کہاں جائے بے چارا مسلمان

.میم ضاد فضلی
آج جس وقت میں ملک کے طول و عرض میں انجام دی جارہی ہجومی دہشت گردی پر تجزیہ لکھنے بیٹھا ہوں تو 2014سے لیکر اب تک منظم طریقے سے ہجومی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید کئے گئے بے گناہ مسلما نوں کے ایک ایک مظلوم چہرے میری نگاہوں کے سامنے کسی فلم کی ریل کی طرح دوڑنے لگے ہیں۔زیر نظر تحریر میںملک کے اندر ہجومی تشدد کے واقعات بڑھنے کے اسباب پر غورکرتے ہوئے اس کے سد باب کیلئے ملک کی اقلیتوں اور دلتوں کو کون سا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے اسی موضوع پر چند باتیں پیش کی جائیں گی ۔جس وقت میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو بے ساختہ مجھے20جولائی 2018بروز جمعہ راجستھان کے رام گڑھ میں مبینہ گئو رکشاسمیتی کے دہشت گردوں کے ہا تھو ں گائے کی اسمگلنگ کے الزام میں شہید کئے گئے اکبر خان (رکبر خان) کی ہلاکت کے بعد معروف انگلش پورٹل’’ دی پرنٹ ‘‘ میں شائع سینئر کانگریس رہنما ششی تھرور کا وہ بیان یاد آگیا جس میں انہوں نے مودی کے ہندوستان کے موجودہ منظر نامہ کی روشنی میں ایک ایماندارانہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اس وقت ہندوستان میں ’’ مسلمان ہونے سے اچھاہے گائے ہونا‘‘ ۔
واضح رہے کہ 20جولائی2018کو راجستھا ن کے رام گڑھ مویشی منڈی سے دودھارو گائے خرید کر لے جارہے اکبر خان کو گئو رکشا سمیتی کے دہشت گردوں نے انتہائی بے رحمی سے پولیس کی پشت پناہی میں دوڑا دوڑاکر کر مار ڈالا تھا ،مجھے اس کے بہیمانہ قتل کے منظر کو قلم کے ذریعہ پیش کرنا بے سود معلوم ہوتا ہے ، اس لئے کہ محمد اخلاق سے لے کرپہلوخان ، اکبر خان ، مرحوم حافظ محمد جنید اور جھارکھنڈ جسے رگھورداس کا لنچستان کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، وہاں ہجومی دہشت گردی میں ہلاک کئے گئے ایک درجن سے زائد افرادکی ہلاکت کی تفصیل میں جانا وقت کا زیاں لگتا ہے، اس لئے کہ ان ساری دہشت گردی اور مسلمانوں کے منصوبہ بند قتل کے اس سلسلے کوٹی وی اور موبائل کی اسکرینوں پر درجنوں بار ہم آپ دیکھ چکے ہیں ۔ لہذا آج صرف جھار کھنڈ میں ہونے والی ہجومی دہشت گردی پر ہی اپنی بات رکھنی ہے ۔
قابل ِ غور ہے کہ ریاست جھار کھنڈ کے موجودہ بھاجپائی وزیر اعلیٰ رگھور داس کی مدت کار میں ہجومی دہشت گردی کے کل دس واقعات سامنے آئے ہیں۔
قارئین ! میں یہاں انہیں واقعات کا تذکرہ رہاہوں جو مختلف سرکاری وغیر سرکاری رپورٹو ں میں سامنے آئے ہیں۔اس کا براہ راست مطلب یہ بھی ہے کہ اس نوعیت کے سنگین دہشت گردانہ واقعات جھار کھنڈ کے دوردراز پہاڑی اور جنگلی علاقوں میں بھی ہوئے ہوں گے ، جہاں کی کوئی رپورٹ ہمارے سامنے نہیں ہے۔ اگر آپ واقعی صحافی ہیں اور جھارکھنڈ کے خوفناک تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے جنگلوں میں ماؤ نوازوں کی کارکردگیوں کی رپورٹنگ کا براہ راست موقع آپ کوملاہوتو بخوبی اندازہ لگاسکیں گے کہ جھارکھنڈ ، چھتیس گڑھ اور مغربی بنگا ل کے نیپال و آسام سے متصل جنگلات کے اندرگھنگھور اندھیروں میں گھس کر خبریں نکال لانا کس قدر دل گردے کا کام ہوسکتا ہے۔ لہذا جھارکھنڈ کے جنگلات میں آباد علاقوں میں ہونے والی ہجومی دہشت گردی کی خبریں سامنے آجائیں یہ دوردور تک ممکن نہیں ہے۔
اور اس وقت ہجومی دہشت گردوں کی جس طرح مودی کی مر کزی سرکار اور بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستی حکومتیں درپردہ پشت پناہی کررہی ہیں اور جن کی ہر ممکن کوشش یہی ہوتی ہے کہ کسی طرح بھی لاٹھی یا پیسے کے زور پر خبریں دبادی جائیں ۔ایسے حالات میں صحیح اعداد وشمار تک پہنچنا مشکل ہے۔تاہم اس پر گہری نظر رکھنے والے اور ہندو دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے اعدادو شمار جمع کرنے والے ملکی وعالمی ادارے ،غیر جانبدار تجزیہ نگار، سماج کی بہتری اور رفاہ کے لئے شب و روز مستعد عوامی نمائندے اس بات سے ہر گز انکار نہیں کرسکتے کہ رگھور داس کی ریاست میں اس قسم کے بے شمار ایسے واقعات بھی ہوئے ہوں گے جو میڈیا یا سوشل میڈیا میں نہیں آسکے۔بہر حال زیر نظر تحریر میں گفتگو صرف ان واقعات پر ہی ہوگی جن کی پختہ رپورٹیں دنیا کے سامنے آچکی ہیں اور ان رپورٹوں کے مطابق بھگوا لیڈر رگھور داس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک جھار کھنڈ میں ماہ جون 2019کے آخر تک ماب لنچنگ کے کم ازکم دس واقعات رونما ہوچکے تھے ،جن میںکل 18موتیں ہوئی تھیں اور ان ہلاک شدگان میں سب سے زیادہ تعد اد مسلمانوں کی تھی ،یعنی ہجومی دہشت گردی کے واقعات میں ہونے والی مجموعی18ہلاکتوں میں گیارہ نہتے اور بے یارو مددگار مسلمانوں کو انتہائی سفاکیت کے ساتھ مارڈ الا گیا تھا۔اب ذرا ششی تھرور کے بیان کی طرف لوٹئے جس سن کر راج ناتھ سنگھ اور مختار عباس نقوی سخت مرچی لگ گئی تھی۔ مگر اعدادوشمار کے ساتھ جب یہی رپورٹ انکل سام نے پیش کی تو اس کے سارے ہندوستانی بھتیجوں کو سانپ سونگھ گیا اور سبھی خاموشی چادر اوڑھ لی۔
گزشتہ برس کانگریس لیڈر کی اس تنقید پر ہنگامہ برپا ہوگیا تھا اور سب سے زیادہ بوکھلاہٹ کا شکار نام نہاد اقلیتی لیڈرمختار عباس ہو ئے تھے۔واضح رہے کہ انگریزی ویب سائٹ ’’ دی پرنٹ’ نے ششی تھرور کا ایک اوپینین شائع کیا تھا، جس میں تھرور نے مذکورہ بالا تبصرہ کرتے ہوئے مرکزکی مودی حکومت کی سخت سرزنش کی تھی۔اس کا بے تکاسا اور دلیل سے خالی مضحکہ خیز جواب اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے دیا تھا۔ اپنے جواب میں راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ بی جے پی حکومت میں ماب لنچنگ کے بڑھتے واقعات کا دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے، راج ناتھ نے بھی جھوٹ بول کر اپنی گردن بچانے کی ناکام کوشش کی تھی ۔حالاں کہ مجھے اس وقت راجناتھ کا وہ جواب کہیں سے بھی خلاف توقع یا غلط نہیں لگا تھا ، اس لئے کہ وہ جس انتہاء پسند گروہ کے بیک گراؤنڈ سے آتے ہیں، اس انتہاء پسند گروہ کا بنیادی مقصد ہی جھوٹ پھیلانا، ملک میں افرا تفری اور نفرت کی فضا پیدا کرنا اور ہندوستان سے مسلمانوں ، عیسائیوں سمیت تمام اقلیتوں کا صفایا کرکے ملک کو ہندو راشٹر بنانا ہے۔
البتہ جس بات نے ملک و بیرون ملک رہنے بسنے والے امن پسند ہندوستانیوں کو سب سے زیادہ ہراساں کیاتھا وہ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کا رد عمل تھا ، جس میں اس نے کہا تھا کہ ملک میں گزشتہ 4 برسوں میں کوئی بڑا فرقہ وارانہ فسادنہیں ہوا ہے۔
یہاں بی جے پی کے اس مسلم دشمن بھونپو کا شرمناک بیان دیکھئے ۔ کہ کہاں یہ سوال اٹھا یا جارہا ہے کہ ملک میں ماب لنچنگ کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے اور بھگوا پرچم بردار یرقانی دہشت گردوں کو حکومت کی غیر اعلانیہ پشت پناہی حاصل ہے ،جس کی وجہ سے ان کے حوصلے بڑھتے جارہے ہیں اور اپنی بزدلانہ دہشت گردی پردہشت گردوں کا یہ گروہ کھلے عام ایک دوسرے کی پیٹھ بھی ٹھوک رہا ہے۔اور نقوی اس کا یہ جواب دے رہا ہے کہ ملک میں فرقہ ورانہ فسادات کے واقعات میں کمی آئی ہے۔
یہاں سوال یہی ہے کہ نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کی اقلیتوں اور دلتوں کوہجومی دہشت گردوں کے ذریعہ ہلاک کئے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ،اس کا جواب ہاں یا نا میں ہونا چاہئے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس جھوٹ اور جملے بازی کے علاوہ کوئی اثاثہ ہے ہی نہیں ، لہذ اس سوال پرکہ 2014کے بعد سے ملک کے اندرہجومی دہشت گردی نے اقلیتوں اور دلتو ں کا عرصہ حیات تنگ کردیا ہے نقوی نے مضحکہ خیز اور اٹ پٹا ساجواب دیدیا۔ خود امریکہ میں قائم آزادی مذاہب کیلئے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارہ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ہندوستان میں مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد اس نوعیت کے ہجومی تشدد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ باتیں یرقانی جماعت کے عہدیداران اور مرکزی حکومت کے وزراء بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی کومعلوم نہیں ہیں۔غور کیجئے ! جس دہشت گردانہ گروہ کی بزدلانہ سرگر میوں پر امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت درجنوں طاقتور ممالک میں حکومت ہند کی مذمت کی جارہی ہے ، ہر طرف سے ماب لنچنگ روکنے مطالبے کئے جارہے ہیں ،جس کی آواز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھا ئی جاچکی ہے، بلکہ (USCIRF) یعنی یونائٹیڈ اسٹیٹ کمیشن فار انٹر نیشنل رلجیس فریڈم نے اپنے تحریری بیان میں یہاں تک دعویٰ کیا ہے ہجومی دہشت گردی میں شامل انتہاپسندوں کو حکومت ہند اور بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستی حکومتوں کی حمایت حاصل ہے۔المیہ تو یہ ہے کہ جہاں کہیں سے بھی ہجومی دہشت گردوں کی غنڈہ گردی کے واقعات کی ویڈیو کلپس موصول ہوئی ہیں ،ان میں سے بیشتر واردات میں مقامی پولیس بھی موجود نظر آتی ہے۔ جبکہ تبریز انصاری اور اس سے قبل راجستھان میں اکبر خان کے قتل میں تو پولیس کی کار کردگی ابھی شک کے گھیرے میں ہے ۔ جھارکھنڈ اور راجستھان دونوں ریاستوں کی پولیس غنڈوں اور دہشت گردوں کی صف میں ہی رہی ہے ۔
بہرحال میں آپ حضرات کی توجہ ہجومی دہشت گردی پر اٹھائے گئے سوال پر سنگھکے پروردہ اور مسلمانان ہند کا کھلا دشمن مختار عباس نقوی کے جواب کی جانب مبذول کرانا چاہ رہا تھا۔ سوچئے !سوال کیا ہے اور نقوی جواب کیا دے رہا ہے۔ سوال ہے ہجومی دہشت گردوں کے ہاتھوں اقلیتوں اور دلتوں کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہونے کا اور جواب دیا جارہا ہے کہ ’’ ہندوستان میں گزشتہ 2014کے بعد سے فرقہ وارانہ فسادات انتہائی کم ہوئے ہیں۔ اسے کہتے ہیں ’’بھان متی نے کنبہ جوڑا، کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا ۔
مختار عباس نقوی کاردعمل خود اس بات کی شہادت رہا ہے کہ اس کے پاس مسلمانوں پر ڈھائی جارہی ہجومی دہشت گردی کا کوئی مثبت جواب نہیں ہے اور یہ کہ 2014سے مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد اقلیتوں پر دراز ہورہے تشدد اور غارت گری کے کارناموں میں بی جے پی اور اس کے وزراء کے ہاتھ بھی سنے ہوئے ہیں۔ خود امریکہ سے آنے والی رپورٹ جسے اپنے دستخط کے ساتھ خارجہ سکریٹری پومپیو نے جاری کیا ہے ،اس میں حالیہ ہجومی دہشت گردی کو ریاستی دہشت گردی کی شکل قرار دیا گیا ہے۔آخر میں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ مختار عباس نقوی تم مسلمانوں کے خیر خواہ تو کبھی ہوہی نہیں سکتے اور ہمیں یقین ہے کہ اپنی بے بسی کی فریاد لے کر ملک کا مسلمان تمہارے پاس جائے گا بھی نہیں۔مگر اتنا تو ضرور کرو کہ بے بنیاد تاویلوں سے اپنی پارٹی اور اپنے وزیر اعظم کے منہ پر کالک مت پوتو۔آج ملک کے حالات اس قدر خوفناک ہیں کہ اقلیتوں اور دلتوں کا ایک ایک فرد ڈرا سہما ہوا ہے۔صورت حال یہ ہے کہ وہ مظلوم اپنی شکایت لے کر تھانوں میں بھی نہیں جاسکتا ۔اس لئے کہ اب پولیس کا ہندوتوا چہرہ بھی بے نقاب ہوچکا ہے ۔ ایسے میں کوئی بھی لائحہ عمل اختیار کرنے سے پہلے ہم مسلمانوں کونہا یت سوچ سمجھ کر قدم اٹھا نا ہوگا۔ سب سے بہتر یہی ہے کہ ملکی عدالتوں کا رخ کیا جائے ، اقوام متحدہ کے مقامی دفتر کو میمورنڈم دے کر اپنی مظلومیت کی جانب متوجہ کیا جائے، عالمی ادارہ برائے تحفظ حقوق انسانی کے سامنے اپنی فریاد رکھی جائے۔مگر کسی بھی حال میں تشد د کو تشدد سے روکنے کی قطعی کوشش نہیں ہونی چاہئے، اس لئے کہ آگ سے آگ کو بجھایا نہیں جاسکتا ۔

8076397613

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram