جامعہ تحریک کا 40 واں دن ۔ہم یوگی نہیں بھگت سنگھ کے بھگوے کو سلام کرتے ہیں

سیاسی تجزیہ کار تحسین پوناوالا، آج تک کے نیوز اینکر ناصر حسین قریشی، اسلامک اسکالریاسین اخترمصباحی ، اکھل بھارتیہ وکیل سنگھ کے سکریٹری پی وی سریندرناتھ نے کی اظہار یکجہتی
نئی دہلی :جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ ومقامی افرادکے ذریعہ سی اے اے ،این آرسی اور این پی آرکے خلاف شروع کی گئی تحریک آج 40 ویں دن بھی اسی جوش وخروش کے ساتھ جاری رہی جس طرح سے پہلے دن سے چلی آرہی ہے ۔ آج بھی لوگوں نے جائے تحریک پر ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوکر اپنے اتحاد وقوت کا مظاہر کیا اور یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ اگر سرکار کو لگتا ہے کہ ہم تھک کر بیٹھ جائیں گے یا کمزور پڑ جائیں گے یہ اس کی خام خیالی ہے ۔آج تحریک میں جہاں آس پاس کے لوگوںاور طلبہ نے اپنی موجودگی درج کرائی وہیں دوردراز سے آئے ہوئے طلبہ وشہریوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی ۔حسب معمول آج بھی بہت سی سماجی وسیاسی شخصیات نے تحریک میں شرکت کی اور اظہار یکجہتی کا مظاہر ہ کیا۔دوردراز اور قرب وجوار سے آئے سماجی وسیاسی شخصیات میں خاص طور پر سماجی کارکن اور سیاسی تجزیہ کار تحسین پوناوالا، آج تک کے نیوز اینکر ناصر حسین قریشی، میرٹھ سے آئے وکیل عبدالواحد، اسلامک اسکالریاسین اخترمصباحی ، اکھل بھارتیہ وکیل سنگھ کے سکریٹری پی وی سریندرناتھ قابل ذکر ہیں۔
سماجی کارکن وسیاسی تجزیہ کار تحسین پوناوالا نے بھی مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی اور شاہ بار بار کہہ رہے ہیں کی سی اے اے اور این آر سی دو الگ الگ چیزیں ہیں مگر دونوں کانفاذ ہی حقیقت ہے۔ سرکار گاندھی جی کو مہرہ بنا کر استعمال کر رہی ہے اور گاندھی جی کے پرانے بیانو ںکو توڑ موڑ کر پیش کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں بھلے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی اکثریت میں ہو مگر ان کی غیر آئینی پالیسیوں اور قوانین کو عوام تسلیم نہیں کرین گے ، جو لوگ تحریک چلا رہے ہیں ان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے بلکہ یہ لڑائی آئین اور آئینی بنیادوں کو بچانے کی ہے۔ ان کایقین ہے کہ عدالت عظمی اس سیاہ قانون کو ضرورغیر آئینی قرار دے گا۔
آج تک کے نیوز اینکر ناصر حسین قریشی نے کہا کہ وزیراعظم کو یہاں مظاہرین سے مل کر چرچا کرنی چاہیے اور یقین دلانا چاہیے کی این پی آر اور این آر سی نافذنہیں ہوگا اور مجھے لگتا ہے کہ لوگ وزیراعظم کی بات پریقین بھی کریںگے۔ انہوں نے کہا کی ایک بہت بڑا گروہ بھرم اور دراڑ پھیلانے میں لگا ہے مگر ہم محبت پھیلائیں گے اورجیتیں گے ۔
میرٹھ سے آئے وکیل عبدالواحد نےمظاہرین کوخطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بڑی بات ہے کی ہم حکومت کے خلاف لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ہم ذاتی واداور یوگی والی بھگوا کے مخالف ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ ہم بھگت سنگھ کے بھگوے کو سلام کرتے ہیں۔
دہلی یونیورسٹی کے طلبہ لیڈر اعجاز علی جعفری نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرکار کہہ رہی ہے یہ پورا معاملہ صرف مسلمانوں کا ہے مگر ان لوگوں نے پہلے بھی جھوٹے وعدے کیے ہیں اور یاد دلایا کی نوٹ بندی کے وقت وزیراعظم نے 50دن مانگے تھے کی کالا دھن واپس لے آئیںگے اور ناکام ہونے پرپر جو چاہے سزا دے دینا، سبھی لوگوں نے ان پریقین کیا مگر صرف دھوکہ ملا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اہلیت بنا لی ہے کی پارٹی میں ہونے کے لیے غنڈہ ہونا ضروری ہے، اور جتنا بڑا غنڈہ اتنا بڑا عہدہ۔
انکے علاوہ دیگر مقررین میں پیس پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر محمد ایوب، کارکن ابھنو سنہا اورجامعہ کے طلبہ لیڈر عاقب رضوان، مبشر بدر وغیرہ رہے۔پچھلے 21 دنوں سے لگاتار چلی آ رہی ستیاگرہی (رلے) بھوک ہڑتال آج بھی جاری رہی۔ جس میں روز کی طرح جامعہ کے طلبہ وطالبات بھی شامل رہے۔جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی کی جانب  سے ‘راشٹرویاپی سنیکت پردرشن کے اعلان ’ کے تیسرے دن دیش بھر کے مختلف مقامات پر ‘ایک روزہ بھوک ہڑتال’ کا انعقاد کیا گیا۔ ‘کال فار ریسسٹینس’ عنوان کا یہ اعلان ایک ہفتہ کو ملک کے مختلف مقامات پرمختلف کاموں کے ذریعہ سے ہوگا۔جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی (JCC) و ایلومنائی ایسوسی ایشن (AAJMI ) کے ممبران نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے واپس لیے جانے تک یہ مظاہرہ جاری رہیگا اور اس میں ہمیں سماج کے سبھی طبقوں کی حمایت مل رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *