جناب عبدالرئوف بندھن کی سوانح ’’تقدیر‘‘ کی تقریب رونمائی

ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کے زیراہتمام موریشس کی ’’تقدیر‘‘ کا اجرا
سفیر اردو پروفیسر خواجہ اکرام الدین پوری دنیا میں اردو کی نمائندگی اور نت نئی دریافت کرتے رہتے ہیں: مشرف عالم ذوقی

ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کی جانب سے انڈیا انٹر نیشنل سینٹر میں ماریشس کے سابق صدر جمہوریہ جناب عبدالرئوف بندھن کی سوانح اور شخصیت پر مشتمل کتاب ’’تقدیر‘‘ کی تقریب رونمائی عمل میں آئی۔ یہ کتاب فرنچ اور انگریزی کے بعد اب اردو زبان میں منتقل کی گئی ہے اس اہم کام کا سہرا جناب عنایت حسین عیدن اور ان کی اہلیہ محترمہ ریحانہ صاحبہ کے سر جاتا ہے، جنھوںنے اردو میں ترجمہ کیا اور پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے ترتیب و تزئین کے مراحل سے گزار کر بندھن صاحب کو اردو کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا۔نیز انھوں نے تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ بہت ہی خوشی کا موقع ہے اہل اردو کے لیے اور ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کے لیے کہ موریشس کے سابق نائب صدر جمہوریہ کی زندگی پر مبنی کتاب اردو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔
عبدالرئوف بندھن صاحب ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ انھوں نے بیوروکریٹ، ڈپلومیٹ، منسٹر اور نائب صدرجمہوریہ کی حیثیت سے ملک و ملت کی بیش بہا خدمات انجام دیں۔ انھوںنے پوری زندگی انسانوں کی خدمت کی اور موریشس میں اردو زبان و ادب کے فروغ میں بہت ہی نمایاں رول ادا کیا۔عزت مآب جناب عبدالرئوف بندھن صاحب ان کی اہلیہ اسما بندھن ، عنایت حسین عید ن، ریحانہ عیدن اس کتاب کی تقریب رسم اجرا میں شرکت کے لیے موریشس سے تشریف لائے ۔ انھوںنے اپنے تجربات و خیالات کا اظہار اردو زبان بھی میں بڑے ہی جذباتی انداز میں کیااور ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور سفیر اردو پروفیسر خواجہ اکرام الدین اور دیگر ذمہ داران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دعائیں دیں۔
اس خوب صورت موقع پر سابق سفیر ہند برائے موریشس جناب انوپ کمار مدگل صاحب سابق صدر جمہوریہ عزت مآب جناب عبدالرئوف بندھن صاحب اور ان کی اہلیہ محترمہ اسما بندھن جناب عنایت حسین عیدن اور ان کی اہلیہ محترمہ ریحانہ صاحبہ اور جناب مشرف عالم ذوقی صاحب گروپ ایڈیٹر روزنامہ راشٹریہ سہارا نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
جناب انوپ کمار مدگل صاحب سابق سفیر ہند برائے موریشس نے اپنے خطاب میں کہا کہ موریشس کے قیام نے کثرت میں وحدت اور جمہوریت کا بہترین سبق دیا اور ذہن و فکر کو مکمل کردیا اور وہاں کی تہذیب و ثقافت نے بے حد متاثر کیا۔نیز موریشس کی جمہوریت کی ایک الگ پہچان ہے۔ پروفیسر انور پاشا نے کہا کہ جمہوری رہنمائوں کو عوام سے جتنا قریب ہونا چاہیے تھا اس کی صحیح تصویر موریشس میں دیکھنے کو ملتی ہے اور جناب عبدالرئوف بندھن صاحب موریشس کے جمہوری نظام کے معمار ہیں۔موریشس اور ہندوستان کی تہذیبی و ثقافتی مماثلت کے باعث اس کو چھوٹا ہندوستان بھی کہا جاتا ہے۔یہاں کی آب و ہوا میں ہندوستان کا رس شامل ہے۔ مشہور فکشن نگار اور راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر جناب مشرف عالم ذوقی صاحب نے کہا کہ موریشس نہ صرف منی ہندوستان ہے بلکہ وہ مکمل بھوجپوری ہے۔ نیز ہند وموریشس کے قدیم ترین رشتے کو یاد کیاکہ موریشس کے خوب صورت جزیرہ کو ہندوستان کے مزدوروں نے اپنے خون و پسینہ سے آباد کیا۔واضح رہے کہ اس پروگرام میں پروفیسر سید اختر حسین ، صدر انسٹی انٹیوٹ آف انڈو پرشین اسٹڈیز، پروفیسر انور پاشا، سابق چیئر پرسن ہندوستانی زبانوں کا مرکز جواہرلال نہرویونیورسٹی ، ڈاکٹر توحید خان، ڈاکٹر سمیع الرحمن، ڈاکٹر خالد مبشر ڈاکٹر عبدالحی، ڈاکٹر شاہد ڈاکٹر سجاداختر ڈائریکٹر برائون بک پبلی کیشنزکے علاوہ کثیر تعداد میں دہلی کی جامعات سے ریسرچ اسکالروں نے شرکت کی۔ جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شفیع ایوب نے انجام دیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest