جامعہ میں ہنگامہ۔باہر سے بلائے غنڈے ۔طالب علم ذخمی ۔جانئے پوری کہانی

ایک بار پھر مسلم اداروں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے اور مسلم طالب علموں کو پڑھائی چھوڑ کر احتجاج پر لگادیا گیا ہے اور ظاہر ہے یہ جامعہ اور علی گڑھ کے سوا کون سے ادارے ہوسکتے ہیں جامعہ میں کئی روز سے ہنگامی صورت حال ہے جب پانچ طالب علموں کو معطل کردیا گیا تھا اور وجہ بتائو نوٹس جاری کیا گیا تھا ۔طلبا اس کے خلاف احتجاج کر رہے تھےکہ منگل کے روز دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے ا طلباء نے الزام لگایا کہ انتظامیہ کی خدمات حاصل کرنے والے 15-20 ‘باؤنسروں’ نے ان پر حملہ کیا جب وہ پانچ طلبا کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان بدمعاشوں نے بہت سی خواتین طالبات کے ساتھ بدتمیزی کی اور ہراساں کیا۔ شاہ عالم نام کا طالب علم ذخمی ہے جسے ہولی فیملی میںداخل کرایا گیا ہے۔جا معہ وائس چانسلر اور ور انتظامیہ نے باؤنسرز کو بلایا جنہوں نے آج جامعہ میں سیکڑوں مظاہرین طلبا کو پیٹا اور زخمی کردیا۔ “یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے بتایا کہ یہ سب یونیورسٹی گارڈز کی موجودگی میں ہوا ہے ، لیکن وہ خاموش کھڑےرہے ۔یونیورسٹی انتظامیہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے طلبا پر V-C کے دفتر جانے والے دروازے روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔ یونیورسٹی کے ترجمان احمد عظیم نے بتایا ، “آج ، کچھ طلباء تنظیموں کے تعاون سے طلباء کے ایک گروپ نے وائس چانسلر آفس کا گھیراؤ کیا ، دفتر کے احاطے کا محاصرہ کیا اور تمام خارجی دروازوں کو بلاک کردیا۔”عظیم نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے سینئر اساتذہ اور عہدیداروں کے ایک گروپ نے مشتعل طلباء سے ملاقات کی اور صبر سے ان کی باتیں سنیں ور انتظامیہ کے احاطے میں اپنا محاصرہ ختم کرنے کی درخواست کی۔
یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ طلباء نے نوٹس کا جواب دینے کی بجائے اس کی کاپیاں جلادیں اور انضباطی کمیٹی کا بھی بائیکاٹ کیا جہاں انہیں اپنا کیس پیش کرنے کا موقع ملاتھا ۔طالب علموں کا الزام ہے کہ یونیورسٹی کی موجودہ وائس چانسلر اسے اسرائیل کا اڈہ بنا رہی ہیں ۔طالب علموں نے تین مانگیں رکھی ہیں جسمیں شوکاز نوٹس واپس لینا ۔یونیورسٹی میں کسی اسرائیلی ایجنٹ کو داخلہ نہ دینا اور کسی بھی پروگرام میں کوئی اسرئیلی نہیں آئگا ،تیسرے گارڈز کی معطلی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram