قیادت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، لیڈر شپ کا آفاقی نمونہ

فیروز عالم ندوی
معاون اڈیٹر ماہنامہ پیام سدرہ، چنئی
ہم سب ایک اچھے قائد کی اہمیت و افادیت سے بخوبی واقف ہیں لیکن اچھا قائد بننے کے لیے جو پختہ صلاحیتیں اور نمایاں خصوصیتیں درکار ہوتی ہیں، ان سے ہم اکثر و بیشتر عاری ہوتے ہیں۔ ان صلاحیتوں اور خصوصیتوں کے فقدان کا احساس اس وقت اور زیادہ ہوتا ہے جب ہمیں قائدانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کبھی اس کردار کی ادائیگی کی تشویش سدّراہ بن جاتی ہے تو کبھی ایسا ہوتا ہے کہ روزمرّہ کے کاموں کی چھوٹی چھوٹی الجھنیں اس طرح آڑے آتی ہیں کہ کارکردگی کا مجموعی عکس غیر واضح، بے ہنگم اور غیر منظم نظر آنے لگتا ہے۔
لیڈر، باس اور قائد جیسی اصطلاحات اور ان اوصاف کی حامل شخصیات سے ہماراواسطہ شب و روز کا ہے۔ ان کی ایک تعلیم تو ہمیں مغرب سے ملتی ہے اور اس کا ایک نمونہ وہ ہے جو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی سے ملتا ہے۔ ایک طرف جہاں یہ حقیقت ہے کہ مغرب کے وضع کردہ اصول خود اسلامی تعلیمات سے اخذ کردہ ہیں، وہیں یہ بات بھی دیکھنے کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لیڈر شپ سے متعلق جیسی بے مثال اصول و ضوابط موجود ہیں ویسی کہیں بھی نہیں۔ لیڈرشپ اورمینجمنٹ کے کچھ اوصاف فطری ہوتے ہیں اورکچھ کوسیکھ کرانسان اپناسکتاہے ۔ یہ تمام اوصاف وکمالات ہمیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے اندرملتے ہیں۔ ذیل میں چند اوصاف ذکر کیے جاتے ہیں:
1 قیادت نام ہے دلوں کو فتح کرنے کا۔ قائد کا ایک بڑا وصف یہ ہے کہ وہ لیڈرشپ کے لیے افراد تیار کرتا ہے۔ اس کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفائے راشدین کادور عمدہ مثال ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ، فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ایسے بنایا اور تربیت کی کہ وہ خلیفہ اور گورنر کے عہدوں پر نہ صرف یہ کہ فائز ہوئے بلکہ ان عہدوں کے لیے رہتی دنیا تک کے لیے نمونہ چھوڑ گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد تو دین کو ختم ہو جانا چاہیے تھا، کیونکہ مسلمانوں کا لیڈر وفات پا گیا تھا لیکن وہ ختم نہیں ہوا، کیونکہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جیسا لیڈر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پیچھے چھوڑا تھا جنہوں نے پوری امت کو سنبھالا اور آگے لیڈرشپ کو تیار بھی کیا۔
2 ایک فرد کیسے عظیم ہوتا ہے؟ آدمی کے ذمے جو ذمہ داریاں عائد ہیں، ان کو اگر وہ بہتر طریقے سے نبھا رہا ہے تو وہ شخص عظیم ہے۔ صرف عہدے کا مل جانا عظمت نہیں ہے۔ چشمہ رسالت سے براہِ راست فیضیاب ہونے والے حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب رات کے وقت ایک عورت اور اس کے بچوں کے لیے کھانے کا سامان اپنے کندھوں پر رکھ کر لے جانا چاہتے ہیں تو غلام عرض کرتا ہے: ’’یا امیرالمومنین! میں حاضر ہوں۔ بوری میرے کندھوں پر رکھ دیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کیا قیامت کے دن میرا بوجھ تو اٹھائے گا؟‘‘ یہ ہے اپنی ذمہ داری کو نبھانا۔ احساس ذمہ داری کا یہ وہ شدید احساس تھا جسے تربیت نبوی نے ان کے اندر پیدا کر دیا تھا۔
3 کسی آدمی کو کوئی عہدہ مل جائے تو اس عہدے سے کوئی ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔ اختیارات کا ناجائز استعمال نہ کرے ، ایسا شخص بھی عظیم ہے۔ اس کی بڑی عمدہ مثال حضرت سلیمان علیہ السلام کی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ تعالی سے دعا کر رہے ہیں کہ اے اللہ! تو نے ہر چیز میرے تابع اور مسخر کر دی ہے، خود مجھے بھی تو اپنے تابع اور مسخر کر دے۔ یہ ہے اختیارات کا جائز اور صحیح استعمال۔ اس وصف کی مثالیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے دور اور سیرت میں کثرت سے ملتی ہیں۔
4 لیڈر راستہ بھی دکھاتا ہے اور خود ساری قوم کے آگے بھی ہوتا ہے۔ اس کی مثال حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا غزوہ خندق میں خود موجود ہونا اور پیٹ مبارک پر دو پتھر باندھناہے ۔ لیڈرشپ کا یہ وصف بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت میں اعلی ترین درجے کا پایا جاتا ہے۔
5 لیڈر کی پہچان اور علامت اس کے اخلاقی اقدار اور با اصول زندگی سے ہوتی ہے۔ لوگ اس کے تقوی اور دیانت کو مانتے ہیں ۔ یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ آیا یہ لیڈر کیسا ہے؟ اس کو جاننے کے لیے ایک طریقہ تو یہ ہے کہ کوئی بات آپ معاشرے کے سامنے رکھیں۔ اس بات کو ماننے والے اور لینے والے کون افراد ہیں۔ ان کو دیکھا جائے۔ چوروں کا لیڈر اور سردار کیا کوئی نیک اور صالح شخص ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اسی طرح نیک معاشرے کا لیڈر کوئی بد نہیں ہو سکتا۔ اس کی مثال حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کو لے لیں۔ اُس وقت یہ بھی “مین آف ویلیو” تھے۔
6 باس اور لیڈر میں بڑا فرق ہے، مثلا: کسی کام کے لیے باس کہتا ہے :’’جاؤ!‘‘ جب کہ لیڈر کہتا ہے: ’’آ ؤ چلیں۔‘‘ باس کہتا ہے :’’کام کرو‘‘، جبکہ لیڈر کہتا ہے: ’’آئیے! کام کرتے ہیں۔‘‘ اگر آپ کو کام کروانا ہے تو انداز ایسا اختیار کریں جس کے اندر اجتماعیت ہو۔ اس کی مثالیں آپ کی حیات طیبہ میں بہت ہیں، مثلاً: غزوہ خندق کے موقع پر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مل کر کام کیا۔ اسی طرح صلح حدیبیہ کے موقع پر حضوراکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے خود پہلے قربانی کی، اس کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم کو کرنے میں کوئی تردد نہ رہا۔
7 لیڈر بننے کے لیے کسی پوزیشن کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ بہت سارے افراد پوزیشن کے ہوتے ہوئے بھی لیڈر نہیں ہوتے اور بہت سارے افراد پوزیشن کے نہ ہوتے ہوئے بھی لیڈر ہوتے ہیں۔ مثلا: ایک شعبہ ہے اس کا ایک منیجر ہے اور اس کے نیچے 10 افراد ہیں۔وہ جو 10 افراد ہیں اُن میں ایک فرد ایسا ہے جس کا رویہ، جس کے اخلاق و اوصاف اتنے اعلی اور عمدہ ہیں کہ وہ 9 افراد اس کو اپنا رہنما تسلیم کرتے ہیں۔ اپنی مشکلات اس سے شیئر کرتے ہیں۔ جس شخص سے آپ مشورہ کر سکتے ہیں اور اپنی مشکلات اس کے سامنے بیان کر سکتے ہیں۔ اصل میں تو وہی لیڈر ہوتا ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اخلاق اتنے اعلیٰ تھے کہ جو کوئی بھی آپ سے قریب ہوا وہ آپ کا ہی ہو کر رہ گیا۔
8 لیڈرشپ اورمینجمنٹ ڈرائننگ روم میں بیٹھ کر فیصلے کرنے کا نام نہیں ہے۔ لیڈرکے لیے ضروری ہے کہ وہ عملی میدان میں آئے اور وہاں فیصلہ کرے ۔ جو لیڈر فیصلہ کر رہا ہے اس کو کم از کم ان عوامل اور اس کام کی مشکلات کا علم ہونا چاہیے۔ چاہے وہ آفس میں بیٹھ کر ہی کرے۔ بہت سارے ممالک میں وہاں کا بجٹ بنانے والے لوگوں کو عوام کے مسائل، اُن کی مشکلات اور ان کے اخراجات کا علم ہی نہیں ہوتا، بلکہ آفس میں بیٹھ کر وہ بجٹ بناتے ہیں، مثلاً:کسی ملک میں کم ازکم تنخواہ آٹھ ہزار مقرر ہے۔ ان کو یہ نہیں معلو م کہ ایک مڈل طبقے کے لوگوں کے اخراجات آٹھ ہزار میں پورے نہیں ہو سکتے۔ لیڈر کو اپنے معاشرے کا علم ہونا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ لوگوں کے درمیان بیٹھا کرتے تھے، ان کی باتیں سنا کرتے تھے اور بلواسطہ یا بلا واسطہ ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش فرمایا کرتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram