شعرو ادب کی دنیا کا ایک نمایاں نام جمیل اختر شفیق .سیف الاسلام مدنی

شعرو شاعری، ادبی نثر، ہر زمانے اور ہر دور میں مسلم رہی ہے، اہل ذوق نے صدیوں شعرو سخن کے ذریعہ علم و ادب کی قندیلیں روشن کی ہیں، جو نہ صرف احساسات کو سکون فراہم کرنے والا دوست ہے، بلکہ اپنے ہر دور میں معاشرتی حالات کے نشیب و فراز کو سمیٹ کر اور جذب کرکے، عہد نو کی صحیح تشکیل کا سامان بھی ہے،شاعری کی تاریخ بہت قدیم ہے،بر صغیر ہندو پاک میں بھی صدیوں قبل سے شعرو سخن پر، اپنے زمانے کے ممتاز، اور قابل فخر شعراء اردو اور فارسی میں، طبع آزمائی کرتے رہے ہیں،علامہ اقبال، جگر مرادآبادی، اکبر الٰہ بادی،منجملہ انکے بیسوں شعراء ایسے ہیں جنکی شاعری پر اہل سخن کو ناز ہے،اور جنہوں نے شعرو ادب کے ذریعہ اپنے انمٹ نقوش چھوڑیں ہیں،
ابھی حال میں ہی مشہور زمانہ شاعر کلیم عاجز گزرے ہیں جنہوں نے اردو شاعری میں ایک نئی راہ متعارف کرائی، اور روایاتی انداز سے ہٹ کر شاعری کی کئی نسلیں اردو زبان و ادب کے حوالے سے انکی شاعری سے لطف اندوز ہوتے رہینگے باذوق شاعر کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے قلم سے نکلے ہوئے لعل و گہر کو آئندہ نسلوں کے لئےمشعل راہ بنانا چاہتا ہے
موجودہ دور میں ایک ایسے ہی، صاحب علم و فن باذوق شاعر جناب جمیل اختر شفیق ہیں، جو میرے اچھے دوست بھی ہیں موصوف جواں سال شاعر ہیں، انہوں نے اپنے لئے اسی صنف کا انتخاب کیا ہے،* وہ اپنے شعری کلام کے ذریعہ ملک بھر میں غیر معمولی شہرت کے حامل ہیں، حال ہی میں انکے شعری کلام کا مجموعہ دھوپ کے مسافر منظر عام پر آئی ہے، جس میں موصوف کے قلم سے نکلے ہوئے، گوہر موجود ہیں، یہ کتاب میرے پاس بھی آئی اس کتاب کے مطالعہ کے بعد معلوم ہوا، کہ موصوف کے کلام میں بلا کی روانی، الفاظوں کا تسلسل، مضامین کا ربط، حسن انداز، قافیہ اور ردیف سب ہی لاجواب ہیں
کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں

کھڑا ہوں جہاں خود سے چل کے آیا ہوں
میں دشمنوں کی صفوں سے نکل کے آیا ہوں
نہ جانے کیسے اسے مل گئی میری خوشبو
میں اسکے شہر سے رستہ بدل کے آیا ہوں

ہنر کا اپنے کرشمہ دکھاکے چھوڑےگا
وہ میری موت پہ خوشیاں مناکے چھوڑےگا
میں اپنے دوست کی فطرت سے خوب واقف ہوں
ملےگا مجھ سے تو الجھن بڑھاکے چھوڑےگا

زمانہ تمکو ستائے تو پاس آجانا
کہیں بھی چین نہ آئے تو پاس آجانا
ہماری یاد جو گمنام راستوں پہ کبھی
قدم قدم پہ رلائے تو پاس آجانا
ان اشعار کی معنیٰ خیزی وہ حضرات خوب سمجھ سکتے ہیں جو اس وادی ادب کے نشیب و فراز سے واقف ہیں، کس طرح عرق ریزی اور جانفشانی کے بعد ایک غزل وجود میں آتی ہے شاعر کہتا ہے
کتنی راتوں کا لہو پی کے نکھرتی ہے غزل
کیسے لکھتے ہیں ہم اشعار تمہے کہا معلوم
اہل ذوق اس کتاب دھوپ کے مسافر کو خریدیں اور پڑھیں اور جمیل اختر شفیق کو دعائیں دیں کہ انہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئےکار لاکر عالم ادب کی تشنگی کو کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش کی ہے
\

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *