کوئی ہے،کوئی ہے”،یوسف خان کی آواز نقارخانہ میں طوطی کی آواز کی طرح گونج رہی ہے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جاویدجمال الدین
ممبئی کی فلمی صنعت ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی فلمی دنیا کے ایک مایۂ ناز فن کار چند سال سے شدید علیل ہیں اور ضیعف العمری کا شکار ،اس اداکارکا تعارف پیش کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے کیونکہ چالیس سے 90کے عشرے تک فلمی دنیا کے آسماں پر اپنی لاجواب اداکاری کے لیے جانے پہچانے والے ،دلیپ کمارہیں، جن کا اصلی نام یوسف خان ہے ،دلیپ کمار اور ان کی اداکارہ اہلیہ سائرہ بانو ممبئی جیسے عالمی درجہ کے شہر میں امتیازی سلوک کا شکار بن رہے ہیں ،اور زمین مافیا انہیں مبینہ طورپرتنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑرہا ہے ،اس سلسلہ میں محکمہ پولیس نے ایک شخص یعنی ایک نام نہاد ’وائٹ کالر‘بلڈرکے خلاف کچھ کارروائی کرتے ہوئے اسے کچھ عرصہ سلاخوں کے پیچھے بھی ڈال دیا ،لیکن پھر سے وہ بے شرمی سے سراٹھائے ممبئی کے متمول علاقہ باندرہ پالی ہل میں بلاخوف دندناتا ہواگھوم رہا ہے،جس کی شکایت سائرہ بانو نے پہلے مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس سے کی مگر کوئی نتیجہ نظرنہیں آنے پر بالآخر انہیں میدان میں عمل میں آنا پڑا اور راست وزیراعظم ہند شری نریندر مودی کو مدد کے لیے پکارا،جس کے بعد ،مہاراشٹرسرکارکے محکمہ داخلہ اور مقامی پولیس کے ذریعہ کچھ ہلچل نظرآئی ،لیکن نتیجہ صفرہی رہا اورپھر خاموشی طاری ہوگئی۔
دلیپ کمار اور ان کی اہلیہ سائرہ بانوکی فلمی خدمات کے ساتھ ساتھ معاشرہ کے مختلف شعبوں میں ،خصوصی طورپردلیپ صاحب کی خدمات کو یکسر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے ،پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرولال ،بہادر شاستری ،اندراگاندھی سے لیکر بی جے پی کے قدآوررہنماء اورسابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی سے ان کے نزدیکی تعلقات سے کون انکارکرسکتا ہے،لیکن زمینی حقیقت اور کچھ ہے ۔اس موقع پرمجھے 1984کی یش چوپڑہ کی مشہور زمانہ فلم ’مشعل ‘یاد آگئی ، جس میں دلیپ کمار کو ونودکمار نامی ایک بے باک اور نڈرصحافی کے طورپرپیش کیا گیا ہے جوکہ جنوبی ممبئی کے بیلارڈ پیئر جیسے تجارتی اور سنسان علاقہ میں رات کی تاریکی میں ایک غنڈہ نما سرمایہ دارکے ظلم کا شکاربن کربے گھر ہوجاتا ہے اور پھراس کی اہلیہ وحیدہ رحمن شدید علالت کے سبب سڑک پر ایڑیاں رگڑرہی ہوتی ہے اور وہ بے یارومددگار (دلیپ کمار)آنے جانے والی موٹرگاڑیوں کے پیچھے دوڑ دوڑکر لوگوں سے مددطلب کرتا نظرآتا ہے اور اس سنسان اور ویران علاقے میں اس کے منہ سے ’’کوئی ہے ،کوئی ہے ‘‘کی پکار بلند ہوتی رہتی ہے ،لیکن ممبئی جیسے خوابوں کے شہر اور مایا نگر ی میں کوئی اس بے کس ومجبور صحافی (دلیپ کمار )کی مددکے لیے آگے نہیں آتا ہے۔
ممبئی ایک کاسموپولیٹن شہرہے، جسے عروس البلاد بھی کہتے ہیں ،عام طورپراس شہر کے بارے میں یہی بات مشہور ہے کہ یہاں کسی کو کسی کی پروانہیں رہتی ہے اور اپنے پڑوسی یا آس پاس کے مکینوں کی خبر رکھنا تو چھوڑو،کسی بھٹکے راہ گیر کو پتہ بھی بتاناشہری گوارہ نہیں کرتے ہیں،حال میں نئی دہلی اورممبئی کے درمیان ٹرین میں سفر کے دوران ایک ہمسفر نے یہی الزام لگایا تو میں نے اسے ٹوک دیا کہ وہ ’ممبئیکرز‘(ممبئی کے شہریوں)پر بیجا الزام عائد کررہا ہے،لیکن جب شہنشاہ جذبات کی بے بس اہلیہ سائرہ بانو کی مدددکی پکار میرے کانوں تک پہنچی تو مجھے اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوئی،بلکہ مجھے فلم مشعل کا وہ دلیپ کمار یاد آگیا جوکہ اپنی علیل بیوی کے لیے چیخ چیخ کر مددطلب کررہا اورکوئی بھی اس کی مددکیلئے نہیں آتا ہے اور اس انسان کی آواز’کوئی ہے ،کوئی ،’’نقارخانے میں طوطی کی آواز۔۔‘‘کی طرح گونج کررہ جاتی ہے ،جسے کبھی کوئی نہیں سنتا ہے ۔صبح ہونے تک اس کے آنسوخشک ہوجاتے ہیں ،یہی حال 96سالہ عمر رسیدہ دلیپ صاحب ہے ،جوکہ ایک قومی سرمایہ سے کم نہیں ہیں اور شدید علیل ہونے کے ساتھ ساتھ یادداشت بھی کھوچکے ہیں۔
مشعل کا منظر بالکل ان کی حقیقی زندگی میں دوہرایا جارہا ہے۔جب ایک بے خوف بلڈران کی جائداد پر قابض ہونے کے لیے پرتول رہا ہے ،ان کی فرمانبردار شریک حیات نے دربدرکی ٹھوکر کھانے کے بعد پہلے مہاراشٹرکے وزیراعلیٰ اور پھر وزیراعظم مودی سے بھی فریاد کررہی ہے ،لیکن ڈھاک کے تین پات، ان کے ماتحت افسران پرکوئی اثر نہیں ہواہے ،یہ افسوس ناک حقیقت ہے کہ پردۂ سمیں پر ہی نہیں بلکہ عام زندگی میں انداز بیاں اور اپنی انسانی دوستی اور سماجی اصلاح کے کاموں کی وجہ سے دل جیت لینے والے شہنشاہ جذبات کا کوئی پرسان حال نہیں نظرآرہا ہے ،وہ بھی اُس وقت جب وہ اپنے بول کھوچکا ہے اور دماغ کام نہیں کررہا ہے آج انہیںفلم صنعت سے وابستہ افراد کی شدیدضرورت ہے جن کے درمیان دلیپ کمار نے ایک عرصہ گزارا ہے جوان کے اچھے بُرے وقت میں ہمیشہ شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے،اداکارسنجے دت کی گرفتاری کے بعدسنیل دت کے پس پشت جوشخصیت ثابت قدم کھڑی نظرآتی تھی ،وہ دلیپ صاحب کی شخصیت ہی تھی اوراس قدم کے لیے انہوں نے ملک کے غداری کا الزام بھی سنا ،لیکن ان کی پیشانی پر شکن تک نہیں آئی ،لیکن اپنے آخری دورمیں ان کے ساتھ جوناروا سلوک کیا جارہا ہے ،وہ ایک افسوس ناک امرہے ۔اور حقیقی زندگی میں ان کی مددکی پکار کوکوئی سننا نہیں چاہا رہا ہے۔مشعل نامی فلم کی کہانی ایک صحافی کی زندگی پر مبنی تھی ،جوحق کے لیے طاغوتی طاقتوں کے سامنے جھکنا پسند نہیں کرتا ہے اور حالات کا شکار بن کر سڑک پر آجاتا ہے ۔ اور اسکی علیل بیوی وحیدرہ رحمن سسکتے ہوئے دم توڑدیتی ہے ،یہی واقعہ اس کی زندگی کا رُخ بدل دیتا ہے اور چند سال میں وہ ممبئی کا ایک مافیاسرغنہ بن جاتا ہے ۔جو چن چن کر اپنی تباہی کے ذمہ داروںسے انتقام لینے کی کوشش کرتا ہے۔خیر اس کی نگرانی میں پرورش پانے والا ایک نوجوان ایک تحقیقاتی صحافی بن کر ابھرتا ہے اور اس کی مشعل کو ایک بار پھر تھام لیتا ہے ۔تاکہ سچائی کو دنیا والوں کے سامنے پیش کرسکے ۔ونودکمار بدلے کی آگ میں اپنے اصولوں اور آدرش کو بالائے طاق رکھ دیتا ہے،لیکن پالی باندرہ ممبئی کے دلیپ کمار اوران کے اہل خانہ نے صبر کا دامن تھام رکھا ہے ۔دلیپ کمار نے جو اصول اپنائے اور زندگی جی ہے ، یہی وجہ ہے کہ انہیں فلموں میں خدمات کے لیے فلم فیئر ایوارڈز کے ساتھ ساتھ حکومت ہند نے کئی شہری اعزازات سے نوازا ہے اور وہ پارلیمنٹ کے ممبربھی رہ چکے ہیں۔آخر طلسماتی شخصیت کے مالک دلیپ کمار کون ہیں،تو ان کی سوانح حیات پر نظرہی دوڑا لی جائے ۔
متحدہ ہندوستان کے شہر پشاور کے محلہ خداداد میں لالہ غلام سرور کے ہاں پیدا ہونے والے یوسف خان پہلے دہلی اور پھر اپنے اہل خانہ کے ساتھ غالباًممبئی ( جو ان دنوں بمبئی تھا) کاروبار کے سلسلے میں منتقل ہوگئے ۔ اداکاری سے قبل یوسف خان پھلوں کے سوداگر تھے اور انہوں نے پوناشہر کی ایک فوجی کینٹین میں پھلوں کی ایک سٹال لگا رکھی تھی۔ 1966ء میں انہوں نے اداکارہ سائرہ بانو کو اپنا شریک حیات بنالیا ۔
ممبئی میں 1940کے عشرہ میں اس زمانے کی معروف اداکارہ اور فلمساز دیوکا رانی کی جوہر شناس نگاہوں نے بیس سالہ یوسف خان میں چھپی اداکاری کی صلاحیت کو بھانپ لیا اور فلم ’جوار بھاٹا‘ میں دلیپ کمار کے نام سے ہیرو کے رول میں کاسٹ کیا۔ اس کے بعد سے اس شخص نے ہندوستانی فلمی صنعت پر ایک طویل عرصے تک راج کیا۔ اور آن۔ انداز۔ دیوداس۔ کرما۔ سوداگر جسی مشہور فلموں میں کام کیا۔سنگ دل، امر، اڑن کھٹولہ، آن، انداز، نیا دور، مدھومتی، یہودی اور مغل اعظم ایسی چند فلمیں ہیں جن میں کام کرنے کے دوران میں انہیں شہنشاہ جذبات کا خطاب دیا گیا،لیکن پھرانہوں نے طبّی مشورے کے بعد فلم کوہ نور، آزاد، گنگا جمنا اور رام اور شیام جیسی مزاحیہ فلموںمیں لوگوں کو ہنسنے ہنسا نے کاکام کیا اور یہ ثابت کیا کہ وہ اس فن کو بھی جانتے ہیں۔ دلیپ کمار کی اداکاری میں ایک ہمہ جہت فنکار دیکھا جاسکتا ہے جو کبھی جذباتی بن جاتا ہے تو کبھی سنجیدہ اور روتے روتے آپ کو ہنسانے کا گر بھی جانتا ہو۔فلم انہیں آج بھی بہترین اداکار مانتی ہے اور اس کا لوگ اعتراف بھی کرتے ہیں۔ دلیپ کمار اپنے دور کے فلم انڈسٹری کے ایسے اداکار تھے جن کے سٹائل کی نقل نوجوان کرتے تھے اور ان کی فلمی ہیروئینوں کے ساتھ ساتھ عام لڑکیاں بھی ان پر مرتی تھیں۔ ہیروئین مدھوبالبھی ان میں شامل رہیں۔ ان دونوں کے عشق کے چرچے رہے ۔
ان کی وجیہہ شخصیت کو دیکھ کر برطانوی اداکار ڈیوڈ لین نے انہیں فلم ’لارنس آف عریبیہ‘ میں ایک رول کی پیشکش کی، لیکن دلیپ کمار نے اسے ٹھکرا دیا،وطن عزیز میں انہیں جو محبت اورپیار ملا تھا،اسے وہ کھونا نہیں چاہتے تھے ،انہیں ہندوستانی فلمی دنیا کے سب سے بڑے ’اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ‘ہی نہیں بلکہ 2015میں ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہری اعزاز، پدم ویبھوشن سے بھی نوازا گیااورآنجہانی وزیراعظم مرارجی ڈیسائی کے بعد وہ دوسری ہندوستانی شخصیت ہیں ،جنہیں پڑوسی ملک پاکستان نے اپنے سب سے بڑے سیویلین اعزاز’ نشان پاکستان‘ سے نوازاتھا،وہ راجیہ سبھا کے نامزد ممبر بھی رہ چکے ہیں۔
دلیپ صاحب نے غالباً فلم قلعہ میں اداکاری کے جوہردکھانے کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیارکر لی اور پھردلیپ کمار صرف فلمی پارٹیوں کی زینت بنے رہے ،جہاں وہ اپنی بیوی سائرہ بانو کے ساتھ نظر آتے رہے ،اور پارٹی میں شریک ہرایک ا داکار ان کے پیر چھو کر دعائیں لینا نہیں بھولتا تھا،اب وہ قصہ پارینہ بن چکا ہے،البتہ چند سال قبل ان کی 90ویں سالگرہ پر ان کے بنگلہ پر منعقدکئے گئے سالگرہ کے جشن میں سارا بالی ووڈ امڈ پڑا تھا،لیکن آج دوردور تک کوئی ان کے حق میں بولنے سے کترا رہا ہے ۔میں دلیپ کمار کو درپیش مشکلات پر قلم اٹھانے پر اس لیے مجبور ہوا کہ وہ ایک دردمند دل کے مالک تھے ،جنگ وجدل ہویا قدرتی آفات ۔ممبئی کی سڑکوں پر مددکے لیے نکالے جانے والے فلمی ستاروںکے جلوس کو بھلا یا نہیں جاسکتا ہے،دلیپ صاحب پریشان حال ہندوستانیوں کی مدد کے لیے کمر کس لیتے اور آخری وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے تھے،میرے صحافتی دورکے آغازمیں 1990کی دہائی کے دوران انہوںنے ممبئی شہر میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے شکار افراد کی بڑھ چڑھ مددکی ،روزنامہ انقلاب کے ریلیف فنڈ کے قیام کے بعد مجھے اکثر ان کی دستخط لینے باندرہ کے پالی ہل بنگلہ پر جانے کا موقعہ ملا اور ان کی متاثرکن باتوں میں ملک اور ملت کے لیے ان کا دردچھلکتا تھا، جوکہ آج بھی میری یاداشت میں پیوست ہے ،کہتے ہیں وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے اور جلدیا بدیر انہںی اور خاندان کودرپیش مسئلہ کا حل نکل آئے گا اور ان کی آواز نقارخانہ میں طوطی کی آواز کی طرح نہیں گونجے گی۔

javedjamaluddin@gmail.com
9867647741

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest