” کافر”(افسانچہ)

از۔ڈاکٹرمحمدیحییٰ
ظہیرآباد تلنگانہ
رابطہ
9963305338
یونیورسٹی سے گھر واپس آنے کے بعد امی جان نے سبزی لانے کے لیے کہا۔ ہردن ابو سبزی
لے آتے تھے- آج اتفاق سے آفس کے کام سے وہ باہر گئے ہوئے تھے۔اس لیے مارکیٹ جانا مجھے ضروری بھی تھا اورمیں چلاگیا۔ راستے میں اپنے پروس کے ایک ریسرچ اسکالرمبین پر میری نظر پری ۔وہ بہت اداس حالت میں چوراہے پر ایک کونے میں اپنی موٹرسائیکل پربیٹھا نظر آیا۔ میں نے قریب جا کر پوچھا ۔
” کیا ہوا یار مبین کوئی پریشانی ہے”
کیوں اس طرح یہاں اداس اور تنہا بیٹھے ہو – میرے پوچھنے پر مبین نے کہا۔
” یار سمجھ میں نہیں آرہا ہے کیا کروں ۔۔۔۔۔؟”
کیا ہوا بتاو تو صحیح میں کوئی مدد کرسکتا ہوں ؟
“نہیں یار کل میرا انٹرویو ہے۔ تم جانتے ہو آج کل
نوکری صرف سفارشات یا رشوت کی بناء پر ہی ملتی ہے۔۔۔۔۔۔لیکن میرے پاس نہ تو سفارشات ہے اور نہ اتنے پیسے کہ میں رشوت دے سکوں۔ ۔اور میری سفارش بھی کون کرے گا؟”
مجھے سفارشات اور رشوت خوری کا علم نہیں تھا اس لیے میں حیران رہ گیا کہ مبین ذکی فہیم اسکالر جو ہر کلاس میں اول رہا ہے پھر بھی انٹرویوکے لیے سفارش کی سوچ میں پڑا ہے- رشوت دینے کے لیے پیسے اس کے پاس نہیں تھے کیوں کہ وہ غریب گھر کا لڑکا تھا -“میں نے کہا مبین چلو پروفیسر ہاشمی صاحب سے مشورہ کرتے ہیں وہ پاس ہی میں رہتے ہیں۔ ”
مبین نے گاڑی سے اترتے ہوےء کہا ” باکل نہیں انھوں نے تو حرم سجا رکھا ہے۔ وہاں صرف لڑکیوں کا ہی کام ہوتا ہے وہ ہماری سفارش کریں گے۔۔۔۔۔۔اوروہ کرے گا بھی تو میں قطعی اس کے پاس نہیں جاوں گا۔۔۔۔۔”
میں نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوےء کہا چلو مبین تم بہت پریشان ہو یار اب پروفیسر ہاشمی صاحب کی مرضی، وہ لڑکیوں کی مددکریں یا عورتوں کی ۔ان کا یہ اپنا ذاتی معاملہ ہے۔
مبین نے تیش میں کہا “مجھے نوکری ملے یا نہ ملے لیکن پروفیسر ہاشمی کے پاس میں قطعی نہیں جاوں گا پلیز یار مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو -جس کام کے لے تم جا رہے وہ کر لو۔
” کیوں ۔۔۔۔۔؟
میں نے چونک کر اسے دیکھتے ہوے کہا،
” چلتے ہو یا نہیں-”
نہیں ۔۔۔۔۔ بالکل نہیں اس لیے کہ
” تمھیں شاید پتا نہیں ہے کہ اس پروفیسر ہاشمی نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے یہ تو سب ان کی حرکات سے بخوبی واقف ہیں ۔۔۔۔۔اب بتاؤ! میں ان کے یہاں کیسے جاوں؟ ”
اس نے غصہ سے کہا ۔
” کل قیامت والے دن نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا لیا کہ تم ایسے انسان کے پاس کیوں گئے جو کافر سے بدتر ہے، اب بتاؤ ! میرے پاس کیا جواب ہوگا
اتنا کہہ کر اس نے موٹرسائیکل اسٹاڑٹ کیااور آگے بڑھ گیا ۔”میں خاموش نگاہوں سے اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest