عرب مؤرخین نے ہندوستانی ثقافت کو نمایاں مقام دیا ہے

’’ہندوستان، عرب مؤرخین کی نظر میں‘‘ کے موضوع پر شعبۂ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں دو روزہ قومی سیمینار کا افتتاح

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے دیار میر تقی میر میںشعبۂ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ ،آل انڈیا ایسوسیشن آف عربک ٹیچرس اینڈ اسکالرس اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی جانب سے ـ’’ہندوستان عرب مؤرخین کی نظر میں ‘‘ کے زیر عنوان دو روزہ قومی سیمینار کا افتتاح عمل میں آیا ۔پروگرام کی صدارت عراقی سفارت خانہ کے کلچرل کونسلر پروفیسر ڈاکٹر مشتاق شاکر الشیبانی نے کی ، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف آرٹ کے سابق ڈین پروفیسر سید کفیل احمد قاسمی نے کلیدی خطبہ پیش کیا ۔ اس کے شعبۂ عربی کے استاذ ڈاکٹر محفوظ الرحمن کی کتاب ’’ فن المسرحیۃ فی الادب الاردی۔نشاتہ و تطورہ‘‘ نیز حیدرآباد عثمانیہ یونیورسٹی کے استاذ ڈاکٹر محمد فضل اللہ شریف کی تحقیق ’’الحکم العرفانیہ فی الاقتباسات القرآنیہ ‘‘ کا رسم اجراء عمل میں آیا۔پروگرام کا آغاز ڈاکٹر عظمت اللہ ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ اس کے بعد پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر فوزان احمد نے سیمینار کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے موضوع کا تعارف پیش کیا نیزہندوستان میں عربی زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے لئے آل انڈیا ایسوسیشن آف عربک ٹیچرس اینڈ اسکالرس کی سرگرمیوں کا ایک جائزہ پیش کیا ۔ ا فتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے صدر شعبۂ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ اور صدر آل انڈیا ایسوسیشن آف عربک ٹیچرس اینڈ اسکالرس پروفیسر حبیب اللہ خان نے عراقی کلچرل کونسلر پروفیسر ڈاکٹر مشتاق شاکر الشیبانی ،پروفیسر کفیل احمد قاسمی اور پروفیسر زبیر احمد فاروقی نیز ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیز سے تشریف لائے اساتذۂ کرام ، مہمانان گرامی اور اسکالرس کا استقبال کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ان کا خیر مقدم کیا۔ ، انھوں نے کہا آج کا دن ہمارے لئے کئی معنوں میں ایک تاریخی دن ہے ، آل انڈیا ایسوسیشن آف عربک ٹیچرس اینڈ اسکالرس کی جانب سے یہ پہلا سیمینار اس کیمپس میں منعقد ہورہا ہے اور کئی دہائیوں کے بعد کوئی عراقی ڈپلومیٹ شعبۂ عربی کے کسی سیمینار کی صدارت کر رہا ہے ۔انھوں نے کہا زمانۂ قدیم میں ہندوستانیوں نے ایک مقام پیدا کیا اور عرب مؤرخین نے انھیں اپنی تاریخ میں ایک مقام دیا آج ضرورت ہے کہ آج کا ہندوستان بھی وہ مقام پیدا کرے کہ مستقبل کا عرب مؤرخ اسے اپنی تاریخ میں جگہ دے۔کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف آرٹ کے سابق ڈین پروفیسر کفیل احمد قاسمی نے عرب وہند تعلقات کے آغاز و ارتقاء ،نیز ہندوستانی تہذیب و ثقافت ، علوم وفنون ، ادب و فلسفہ ، نیز حکمت سے متعلق عرب مؤرخین کی تحریروں کا جائزہ لیا ۔پروفیسر مشتاق شاکر الشیبانی نے اپنے صدارتی خطاب میں ہندوستان سے اپنے خاص تعلق خاطر کا ذکر کرتے ہوئے اس سیمینار میں اپنی شرکت کوقابل فخر بتایا انھوں نے کہا اس پروگرا م میں شرکت کے لئے میں تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور بالخصوص شعبۂ عربی کے صدر پروفیسر حبیب اللہ خان کا جن سے ہمارا ایک خاص لگاؤ ہے ۔شکریہ کے فرائض آل انڈیا ایسوسیشن آف عربک ٹیچرس اینڈ اسکالرس کے جنرل سکریٹری پروفیسر رضوان الرحمن نے ادا کئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram