کنہیاکمار کیلئے بیگو سرائے کے عوام میں لاثانی جوش

 

 

 

 

 

.شیبااسلم فہمی
بیگوسرائے:جس دور میں ہندوستان کا مسلمان ہر سیاسی پارٹی سے تقریباً مایوس ہوچلاتھا،اسی دورمیں کنہیاکمار کے عروج نے مسلم ذہن کو اپنے جادو سے مسحور کردیاہے۔
دورسے دیکھ کر ،سوشل میڈیامیں یہ گمان ہوتاتھاکہ کنہیاکمار نوجوانوں کا ہیروبن کر ابھراہے۔لیکن آج بیگوسرائے کی مسلم بستیوں میں گھوم کر جائزہ لیاتو اندازہ ہواکہ کنہیاتو عمر رسیدہ لوگوں کی بھی آنکھوں کا تاراہے۔بیگو سرائے کے عوام میں کنہیاکمار کیلئے لاثانی جوش پایاجارہاہے۔
ہوایوں کہ کنہیاکے گاؤ ں بیہٹ سے ’گراؤنڈ زیرو‘ کا جائزہ لیتے ہوئے ہم نکلے تو خاص شاہراہ پر کارمیں کسی خرابی کی وجہ سے ایک آٹومیکنک کے پاس رکناپڑا۔ہماری ٹیم کو کنہیاپر باتیں کرتے دیکھ کر دکان کے بزرگ مالک بھی ہماری بات چیت میں شامل ہوگئے اور پھر سچائی سامنے آئی کہ وہ خود روزایک گھنٹہ کنہیاکے حق میں تقریر کرکے اور عوامی مہم چلاکر لوگوں کی ذہن سازی کررہے ہیں۔جب ہم ڈمری علاقے میں پہنچے تو دوپہر کا وقت تھا۔مرد حضرات کام پر نکل چکے تھے اور خواتین اپنے گھریلوکام کاج میں مصروف تھیں۔لہٰذاہم نے گھروں کے دروازے کھٹکھٹاکر خواتین سے گفتگو کا سلسلہ شروع کیا۔یہ غریب طبقے کے مسلمانوں کا علاقہ ہے اس وجہ سے عورتیں اکثر گھریلو اور سادہ زندگی گزار رہی ہیں۔ہم نے تقریباً 18-20گھروں پر دستک دی۔کہیں کہیں بڑی تعدا د میں لوگ جمع ہوگئے۔بڑاتعجب ہواجب سبھی نے کنہیاکے نام پر لبیک کہا۔ایک مولاناجیسے حلیہ والے کہتے ہیں کہ کنہیاایک گھریلو نام بن چکاہے۔یہاں تو خاندان کے خاندان کنہیاکو جتانے کا تہیہ کرچکے ہیں۔
ہاں ایک بات ضرور تشویش ناک ہے ۔خواتین میں انتخابی نشان کے سلسلے میں غلط فہمی پائی جارہی ہے۔انھیں یہ نہیں معلوم تھاکہ لالٹین کنہیا کا چناؤ نشان نہیں ہے۔ایک دونے کہا، ’ ابکی کنہیا ہی کو جتاناہے،لالٹین کا بٹن دبانا ہے۔لہٰذا کنہیاکمار کے پیروکاروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنا الیکشن سمبل بھی ساتھ رکھیں ورنہ بلا وجہ مغالطہ ہوگا۔
جب ہم نے راشٹریہ جنتادل کے امید وار تنویر حسن کا ذکر کیاتو سب نے ایک آواز میں کہاکہ اس بار کنہیا کمار کو موقع دینا چاہتے ہیں۔تنویر صاحب تو کئی برسوں سے زور آزمائی کررہے ہیں ۔
بیگو سرائے کے عوام مزاجاً سیکولر ہیں اور وہ فرقہ پرستی و تعصب سے کوسوں دور ہیں۔اس لئے ایک سیکولر ،جمہوریت پسند غیر مسلم لیڈر پاکر وہ بہت خوش ہیں۔اس کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے امید وار کنہیاکمارکی شبیہ اس دور کی مانگ کے عین مطابق ایک بے باک،قابل اور فرقہ پرستی کے چیلنجز کا سامناکرنے والے بیٹے بھائی کی ہے۔بزرگوں کو بھی اہم ایشوز پر ان کے بیانات حرف بہ حرف یاد ہیں۔
جائزے کے دوران یہ بھی پتہ چلاکہ جواہر لعل نہرویونیورسٹی کی ایک تعلیمی ادارے کے طورپر عوام میں بیحد قدرومنزلت ہے۔کنہیانے جے این یو میں ٹاپ کیا۔اس بات کابھی ذکر ایک ریٹائرڈ اردو ٹیچر کی زبان پر تھا۔علاقے کے لوگ خاطر تواضع میں بھی پیچھے نہیں۔کسی نے شربت پلایا،تو کسی نے چائے و کولڈ ڈرنک۔خواتین نے اس خواہش کا اظہارکیاکہ وہ کنہیا سے ملنا چاہتی ہیں۔
یہ تو بیگو سرائے کے عوام کی بات رہی ۔ویسے پورے ملک سے قائدین ،دانشور،سماجی کارکنان،صحافی بیگو سرائے پہنچ چکے ہیں اور کنہیاکمار کی حمایت میں انتخابی مہم چلارہے ہیں۔اس وقت پورے ملک میں کنہیاکمار آزادی،جمہوریت پسندی ،سیکولرازم کااستعارہ بن چکے ہیں۔ان کی دوٹوک باتیں لوگوں کو پسند آرہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بیگوسرائے کی فضاؤں میں نعرہ گونج رہاہے کہ سوگونگوں سے بہتر ہے ایک بولنے والا کنہیا پارلیمنٹ پہنچے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest