پروفیسر ارتضیٰ کریم نے پھر سے جگائی ایک امید کی کرن

پریس ریلیز؍نئی دہلی
۲۷؍مئی؍۲۰۱۹
شعبۂ اردو ، دہلی یونی ورسٹی ہندوستان کا ایک ایساتاریخی شعبہ ہے جہاں سے اردو زبان کی سرکردہ شخصیات نے اپنے تعلیمی اور اکیڈمک کیرئیر کا آغاز کیا۔اس شعبے کے کچھ فارغ التحصیل طلباء آج ہندوستان کی بڑے تعلیمی اداروں کی سربراہی کر رہے ، کچھ یونی ورسٹیوں ، کالجوں اور اسکولوں میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں اور کچھ زندگی کے مختلف شعبہ ہائے جات سے منسلک ہیں ۔ پروفیسر خواجہ احمد فاروقی اس شعبے کے بانی بنے اور پہلے صدر شعبہ اردو بھی ۔ فاروقی صاحب کے وقت میں ہی ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈ ت جواہر لال نہرو نے شعبۂ اردو کا جائزہ لیا۔آج بھی یہ شعبہ مشہور اساتذہ کی سرپرستی میں اردو زبان کے فروغ میں ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ اس وقت شعبۂ اردو کے صدر معروف فکشن ناقد،منتظم اور قومی کونسل کے سابق ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم  ہیں جن کی فعال شخصیت کے باعث آج شعبہ مختلف سرگرمیوں میں آگے بڑھتا نظر آتا ہے۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اعلان کیا ہے کہ شعبۂ اردو کا معروف تحقیقی و تنقیدی مجلہ جس کی ادارت مختلف اوقات میں مختلف اساتذہ نے کی ہے،کی ازسرِ نو اشاعت ہوگی۔دراصل یہ مجلہ پچھلے کچھ برسوں سے مالی دشواریوں کے باعث شائع ہونے سے قاصر رہا ۔اس مجلے کے اب تک کئی خصوصی شمارے شائع ہوئے ہیں جس میں غالب نمبر(جلد اول)، غالب نمبر(جلد دوم)، میر سوز نمبر، قائمؔ نمبر، قدیم اردو نمبر،تحقیق و تنقید نمبر وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ اردو ئے معلی سریز کے تحت بھی شعبے نے اب تک کئی اہم کتابیں شائع کی ہیں۔ اردو ئے معلی کے ساتھ ساتھ شعبہ اردو نے ارتضیٰ کریم کی نگرانی میں ۲۰۰۸ میں شعبے میں اپنی خدمات انجام دے چکے ریٹائرڈ اساتذہ کے مونوگراف بھی شائع کیے ہیں جو طالب علموں اور اسکالرس کے لیے بہت مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔اردوئے معلی کی اشاعت پر دانشور حضرات اور علمی و ادبی طبقے نے صدر شعبہ کے اس اقدام کی سراہنا کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest