چراغ : نظم

 

 

 

 

 

 

اپنی خود مختاری کی خوشیاں منانے کے لئے
فخر سے سڑسٹھ چراغ اب تک جلائے جا چکے
بیشتر محروم رنگوں سے رہے اور رہ گئے
آج کل پرسوں کے جو خاکے بنائے جا چکے
تیرگی ہے آج بھی رقصاں بساطِ زیست پر
آنے والے کل کے بھی آثار کچھ اچھے نہیں
سَر اٹھائے پھر رہے ہیں آج بھی فِتنے کئی
جو ہیں رہبر اُن کے بھی کِردار کچھ اچّھے نہیں
المیہ اِس کو کہا جائے یا بیماری کوئی
ذہن و دِل کے کالوں کو اِس روشنی سے بیر ہے
اِن کے ہاؤ بھاؤ سے یہ بات ہوتی ہے عیاں
اِن کی نظروں میں تو جو اپنا ہے وہ بھی غیرہے
جانے کِتنی آنکھوں کے آنسو ابھی سوکھے نہیں
جانے کِتنے چہروں پر ہی چھائی ہے پژ مردگی
جانے کِتنے ہاتھوں میں ہیں داغ چھالوںکے ابھی
جانے کِتنے لوگ ہی سو جایا کرتے بھوکے ہی
زِندگی کی دھوپ میں حالات سے لڑتے ہُوئے
سائباں سے ہیں ابھی محروم کِتنے لوگ ہی

نیاز جَیراجپُوری
Neyaz Jairajpuri M.A.,LL.M.(Alig)
Editor SHANDAR Monthly
67, Jalandhari, Azamgarh – 276001 ( U.P.) INDIA
Mobile: 0091 9935751213 / 9616747576
Email: njairajpuri@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram