نقاب پوشوں کے حملے میں سب بے نقاب

 

 

سہیل انجم
ابھی جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی پر پولیس حملے سے پیدا ہونے والی ٹیس کم بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک اور زخم دے دیا گیا۔ اس بار ہدف بنایا گیا ملک کے سرکردہ تعلیمی ادارے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی یعنی جے این یو کو۔ اول الذکر دونوں یونیورسٹیوں پر حملہ پولیس نے کیا تھا اور آخر الذکر پر حملہ نقاب پوشوں نے کیا اور پولیس نے ان کی پشت پناہی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ جے این یو پر بھی پولیس کا ہی حملہ ہونے والا تھا۔ اس کے لیے ایک ہفتے سے ماحول سازی کی جا رہی تھی۔ لیکن وہاں کے طلبہ نے ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ اگر وہ رد عمل ظاہر کرتے تو پولیس کو اندر گھسنے کا موقع مل جاتا اور وہی کچھ ہوتا جو جامعہ اور اے ایم یو میں ہوا۔ لیکن جب طلبائے جے این یو کو مشتعل کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں تو دوسرا راستہ اختیار کیا گیا۔ یعنی بی جے پی کی طلبہ شاخ اے بی وی پی کے غنڈوں نے حملہ کیا اور انھوں نے باہری لوگوں کو بھی بلوایا۔ لیکن اگر سارے باہری ہوتے تو انھیں ہاسٹلوں کے بارے میں کیسے پتہ ہوتا۔ باہری غنڈوں کی قیادت اے بی وی پی کے طلبہ کر رہے تھے۔ نیوز چینلوں پر جو ویڈیوز گردش کر رہی ہیں ان سے حملے کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس سے حملے کے منصوبہ بند ہونے کا بھی اندازہ لگتا ہے۔
ذرا ملاحظہ کیجیے جامعہ میں پولیس نے کیسے کارروائی کی اور جے این یو میں وہ کیسے خاموش تماشائی بنی رہی۔ جامعہ میں پولیس نے یونیورسٹی انتظامیہ سے کوئی اجازت نہیں لی۔ بغیر اجازت گھس گئی اور پرامن انداز میں پڑھائی کرنے والے طلبہ کو اپنے تشدد کا نشانہ بنایا۔ جبکہ جے این یو میں پولیس کو سیکڑوں کالس کی گئیں اور بتایا گیا کہ کس طرح وہاں غنڈوں نے حملہ کر دیا ہے۔ لیکن پولیس گھاگھ بنی بیٹھی رہی۔ اس نے ایک قدم بھی اٹھانا ضروری نہیں سمجھا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ بار بار کی کالس کی وجہ سے جو پولیس والے جے این یو کے گیٹ پر موجود تھے انھوں نے غنڈوں کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ وہ باہر کھڑے رہے اور اندر توڑ پھوڑ اور مار پیٹ چلتی رہی۔ اس حملے میں طلبہ یونین کی صدر آئشی گھوش سمیت 34 طلبہ زخمی ہوئے۔ گھوش کو تو سر میں سولہ ٹانکے لگے ہیں۔ کسی کا ہاتھ ٹوٹا ہے تو کسی کا پیر۔ لیکن واہ سے دہلی کی بہادر پولیس اس نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ دو گھنٹے تک غارت گری مچانے کے بعد جب پچاس ساٹھ کی تعداد میں حملہ آور جو کہ لاٹھی ڈنڈوں سے لیس تھے واپس جانے لگے اپنے ہتھیار سمیت، تو پولیس نے انھیں روک کر پوچھنے کی بھی زحمت گوارہ نہیں کی کہ وہ اندر کیا کر رہے تھے۔ بلکہ ان کو آزادی کے ساتھ جانے دیا گیا۔ نیوز چینلوں پر جو ویڈیوز دکھائی جا رہی ہیں ان میں حملہ آوروں کو خراماں خراماں جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک سوال جے این یو کے گارڈس کے سلسلے میں بھی ہے۔ جب بغیر شناختی کارڈ دکھائے کوئی شخص اندر نہیں جا سکتا تو پھر اتنی بڑی تعداد میں حملہ آور جو کہ نقاب پوش تھے کیسے داخل ہو گئے۔ گارڈس نے ان کو روکنے یا ان سے کچھ پوچھنے کی ضرورت کیوں نہیں محسوس کی۔ جتنی دیر تک ہنگامہ جاری رہا پولیس اور گارڈس لاپتہ رہے۔ جب سب کچھ ہو گیا تو پولیس نے کیمپس میں داخل ہو کر فلیگ مارچ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ جبکہ اس بارے میں کئی اطلاعت ہیں کہ پولیس کو انتظامیہ کی جانب سے بلایا گیا لیکن وہ نہیں آئی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انتظامیہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ پولیس مداخلت کرے۔ اس لیے غنڈوں کو اپنی کارروائی کھل کر کرنے کی اجازت دے دی گئی۔
اس پورے معاملے میں وائس چانسلر کا رویہ بھی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ انھوں نے ابھی تک زخمی طلبہ سے ملاقات نہیں کی ہے۔ وہ پہلی بار منگل کے روز سامنے آئے اور ایک خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے توسط سے زائد از ایک منٹ کا بیان جاری کرکے اپنی ذمہ داری پوری کر لی۔ انھوں نے حملے کو افسوسناک قرار دیا لیکن حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کرنے کی کوئی بات نہیں کی۔ بلکہ انھوں نے اس پورے واقعہ کو فراموش کرکے نئے سرے سے آغاز کرنے کی بات کہی۔ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ ان کے طلبہ پر حملہ ہوا اور کیمپس میں توڑ پھوڑ کی گئی اور وہ کہتے ہیں کہ آئیے نئے سرے سے آغاز کرتے ہیں۔ اس کا مطلب تو یہی نکالا جا سکتا ہے کہ ہم جو چاہتے تھے وہ ہو گیا آئیے اب کچھ دوسری باتیں کرتے ہیں جو ہوا سو ہوا اسے جانے دیجیے۔ یہ وہی وائس چانسلر ہیں جنھوں نے طلبہ میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے یونیورسٹی کیمپس میں ٹینک نصب کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ یعنی اب سے پہلے جبکہ تعلیمی اداروں میں ٹینک اور توپ نہیں ہوا کرتی تھی تو طلبہ میں حب الوطنی کا جذبہ نہیں تھا۔
یہ بات بھی بہت عجیب و غریب ہے کہ جس وقت حملہ ہوا اور غنڈے طلبہ و طالبات کو پیٹ رہے تھے، یونیورسٹی انتظامیہ نے ضروری سمجھا کہ وہ ایک اور چار جنوری کو ہونے والے واقعات کے سلسلے میں پولیس میں رپورٹ درج کرائے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک اور چار جنوری کو کچھ طلبہ نے سرور روم میں توڑ پھوڑ کی تھی تاکہ جو طلبہ رجسٹریشن کرانا چاہتے ہیں وہ نہ کراسکیں۔ اس سلسلے میں پولیس نے دو ایف آئی آر درج کی ہیں اور دونوں میں آئشی گھوش سمیت 19 لوگوں کے نام ہیں۔ لیکن یہ کتنی عجیب بات ہے کہ حملے کے سلسلے میں انتظامیہ نے کوئی شکایت درج نہیں کرائی۔ یعنی حملے کو انتظامیہ کی خاموش تائید حاصل ہے۔ پولیس نے از خود ایک ایف آئی آر درج کی ہے اور وہ بھی گمنام حملہ آوروں کے خلاف۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ بہادر پولیس ابھی تک ایک بھی حملہ آور کی نہ تو شناخت کر سکی ہے اور نہ ہی کسی کو گرفتار کر سکی ہے۔ حالانکہ دہلی پولیس کو بہت پیشہ ور مانا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ بڑی صلاحیتوں والی پولیس ہے لیکن اس کے باوجود حملے کے سلسلے میں ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے سوائے اس کے کہ یہ معاملہ کرائم برانچ کو سونپ دیا گیا ہے اور کرائم برانچ کی ایک ٹیم نے کیمپس کا دورہ کیا ہے۔ اس حملے کے تعلق سے بہت سے سوالات ہیں اور ایک بھی سوال کا جواب نہیں مل پا رہا ہے۔ جس طرح سے یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس اپنا کام کر رہی ہیں اس سے یہ بات بخوبی سمجھی جا سکتی ہے کہ اس میں اوپری ہاتھوں کی کارفرمائی ہے۔ کچھ طاقتیں ہیں جو انتظامیہ اور پولیس کو ہدایات دے رہی ہیں اور جو کچھ ہو رہا ہے انھی طاقتوں کے اشارے پر ہو رہا ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حملہ کیوں کیا گیا اور اس کا مقصد کیا تھا۔ اس سلسلے میں سیاسی مشاہدین کا خیال ہے کہ اس حملے کا مقصد جے این یو کے طلبہ کو سبق سکھانا ہے۔ جب جامعہ ملیہ میں پولیس کارروائی کی گئی تو جے این یو کے طلبہ بھی کھل کر جامعہ کی حمایت میں آئے تھے۔ وہ بھی سی اے اے اور این آر سی کے خلاف جاری احتجاج میں پیش پیش ہیں۔ وہ بھی شاہین باغ میں چلنے والے خواتین کے دھرنے کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ ان کی بھی آواز حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اٹھ رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کا دوسرا مقصد پورے ملک کے اسٹوڈنٹس کو خوف زدہ کرنا ہے۔ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف جو تحریک چل رہی ہے وہ انھی کے حوصلوں کی مرہون منت ہے۔ اگر طلبہ اس سے الگ ہو جائیں تو یہ تحریک دم توڑ جائے گی۔ یہ بات بار بار کہی جاتی رہی ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ تحریک کی قیادت کر رہے ہیں اور وہ بیدار ہو گئے ہیں اور انھوں نے پورے ملک کو بیدار کر دیا ہے۔ اس تحریک میں طالبات بھی بڑی تعداد میں پیش پیش ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آئشی گھوش کو بھی نشانہ بنایا گیا اور ان کو سب سے کاری ضرب لگائی گئی۔ اس کا مقصد طالبات کو خوف زدہ کرا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کا تیسرا مقصد شاہین باغ میں دھرنے پر بیٹھی خواتین کو بھی خوف زدہ کرنا ہے اور انھیں یہ پیغام دینا ہے کہ جس طرح جے این یو پر حملہ کرکے لوگوں کے سر توڑ دیے گئے اسی طرح تم پر بھی رات کی تاریکی میں حملہ کیا جا سکتا ہے اور تمھارا بھی وہی حشر کیا جا سکتا ہے۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ لوگوں کی توجہ سی اے اے اور این آر سی سے ہٹ کر جے این یو پر مرکوز ہو جائے اور لوگ احتجاج کرنا بند کر دیں۔ لیکن ان تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر اس حملے کا یہی مقصد تھا تو حملہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں ناکام ہو گئے ہیں۔ کیونکہ نہ تو طلبہ خوف زدہ ہوئے ہیں نہ طالبات اور نہ ہی شاہین باغ کی شاہین صفت خواتین اور نہ ہی سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج بند ہوا ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس حملے کی وجہ سے وہ بہت سارے لوگ بے نقاب ہو گئے ہیں جن کی آنکھوں میں جے این یو کھٹک رہی ہے اور جو سی اے اے اور این آر سی کے خلاف جاری ملک گیر احتجاج سے پریشان اور خوف زدہ ہیں۔
sanjumdelhi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram