جامعہ ہوا بند۔احتجاج ختم۔پولیس لاٹھی چارج پر اٹھے سوال

جامعہ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف یونیورسٹی بند پرزور احتجاج کے بعد ختم ہوگیا یونیورسٹی میں پانچ جنوری تک چھٹیوں کا اعلان کردیا گیا ہے اس سے ایک دن پہلے کمپلیکس میںاحتجاج ہوا تھا جس کو پولیس کی مداخلت نے پر تشدد بنادیا تھا اور ابھی تک ذخمی طالب علم ہاسپٹل میں ہیں جسمیں سے کچھ کی حالت ابھی بھی سیریس ہے۔ انتظامیہ نے طلبا کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگون نے تشدد کو بھڑکایا اور پولیس کے ساتھ جھڑپ کی وہ باہری تھے ، طلبہ نہیں تھےجامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ ، اساتذہ اور سابق طلبہ نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پرامن احتجاج کرنے کیلئے کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون بھید بھاو سے بھرا ہوا ہے ۔اسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائگا۔یونیورسٹی کے ایک 25 سالہ طالب علم نہال اشرف نے کہا کہ امتحان سر پر تھا ، لیکن اس کو رد کردیا گیا ۔ اگر ملک میں کچھ غلط ہوتا ہے تو جامعہ اپنی آواز اٹھائے گا ۔ ہم نے کلاس اور امتحانات کا بائیکاٹ کیا ہے ، ہم لوگ اپنے حقوق کیلئے بار بار مارچ نکالتے رہیں گے ۔ابھی جامعہ میں امتحانات بھی ۔ملتوی کردئے گئے ہیں ۔ادھر پولیس لاٹھی چارج پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ پولیس نے طالب علموں کو اتنی بے دردی سے کیسے مارا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram