آنے والے کل کا سچ: جینیاتی تبدیلیوں کے بعد تیار کردہ خوراک

بائیو ٹیکنالوجی سے جینیاتی تبدیلیوں کے بعد تیار کردہ کئی اشیائے خوراک عنقریب عام مارکیٹوں میں دستیاب ہوں گی، مثلاﹰ سلاد ڈریسنگ، انرجی بارز اور سویا کی پھلیوں کا تیل۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا صارفین انہیں خریدیں گے بھی؟مکئی کی ایسی قسمیں تیار کی جا چکی ہیں، جن کی پیداوار خشک سالی میں بھی بہت اچھی رہتی ہے۔امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے بدھ چودہ نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق ان میں سے زیادہ تر مصنوعات تو ایسی ہوں گی، جن کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں خاص طرز کی جینیاتی تبدیلیو‌ں سے گزار کر ایسا بنا دیا گیا ہو گا کہ وہ جلد خراب ہونے کے بجائے بہت طویل عرصے تک قابل استعمال ہوں گی اور کئی کے بارے میں تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ زیادہ صحت بخش اور بیماریوں سے بچانے والی ہوں گی۔ مثال کے طور سویا کی پھلیوں کا ایسا تیل جسے دل کی صحت مند کارکردگی کے لیے اچھا کہہ کر مارکیٹ میں لایا جائے گا۔
جینیٹک ایڈٹںگ: مربع شکل کا سیب:جینیاتی تبدیلیوں سے مراد یہ ہے کہ یہ مصنوعات ایسے پودوں اور حیوانات سے تیار کی جائیں گی، جنہیں ڈی این اے انجینیئرنگ کے ذریعے بہتر بنا دیا گیا ہو گا۔ امریکا میں ایسی اولین اشیائے خوراک 2019ء سے فروخت کے لیے پیش کر دی جائیں گی۔اس ٹیکنالوجی کے بارے میں سائنسدانوں کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ یہ مصنوعات آج کل کی ان بائیو مصنوعات سے مختلف ہوں گی، جن میں جنیاتی تبدیلیاں تو کی جاتی ہیں لیکن جنہیں خریدنے پر اکثر صارفین آج بھی آماد نہیں ہوتے۔ اس طرح کی اشیائے خوراک کو انگریزی زبان میں ماہرین GMF یعنی Genetically Modified Food کا نام دیتے ہیں۔امریکا کی قومی اکیڈمی آف سائنسز نے کافی عرصہ قبل کہہ دیا تھا کہ جینیاتی تبدیلیاں ایک ایسا کامیاب سائنسی عمل ہو سکتی ہیں، جس کی مدد سے اشیائے خوراک کی پیداوار میں واضح اضافہ کیا جا سکتا ہے اور یہی وہ عمل ہے، جسے بروئے کار لاتے ہوئے تباہ کن ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سامنا کرنے والی موجودہ دنیا میں اربوں انسانوں کی خوراک کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔
ایک عام چوزہ اور جینیاتی تبدیلیوں کے بعد تیار کیا گیا، بائیں طرف، ایک ایسا چوزہ جس پر برڈ فلو کا وائرس حملہ نہیں کر سکے گا۔لیکن سوال یہ ہے کہ آیا عام صارفین ایسی مصنوعات کی خریداری کو ترجیح دیں گے یا اس سلسلے میں اپنی اب تک کی زیادہ تر انکار کی سوچ پر ہی عمل پیرا رہیں گے؟ اس بارے میں امریکا کی منیسوٹا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈین ووئٹاس کہتے ہیں، ’’اگر صارفین کو فوائد نظر آئے، تو وہ ایسی مصنوعات کو خریدنا شروع کر دیں گے اور ان کی تیاری کے عمل میں استعمال کی گئی ٹیکنالوجی کے بارے میں ان کی تشویش بھی بہت کم رہ جائے گی۔‘‘
گوشت حاصل کرنے کا انوکھا طریقہ:
پروفیسر ووئٹاس کے بقول، جو کیلِسٹ نامی کمپنی کے چیف سائنس آفیسر بھی ہیں، اس جدید بائیو ٹیکنالوجی کے استعمال سے حیوانات اور نباتات میں پائی جانے والی بہت سی بیماریوں کا کامیابی سے مقابلہ کرنا بھی ممکن ہو جائے گا۔ پروفیسر ڈین ووئٹاس جس Calyxt Inc. سے منسلک ہیں، وہ سویا کی پھلیوں کے جینوم میں کامیابی سے ایسی تبدیلیاں کر چکی ہے، جن سے ایسا تیل حاصل کرنا تکنیکی طور پر ممکن ہو چکا ہے، جو دل کے لیے اچھا ہو گا۔اسی طرح سائنسدان اب تک جن دیگر شعبوں میں بڑی کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں، ان میں یہ چند اہم مثالیں بھی شامل ہیں: ایسی گندم جس میں فائبر تو اب تک کے مقابلے میں تین گنا ہو لیکن گلوٹن بہت کم ہو، ایسی کھمبیاں جو پرانی ہو کر پیلی نہیں پڑتیں، ایسے بڑے بڑے کھیرے اور ٹماٹر جن کی پیداوار بہت بہتر بنائی جا چکی ہے، ایسے مویشی جن میں بیماریوں کے خلاف مدافعت بہت زیادہ ہے اور مختلف طرح کے ایسے پھل دار پودے، جنہیں تباہ کن نباتاتی بیماریوں سے بچانا ممکن ہو چکا ہے۔اس کے لیے ماہرین جو دو بڑی مثالیں دیتے ہیں، ان میں خشک سالی کے موسم میں بھی اچھی فصل دینے والے مکئی کے پودے بھی شامل ہیں اور ایسی نباتاتی اور حیوانی بیماریوں کے بچاؤ کے طریقے بھی، جو ماضی میں پودوں کی کئی انواع کی بقا کے لیے خطرہ بن گئی تھیں۔جی ایم ایف مصنوعات کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ دنیا بھر میں اکثر صارفین ایسی اشیائے خوراک کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف ماہرین کے نزدیک ایسی موصنوعات ہیں تو قطعی محفوظ، لیکن پھر بھی ساتھ ساتھ یہ تحقیق بھی جاری ہے کہ آیا ایسی مصنوعات کی وجہ سے انسانوں کو کسی بھی طرح کے صحت کے ممکنہ مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest