جموں و کشمیر میں اسمبلی تحلیل کرنے کامعاملہ

محبوبہ مفتی عدالت نہیں جائیں گی، کہا: ہمیں عوامی عدالت میں جانا چاہیے

سری نگرـ:ابھی گزشتہ دنوں جب جموں و کشمیر عظیم اتحاد کا پلیٹ فارم تیار ہوا تھا، یعنی کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی ایک ساتھ ہوکر حکومت سازی کا فیصلہ کیا تھا، اس وقت گورنر نے اچانک جو فیصلہ لیا تھا، اسکو تمام لوگوں نے جمہوریت کا قتل بتایاتھا۔ لیکن اسکے بعد پھر ہنگامہ آرائی ہوئی، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس سلسلے میں کچھ لوگوں نے کہا تھا کہ محبوبہ مفتی کو عدالت جاناچاہئے تھا۔ خیر، جو ہوا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی(پی ڈی پی) صدر محبوبہ مفتی نے گورنر ستیہ پال ملک کی جانب سے قانون ساز اسمبلی کو اچانک تحلیل کرنے کے فیصلے پرعدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے سے متعلق سامنے آنے والی تجاویز پر کہا ہے کہ میری رائے یہ ہے کہ ہمیں عوامی عدالت میں جانا چاہیے جو سب سے بڑی عدالت ہے۔محترمہ مفتی نے پیر کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ‘خیرخواہوں نے گورنر کی جانب سے اسمبلی کو تحلیل کرنے کے حوالے سے میرے سامنے عدالت جانے کی مخلصانہ تجاویز پیش کی ہیں۔ پی ڈی پی ، این سی اور کانگریس ریاست کے مفادات کی خاطر ایک جُٹ ہوگئی تھیں۔ میری رائے ہے کہ ہمیں عوامی عدالت میں جانا چاہیے جو سب سے اعلیٰ فورم ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ محبوبہ مفتی کی عوامی عدالت میں جانے سے مراد انتخابات میں شمولیت ہے۔ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس نے گزشتہ ماہ ریاست میں منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخا بات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ دونوں جماعتوں کا مطالبہ تھا کہ مرکزی سرکار پہلے دفعہ ۳۵؍ اے پر اپنا موقف واضح کرے اور پھر وہ کسی انتخابی عمل کا حصہ بنیں گی۔ تاہم مرکزی سرکار کا معاملہ پر اپنا موقف واضح کرنا ابھی باقی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *