اقلیتوں میں خوف و ہراس کون پیدا کر رہا ہے، مودی جواب دیں

سہیل انجم
وزیر اعظم نریندر مودی نے این ڈی اے کے نو منتخب ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اقلیتوں کے حق میں آنسو بہائے اور انھیں خوف و ہراس میں جینے پر مجبور کرنے کے لیے اپوزیشن پارٹیوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اقلیتوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا گیا اور اب اس صورت حال کو بدلنا ہوگا۔ انھوں نے جس انداز میں اقلیتوں کی مظلومیت کا رونارویا اس سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اقلیتوں کے بہت بڑے ہمدرد اور ان کے سچے خیر خواہ ہیں۔ وہ انھیں انصاف فراہم کرنے کے طرفدار ہیں اور اب تک ان کے ساتھ جو بھی ناانصافی ہوئی ہے وہ اس کا تدارک چاہتے ہیں۔ انھوں نے نو منتخب ارکان پر زور دیا کہ اقلیتوں کا اعتماد جیتنے کی ضرورت ہے۔
بظاہر یہ باتیں بڑی اچھی لگتی ہیں اور دلوں کو چھو جاتی ہیں۔ لیکن جب ہم مودی حکومت اول کے پورے پانچ برسوں کا جائزہ لیتے ہیں تو مودی کا یہ بیان خود انھیں منہ چڑاتا نظر آتا ہے۔ ان پانچ برسوں میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس پر احتجاج ملک میں تو ہوا ہی غیر ممالک میں بھی ہوا۔ انسانی حقوق کی غیر ملکی تنظیموں نے مودی حکومت میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر رپورٹیں تک جاری کیں۔
سردست ابھی ابھی مکمل ہونے والے انتخابات کا ایک جائزہ لے لیتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ بی جے پی نے اس دوران اقلیتوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ ہمدردانہ یا مخالفانہ۔ اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے بارے میں اس کے رویے کا اندازہ صرف اسی ایک بات سے ہو جاتا ہے کہ اس نے مالیگاؤں بم دھماکہ کی ملزم سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو بھوپال سے اپنا امیدوار بنایا اور کامیاب بھی کرایا۔ پرگیہ ٹھاکر پر 2008 میں مالیگاؤں میں بم دھماکہ کرنے کا الزام ہے جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعہ نے اقلیتوں میں ایک خوف پیدا کیا تھا اور وہ یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہوئے تھے کہ آر ایس ایس سے وابستہ ہندوتو وادی تنظیمیں اس ملک میں مسلمانوں کو چین سے جینے دینا نہیں چاہتیں۔ پرگیہ ٹھاکر کو بی جے پی کا امیدوار بنانا اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں میں خوف پیدا کرنا تھا یا بھوپال کے مسلمانوں کو یہ بتانا تھا کہ اب تم چین کی نیند سوؤ کیونکہ ہم نے پرگیہ ٹھاکر کو تمھارا نمائندہ اور محافظ بنا دیا ہے۔
بی جے پی صدر امت شاہ نے مشرقی ریاستوں میں اپنی تقریروں میں نام نہاد دراندازی کا مسئلہ خوب اچھالا اور یہ کہہ کر اقلیتوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی کہ این آر سی یعنی نیشنل رجسٹر سٹیزنس کو پورے ملک میں نافذ کیا جائے گا۔ انھوں نے نام تو دراندازوں کا لیا لیکن اشارہ مسلمانوں کی جانب تھا۔ انھوں نے یہ کہہ کر کہ یہ لوگ دیمک ہیں اور ملک کو چاٹ رہے ہیں لیکن ہم ان کو چن چن کر نکال باہر کریں گے، ان میں ڈر پیدا کرنے کی کوشش کی۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی این آر سی کے نام پر پورے ملک میں مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی۔ مغربی بنگال میں جس طرح فرقہ واریت کی بنیاد پر الیکشن لڑا گیا کیا وہ اقلیتوں میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے تھا۔ امت شاہ کے روڈ شو میں جس طرح ہندو دیوی دیوتاؤں کا سوانگ بھرے شرکا موجود تھے کیا اس سے اقلیتوں میں ڈر پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔
نریندر مودی نے این ڈی اے ارکان سے کہا کہ وہ اقلیتوں میں اعتماد پیدا کرنے اور ان کا اعتماد جیتنے کی کوشش کریں لیکن مودی حکومت اول میں جس طرح عیسائیوں اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر حملے کیے گئے کیا وہ ان کا اعتماد جیتنے کے لیے تھا۔ کیا اس حکوت نے طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون وضع کرکے مسلم مردوں کو ڈرانے کی کوشش نہیں کی۔ گزشتہ پانچ برسوں میں ماب لینچنگ یا ہجومی تشدد کا مقصد کیا اقلیتوں میں اعتماد پیدا کرنا تھا۔ کیا اپوزیشن نے ووٹ بینک کی سیاست کے پیش نظر ہجومی تشدد کی نئی روایت قائم کی۔ اخلاق، پہلو خان، جنید، افرازل، اکبر خان، سید شریف الدین، منہاج انصاری اور ایسے بہت سے لوگوں کو بیدردی کے ساتھ ہلاک کرنے کا مقصد کیا مسلمانوں کے دلوں سے خوف و ہراس کو دور کرنا تھا اور کیا یہ سارے واقعات غیر بی جے پی حکومتوں میں ہوئے۔ بات بات پر مسلمانوں کو پاکستان یا شمشان بھیجنے کا نعرہ کون لوگ لگاتے رہے اور اس کا مقصد کیا تھا۔ بیف کے نام پر ہجومی تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیوں کا نہ ہونا کیا ثابت کرتا ہے۔ کیا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہندو ووٹ بینک کی خاطر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ روہت ویمولہ کی خود کشی کیا اپوزیشن جماعتوں کی سیاست کی وجہ سے ہوئی۔ کیا اس کے لیے وہ لوگ ذمہ دار نہیں ہیں جو اس ملک کو ہندو راشٹر بنا دینے کے درپے ہیں۔ مرکزی وزیر جینت سنہا کے ذریعے ہجومی تشدد کے ذمہ داروں کو جیل سے باہر آنے کے بعد ہار پہنا کر ان کا استقبال کرنا کیا اقلیتوں کے دلوں سے خوف و ہراس دور کرنا تھا۔ اور کیا جینت سنہا بی جے پی کے نہیں اپوزیشن کے وزیر تھے۔
وزیر اعظم مودی اپنی تقریر میں اقلیتوں کے لیے آنسو بہاتے رہے لیکن ان کی حکومت اقلیتی تعلیمی اداروں کے خلاف سپریم کورٹ میں کھڑی رہی۔ اس نے ان تعلیمی اداروں کی اقلیتی حیثیت کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا اور ان ادارو ںکے ذمہ داروں کے ذریعے ان کے انتظام و انصرام کی مخالفت کی۔ سابق نائب صدر حامد انصاری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک کے مسلمانوں کے اندر بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ان کے اس بیان پر ان کی زبردست نکتہ چینی کی گئی اور اسی بہانے مسلمانوں میں ڈر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
ایسے بے شمار واقعات ہیں جو یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ مودی حکومت اول میں اقلیتوں کو بری طرح نشانہ بنایا گیا۔ خواہ وہ مسلمان ہوں یا عیسائی یا دوسری اقلیتیں۔ اور اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ اس کی آڑ میں ہندو ووٹ بینک کو پکا کیا جا سکے۔ ان ہندووں کو گول بند کیا جا سکے جو آر ایس ایس کے نظریے میں یقین رکھتے ہیں اور جو ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کی مہم میں شریک ہیں۔
بظاہر وزیر اعظم مودی کا مذکورہ بیان بہت اچھا ہے اور دلوں کو چھونے والا ہے لیکن در حقیقت وہ ان کی حکومت میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو بے نقاب کرنے والا ہے۔ وزیر اعظم مودی اس سے قبل بھی دلوں کو چھونے والے بیانات دیتے رہے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ بڑے انصاف پرور اور اقلیتوں کے خیر خواہ ہیں۔ لیکن اقلیتوں کے خلاف ماحول سازی کرنے اور ان میں خوف و ہراس پیدا کرنے والوں کو کھلی چھوٹ بھی دیتے رہے ہیں۔
نریند رمودی کے قول و فعل کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ مذکورہ بیان بھی انھیں میں سے ایک ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest