کرناٹک ضمنی انتخابات نتائج سے بی جے پی تشویش میں مبتلا

 

 

 

 

 

 

 

 

جاوید جمال الدین
لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی کی خالی نشستوں کے لیے حالیہ ضمنی انتخابات میں کرناٹک سے اور چند ماہ قبل شمالی ہندوستان سے بھی جو نتائج سامنے آئے ہیں ،وہ حزب اختلاف کے لیے حوصلہ بخش کہہ جاسکتے ہیں اوراگر صحیح حکمت عملی تیار کی جائے تو ان نتائج سے اپوزیشن اتحاد کو مزید تقویت مل سکتی ہے،حالانکہ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سپریمو کہی جانے والے مایاوتی پہلے ہی ’’مہاگٹھ بندھن‘‘ سے کنارہ کشی کرچکی ہیں۔آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ این چندرابانوٹائیڈوحزب اختلاف اتحاد کے لیے سرگرم نظرآرہے ہیں جبکہ کرناٹک ضمنی انتخابات نے ان کے حوصلہ بلند کیے ہیں۔کانگریس اورجنتادل سیکولراتحاد نے تین لوک سبھا نشتستوں میں سے دوحلقوں میں اور تین دوکی دواسمبلی نشستیں بی جے پی کے جبڑے سے چھین لی ہیں اور ان حلقوں میں جیت بھی سابقہ الیکشن کے مقابلہ میں زیادہ ووٹوں سے ہوئی ہے۔ان نتائج نے ان دونوں پارٹیوں کا ہی نہیں بلکہ اپوزیشن کا حوصلہ بڑھایا ہے۔
بی جے پی کی فرقہ وارانہ انتخابی مہم اور اعلیٰ لیڈرشپ کے بلند وبالا دعوئوں کے باوجودکانگریس ۔جنتادل (ایس)اتحاد نے بی جے پی سے بیلاری لوک سبھا سیٹ چھننے میں کامیابی حاصل کرلی جس پر بی جے پی تقریباً دودہائیوں سے قابض رہی تھی جبکہ منڈیا لوک سبھا نشست اور رام نگرام اور جماکھنڈی کی اسمبلی سیٹوں پر بھی کامیابی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیکولر ووٹوں کو اکٹھا کرنے میں دونوں پارٹیاں کامیاب ہوئی ہیں۔البتہ سابق وزیراعلیٰ بی ایس یدورپاکے صاحبزادے رگھویندرنے شیموگا سے 52ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی اور جے ڈی ایس کے مدھوبنگارپا کو شکست دی ہے ،حالانکہ اسی لوک سبھا حلقہ سے ان کے والد2014میں ساڑھے تین لاکھ ووٹوں سے کامیاب ہوئے تھے۔کانگریس صدرراہل گاندھی اور وزیراعلیٰ کمارسوامی نے اس کامیابی پر مسرت کا اظہار کیا ہے ،وہیں یدورپا دولت اور شراب کے استعمال سے حاصل کامیابی قراردے رہے ہیں جوکہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترداف ہے،لیکن اس شکست فاش کا انہیں احساس ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ بی جے پی کے لیے ایک وارننگ ہے اور وہ آئندہ لوک سبھا انتخابات کے لیے ابھی سے حکمت عملی تیار کرنے کے حق میں ہیں بلکہ انہوں نے اعلیٰ کمان کو نصیحت بھی کردی ہے کہ اگر 2019میں نریندرمودی کو دوبارہ وزارت عظمیٰ کی مسند پر بیٹھانا ہے تو ابھی سے میدان میں کودنا پڑے گا۔ورنہ ذات پات اور مذہب کے نعروں سے عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا ہے ۔واضح رہے کہ امسال مئی مہینے میں کرناٹک اسمبلی الیکشن میں بی جے پی ایوان میں اکثریتی نشستیں حاصل کرلی تھیں ،لیکن اسے اکثریت حاصل نہ ہوسکی اور 224اراکین پر مشتمل ایوان میں اکثریت ثابت کرنے سے پہلے یدورپا نے استعفیٰ دے دیا تھا۔اس موقع پر زائد نشستیں ہونے کے باوجودکانگریس نے قربانی دیتے ہوئے جنتادل ایس کو وزارت اعلیٰ کے عہدہ کی پیشکش کی اور اس طرح اتحادی سیاست کا ایک نیادورشروع ہوا اور کامیابی کے چھ مہینے مکمل ہوچکے ہیں ،جس کے پیش نظر ضمنی انتخابات کے نتائج حوصلہ افزا ہی کہے جاسکتے ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے اور خصوصی طورپر امت شاہ کے لیے یہ تشویش ناک امر ہے کہ ہندی خطہ میں واقع چھتیس گڑھ ،مدھیہ پردیش اور راجستھان جیسے اہم ریاستوں اور جنوب میں تلنگانہ اور شمال مشرق میں میزورم میں دسمبر کے دوران اسمبلی انتخابات ہیں بلکہ ان کی انتخابی مہم کا آغاز ہوچکا ہے ۔بی جے پی کو زیادہ خوش فہمی میں مبتلا رہنے کی ضرورت نہیں ہے ،کیونکہ بیلاری میں اس کے امیدوار سے کانگریس کا امیدوار دولاکھ 43ہزار ووٹوں سے کامیاب ہوا ہے جبکہ منڈیا میں یہ تناسب کافی زیادہ ہے اور جے ڈی ایس کے شیوارامگوڈا نے بی جے پی پی کے امیدوار سدھارمیا کو تین لاکھ 24ہزار 943ووٹوں سے شکست فاش دی ہے ۔جن حلقوں میں بی جے پی کو شکست کاسامنا کرنا پڑا ہے وہاں انہیں بُری شکست ملی ہے ،یہی وجہ ہے کہ سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا فرط مسرت سے مستقبل میں بھی کانگریس ۔جے ڈی ایس اتحاد کے حق میں بیان دے رہے ہیں۔اب آئندہ کی حکمت عملی ان دونوں پارٹیوں کو طے کرنا ہوگی اور قومی سطح پر ایک نئے محاذ کے لیے دیگر سیاسی پارٹیوںاور علاقائی پارٹیوں کے سربراہوں سے مل بیٹھنا ہوگا ،اس سلسلہ میں آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندرابابو نائیڈوکا ذکر پہلے کیا جاچکا ہے کہ جوکہ ملک بھر میں اہم لیڈروں سے ملاقاتیں کررہے ہیں اور حزب اختلاف کو ایک ساتھ لانے کی کوشش میں مصروف نظرآرہے ہیں۔ان نتائج کو وسیع تر ماحول میں دیکھنا ہوگا ۔حالانکہ مدھیہ پردیش ،راجستھان وغیرہ میں کانگریس اور بی ایس پی نے ایک اچھا موقعہ کھودیا ہے ،اگر دونوں خیموں میں نرمی دکھائی جاتی ہے تو اس کا نتائج پرگہرا اثر نظرآتا تھااور مثبت نتائج سامنے آتے جبکہ سیکولر ووٹوں کی تقسیم نہیں ہوتی تھی۔
اترپردیش کے بعد لوک سبھا کی سب سے زیادہ نشستوں والی ریاست مہاراشٹر ہے اور یہاں کانگریس اور این سی پی میں اتحاد ضرور قائم ہے ،لیکن ہر ایک اسمبلی اورلوک سبھا انتخابات کے دوران اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ کے مترادف دونوں نشستوں کی تقسیم پر دست وگریباں نظرآتے ہیں۔حال میں ان کی دوتین ملاقاتیں ہوئی ہیں ،تاکہ لوک سبھا کی نشستوں کی تقسیم پر اتفاق رائے پیدا کیا جاسکے ،لیکن دونوں کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔مہاراشٹر کی 48نشستوں پر بات چیت سے قبل دونوں بیان بازیوں سے ایک دوسرے پر دبائو ڈالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔کانگریس اور این سی پی کے درمیان پندرہ سال پرانا اتحاد ہے اور اس بار بھی یہ سلسلہ برقرارہیگا ،ایسا محسوس کیا جارہا ہے ،لیکن کسی فیصلہ سے پہلے دونوں دبائو کی حکمت عملی کے قائل ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرسکیں ۔
کانگریس اور این سی پی کے درمیان اتحاد برقرار ہے ،لیکن مساوی یعنی نصف نصف نشستوں دیئے جانے کے فارمولہ پر عمل کیا جانا ہے اور این سی پی اس مرتبہ چاہتی ہے کہ اسے آدھی نشست ملیں اورگزشتہ ہفتے نئی دہلی میں این سی پی رہنماء شردپوار نے کانگریس صدرراہل گاندھی سے ملاقات کے دورا ن بھی اس کا اظہار کیا ہے ،کانگریس کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ این سی پی کے محض چار ایم پی ہیں اور ان میں سے دوممبران پارٹی چھوڑنے کے لیے پرتول رہے ہیں۔اس کے علاوہ اتحاد میں شامل چھوٹی پارٹیوں کا بھی خیال رکھنا ہوگا ،اس لیے نصف ۔نصف کا فارمولہ موثر ثابت نہیں ہوسکے گا۔فی الحال دونوں گفتگو سے حل نکالنے کی کوشش کررہی ہیں ،پرکاش امبیڈکر کی بھریپ بہوجن مہاسنگھ (بی بی ایم ) سے اتحاد کی حامی ہیں،لیکن امبیڈکر نے پہلے کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کا دامن تھام لیا ہے اور ابتدائی اندازے سے انہیں ’مہاگٹھ بندھن‘ میں لانا ممکن نہیں ہے ،لیکن امکان ہے کہ بالآخر ایسا ممکن ہوجائے ،دونوں کانگریس اور این سی پی کو اتحاد میں شامل چھوٹی پارٹیوں راجو شیٹی کی سوابھی منی پرکش ،ہتیندر ٹھاکر کی بہوجن وکاس اگاڑی اور کسان ومزدورپارٹی (پی ڈبلیو پی ) کا بھی خیال رکھنا ہے ،امبیڈکر ہی آدھی نشتسوںکلا مطالبہ کرتے رہے جوکہ ممکن نہیں ہے۔اور اگر مہاراشٹر ،کرناٹک اور دیگر ریاستوںمیں کرناٹک کی طرز پر اتحاد قائم کیا گیا ،تو بی جے پی کو اقتدار سے روکنا ممکن نہیں ہے،لیکن سیاسی لیڈروں کو اپنے مفادات اور انا کو بالائے طاق رکھنا ہوگا۔
javedjamaluddin@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram