ملک میں یکساں سول کوڈ کی فی الحال ضرورت نہیں ہے:لا کمیشن

نئی دہلی:یکساں سول کوڈ (یو سی سی) ایک بہت ہی اہم اور عظیم موضوع ہے۔ اسے پورا تیار کرنے میں وقت درکار ہے۔ یو سی سی پر مشق جاری ہے۔ ملک کے 26% خطے میں پارلیمنٹ کا بنایا قانون نافذ نہیں ہوسکتا ہے، جس میں شمال مشرق قبائلی علاقوں اور جموں وکشمیر کا حصہ آتا ہے۔ اس لیے سبھی مذاہب کے لیے قانون اس اسٹیج پر ممکن نہیں ہے۔ ہم سبھی مذہب کے پرسنل لاء میں بدلائو چاہتے ہیں۔ الگ الگ مذاہب کے جو پرسنل لاء ہیں ان کی بے ضابطگیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ سبھی پرسنل لاء میں سدھار کی ضرورت ہے۔ ہم سبھی اسٹیک ہولڈر سے بحث چاہتے ہیں۔ یہ باتیں لاء کمیشن کے چیئرمین بی ایس چوہان نے کہیں۔
آپ کو بتادیں کہ اپنی مدت کار کے آج آخری دن لا کمیشن نے پرسنل لا پر ایک مشاورتی نوٹ جاری کیا ، جس میں ’بلاوجہ ‘ طلاق ، نا ن و نفقہ اور شادی کے لئے اجازت کی عمر میں غیر یقینی اور عدم مساوات جیسی نئی جہتوں پر بحث کی گئی ہے۔ مشاورتی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں یکساں سول کوڈ کی فی الحال ضرورت نہیں ہے۔جسٹس (ریٹائرڈ) بی ایس چوہان کی صدارت والے لا کمیشن نے یکساں سول کوڈ پر مکمل رپورٹ دینے کے بجائے مشاوتی نوٹ دینے کو ترجیح دی ہے کیوں کہ جامع رپورٹ پیش کرنے کے لحاظ سے اس کے پاس وقت کی کمی تھی۔مشاورتی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ یکساں سول کوڈ کا معاملہ کافی وسیع ہے اور اس کے ممکنہ مضمرات کا ابھی ہندوستان میں تجربہ نہیں کیا گیا ہے ۔اس لئے گذشتہ دو سال کے دوران کی گئی تفصیلی تحقیق اور تمام بحث و مباحثہ کے بعد کمیشن نے ہندوستان میں عائلی قوانین میں اصلاحات کے سلسلے میں یہ مشاورتی نوٹ پیش کیا ہے۔کمیشن نے تفصیلی بحث و مباحثہ کے بعد جاری مشاورتی نوٹ میں مختلف مذاہب، نظریات اور عقائد کے ماننے والوں کے پرسنل لا کو ضابطہ بند کرنے اوران پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔اس میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اورپارسی سمیت کئی مذاہب کے مطابق تسلیم شدہ پرسنل لا یا مذہبی قوانین کے مطابق شادی، اولاد، گود لینے،فسخ نکاح، وراثت اور جائیداد کی تقسیم کے قوانین جیسے امور پر اپنی رائے دی ہے۔ کمیشن نے کہا کہ اس مرحلے میں یکساں سول کوڈ کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ ہی مطلوب ہے۔ اس کے علاوہ کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ موجودہ پرسنل لا میں سدھار کی ضرورت ہے اور مذہبی رسوم و رواج اور بنیادی حقوق کے درمیان موافقت قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔جسٹس چوہان نے پہلے کہا تھا کہ یکساں سول کوڈ کی سفارش کرنے کے بجائے کمیشن پرسنل لا میں مرحلہ وار طریقے سے تبدیلی کی سفارش کرسکتا ہے۔ اب یہ بائیسویں لا کمیشن پر منحصر کرے گا کہ وہ اس متنازعہ معاملے پر حتمی رپورٹ پیش کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest