جنتر منتر پر سعودی حکومت کے خلاف مظاہرہ

نئی دہلی:سعودی حکومت کے ذریعہ37 بے گناہ مظلوموں کو سزائے موت سنا کر گردن کاٹنے اور سعودی جبر و تشدد کے خلاف آج مجلس علماء ہند دہلی کی جانب سے جنتر منتر پر عظیم پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور علماء کرام و مقررین نے اپنی تقرہروں میں آل سعود کے جرائم اور اسلام وانسانیت کے خلاف جرائم پر روشنی ڈالتے ہوئے سعودی حکومت کو خبردار کیا کہ جلد از جلد ان مظالم کا خاتمہ کیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ اقوام متحدہ کو میمورنڈم ارسال کرکے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو ان کی ذمہ داریوں کے تئیں بیدار کرنے کیلئے پرزور آواز بلند کی۔
شیعہ جامع مسجد کے امام جمعہ مولانا محسن تقوی نے اپنے بیان میں آل سعود کے سیاہ کارناموں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان کے مظالم صرف شیعوں پر نہیں ہیں جو سعودی عرب میں اپنے شہری اور انسانی حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں بلکہ آل سعود کے مزاج کے خلاف وہاں ہر آواز کو قتل وخونریزی اور تشدد کے ذریعہ دبا دیا جاتا ہے بے شمار اہل سنت اور شیعہ سعودی جیلوں میں بند ہیں حد تو یہ ہے کہ خود امام کعبہ آج سعودی جیل میں مشق ستم بنے ہوئے ہیں ۔
مولاناسید شمشاد احمد نے امت مسلمہ کو آل سعود کے جرائم کے خلاف اتحاد و یکجہتی کے ساتھ آواز اٹھانے اور حرمین شریفین کے تقدس کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حق تو یہ ہے کہ تمام مسلمان اس ناجائز حکومت کے خلاف احتجاج کریں۔
مولانا شیخ محمد عسکری نے کہا کہ آل سعود کے جرائم اتنے بڑھ چکے ہیں کہ ان کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ درج ہونا چاہئے اور اسے ایک دہشت گرد مملکت قرار دیا جانا چاہئے۔
مولانا عابد عباس زیدی نے آل سعود کی مجرمانہ حرکتوں پر کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب اس حکومت کا خاتمہ ہوگا اس لئے کہ کوئی بھی حکومت ظلم کی بنیاد پر قائم نہیں رہ سکتی۔
مولانا مرزا عمران علی نے کہا سعودی حکومت نے امت مسلمہ کے ساتھ ساتھ حرم مقدس کے ساتھ بھی خیانت کی ہے اس لئے کہ حاجیوں سے ٹیکس کے نام پر بے تحاشا وصولی بڑھا دی گئی ہے۔
آل انڈیا مسلم یونٹی فرنٹ کے صدر یونس صدیقی نے کہا کہ سعودی حکومت مسلمانوں کےاختلاف اور انتشار کو بڑھاوا دیتی ہے اور مسئلہ فلسطین سے مسلسل خیانت کرتے ہوئے اسرائیل کی بھرپور مدد کرتی ہے۔
مولانا جنان اصغر مولائی نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے آل سعود کو ان کے انجام سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ صدام ، حسنی مبارک ، معمر قذافی جیسوں سے عبرت لو جنہوں نے زندگی بھر سامراجی طاقتوں کی غلامی کی پھر انہیں کے ہاتھوں ذلت کی موت مارے گئے جس قوم کا تم خوں بہا رہے ہو یہ خون ہر دور میں یزیدیت اور فرعونیت کیلئے دریائے نیل ثابت ہوتا ہے۔
مجلس علماء ہند کے جوائنٹ سکریٹری مولانا جلال حیدر نقوی نے میمورنڈم پڑھا اور حاضرین نے نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے ان مطالبات کی پر زور تائید کی،انہوں نے حاضرین اور علماء کا شکریہ ادا کیا
اس موقع پر دہشت گردی مخالف نعرے لگائے گئے اور گڑھ چڑولی نکسلی حملہ شہید ہوئے کے احترام میں ایک منٹ سکوت اختیار کیا گیا۔
عوام اور مومنین کی کثیر تعداد کے ساتھ علماء کرام بھی بڑی تعداد میں احتجاج میں شامل تھے ۔ مولانا مہدی حسن، مولانا طالب حسین زیدی ، مولانا حیدر مہدی کریمی، مولانا مرزا عرفان علی، مولانا مرزا اظہر عباس، مولانا صادق حسینی، مولانا راجانی، مولانا محسن زیدی وغیرہ شریک رہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest