا۔ انہیں ایسے لوگ نہیں ملتے جن سے وہ اپنے کام کے بارے میں بات کرسکیں۔ انہیں کوئی انوکھا خیال نہیں سوجھتا جس کے سہارے وہ آگے بڑھیں یا ان کے سامنے ایسا کوئی رہنما نہیں جس کی تقلید کی جاسکے۔ ایسے میں آپ ایک پیشہ وارانہ رہنما کی خدمت سے فیض اٹھا سکتے ہیں۔ یا آپ ایک بلاگ تلاش کریں جسے پڑھ کر آپ کسی ہم خیال انسان سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں یا اس کے کام سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کے خیالات پڑھنے سے آپ ضرور متاثر ہونگے۔ ایسے ویب سائیٹ تلاش کریں جو آپ کے کام کے لئے مشورے پیش کرسکیں اور آپ کے سامنے نئے مواقع رکھ سکیں۔ سوشل میڈیا پر بھی لاتعداد ماہرین ہیں جو اپنی ویڈیوز، تحریروں، ریڈیو پروگراموں اور بلاگ عوام تک پہنچاتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں الحمد للہ کسی چیز کی کمی نہیں۔ کسی بھی فن میں مہارت اور کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ آپ بس آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ بلند رکھیں۔

آبیناز جان علی

موریشس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *