کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے ۔آخر کشمیر یوں پر رحم  آہی گیا

جموں و کشمیر میں دفعہ370کی منسوخی کےبعد  جو پابندیاں لگائی گئی تھیں جنمیں انٹرنیٹ سروسز اور موبائل فون پر پابندی شامل تھی وہ آج یعنی بروز پیر ہٹالی گئی ہین  جبکہ انٹرنیٹ سروسز ابھی بحال نہین کی گئی ہیں۔ اس اعلان کے بعد وادی میں لوگوں نے  راحت کی سانس لی ہے ۔وادی میں کوئی ڈھائی مہینے سے لوگ قید و بند کی صعوبت جھیل رہے ہیں ۔اب اس کے بعد شاید طالب علم بھی اسکول کالج جاسکینگے اور ٹورسٹ بھی پھر سے اس جنت کا رخ کرینگے ۔گورنر ستیپال ملک کے مشیر فاروق خان نے کہا کہ موبائل فون پر پابندی کے باعث سیاحوں کی بڑی تعداد کشمیر آئے گی۔ امید ہے کہ ، جب لوگوں کی یہ سرگرمیاں معمول پر آجائنگی گی ، تو وہ یہ نہیں کہہ پائیں گے کہ انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں بنیاد پرستی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اگرچہ پاکستان نے اپنے مذموم عزائم کو حاصل کرنے کے لئے بہت ساری کوششیں کیں ، لیکن کشمیری نوجوان انہیں ناکام بنا چکے ہیں۔ اب پتہ نہیں کہ کشمیری احتجاج میں خاموش ہیں یا وہ اس کرفیو اور بہت سے مقامات پردفعہ ایک 144 اب بھی نافذ ہے ان  سب سے تھک چکے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram