سابق مرکزی وزیرجئے پال ریڈی چل بسے ،جانیں کچھ خاص باتیں

حیدرآباد:سابق مرکزی وزیر و کانگریس کے سینئر لیڈر جئے پال ریڈی علاج کے دوران اتوار کی شب حیدرآباد کے ایک اسپتال میں چل بسے۔ان کی عمر77برس تھی۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ریڈی کو شدید بخار پر20جولائی کو ایشین انسٹی ٹیوٹ آف گیسٹروانٹرولوجی میں داخل کروایا گیا تھا جہاں علاج کے دوران وہ چل بسے۔ایس جئے پال ریڈی کی پیدائش16جنوری1942کو تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ کے چندورمنڈل کے نرمیٹا گاوں میں ہوئی تھی تاہم ان کا اصل تعلق محبوب نگر ضلع کے مادُگلا سے ہے۔ان کی شادی 7مئی 1960کو لکشمی سے ہوئی تھی۔ریڈی18ماہ کی عمر سے ہی پولیو کا شکار تھے اور ان کو چلنے میں دشواری ہوتی تھی۔انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے ایم اے کیا تھا۔سابق مرکزی وزیر ایک زراعت کے ماہر تھے اور وہ اپنا فاضل وقت مطالعہ میں صرف کرتے تھے۔انہوں نے کئی ممالک کا دورہ بھی کیاتھا۔وہ 15ویں لوک سبھا کے رکن اور سائنس و ٹکنالوجی کے وزیر بھی تھے۔انہوں نے تلنگانہ کے حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ کی نمائندگی کی تھی۔انہوں نے 1998میں مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات کے طورپر آئی کے گجرال کی حکومت میں خدمات انجام دی تھی۔1999میں 21سال بعد وہ کانگریس میں واپس ہوئے۔2004میں وہ مریال گوڑہ حلقہ سے 14ویں لوک سبھا کے لئے منتخبہوئے اور ان کو وزیراطلاعات و نشریات اور وزیر شہری ترقی یو پی اے Iمیں بنایاگیا تھا۔2009میں وہ 15ویں لوک سبھا کے لئے چیوڑلہ حلقہ سے منتخب ہوئے اور وزیر پٹرولیم و قدرتی گیس کے طورپر خدمات انجام دیں۔ریڈی نے 29اکتوبر2012سے 18مئی 2014تک وزیر ارضی سائنس و سائنس و ٹکنالوجی کے وزیر کے طورپر خدمات انجام دیں۔اپنے سیاسی کیرئیر کے دوران ریڈی پانچ مرتبہ لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے، دو مرتبہ راجیہ سبھا کے رکن بنائے گئے اور چار مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ان کی موت پر کانگریس پارٹی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا”ہمیں جئے پال ریڈی کے چل بسنے پر صدمہ پہنچا ہے۔وہ کانگریس کے ایک سینئر رہنما، انہوں نے پانچ مرتبہ لوک سبھا کے رکن، دو مرتبہ راجیہ سبھا کے رکن اور چارمرتبہ ایم ایل اے کے طورپر خدمات انجام دی تھیں۔ہمیں امید ہے کہ ان کے خاندان اور دوست، دکھ کی اس گھڑی میں اس صدمہ کو برداشت کرنے کی ہمت پائیں گے“۔تلنگانہ کانگریس کے صدر اتم کما رریڈی نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا”تلنگانہ کے عظیم فرزند جئے پال ریڈی کی موت پر گہرا دکھ اور صدمہ پہنچا۔ان کی موت میرے لئے اور انڈین نیشنل کانگریس کے لئے ایک دھکہ ہے۔ہم ان کی کمی کو محسوس کریں گے“۔تلنگانہ کی حکمران جماعت ٹی آرایس کے کارگزار صدر کے تارک راما راو جو وزیراعلی کے چندرشیکھر راو کے فرزند بھی ہیں نے کہا ”سینئر لیڈرو سابق مرکزی وزیر جئے پال ریڈی کے ارکان خاندان اور دوستوں سے میری تعزیت۔جئے پال ریڈی آج صبح کی اولین ساعتوں میں چل بسے“۔یو پی اے 2حکومت کی کابینہ میں 28اکتوبر2012کو ہوئی ردوبدل کے بعد ریڈی پٹرولیم و قدرتی گیس کے وزیر سے سائنس وٹکنالوجی کے وزیر بنائے گئے تھے۔وزارت تیل نے سی اے جی رپورٹ 2011کے مطابق گیس کی پیداوار میں کمی پر مکیش امبانی کی کمپنی کو 7000کروڑ روپئے کاجرمانہ عائد کیا تھا۔ساتھ ہی وزارت تیل نے بھارت پٹرولیم میں ان کی کمپنی کی 7.2 بلین کے شراکت کو بھی منظوری نہیں دی تھی۔اپوزیشن جماعتوں بشمول بی جے پی، ایس پی اور عاپ نے کہا تھا کہ کارپوریٹ گھرانوں بالخصوص ریلائنس گروپ آف انڈسٹریز کے دباو میں آکر ہی ان کو اس وزارت سے ہٹایاگیا ہے تاہم انہوں نے ان دعووں کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ نئے قلمدان کو سمجھنا چاہتے ہیں۔جئے پال ریڈی 1969سے 1984تک کلواکرتی اسمبلی حلقہ سے متحدہ اے پی کی اسمبلی کے رکن تھے تاہم انہوں نے ایمرجنسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پارٹی چھوڑ دی تھی اور 1977میں جنتاپارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔ریڈی نے اندراگاندھی کے خلاف 1980میں حلقہ لوک سبھا میدک سے ناکام مقابلہ کیاتھا۔وہ 1985سے 1988تک جنتا پارٹی کے جنرل سکریٹری بنائے گئے تھے۔وہ پانچ مرتبہ لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے۔1984میں تلگودیشم سے اتحاد کے ذریعہ وہ 8ویں لوک سبھا میں منتخب ہوئے تھے۔1988میں تلگودیشم کے خلاف لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے۔2004میں مریال گوڑہ اور پھر 2009میں بھی اسی حلقہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر وہ لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے۔وہ 1990تا 1996اور1997تا1998دو مرتبہ راجیہ سبھا کے رکن رہے۔سابق مرکزی وزیر نے 1991سے 1992تک راجیہ سبھا میں اپوزیشن رہنما کی ذمہ داری بھی ادا کی تھی۔1999تا2000کے درمیان ان کو مراعات کمیٹی کا صدرنشین مقرر کیاگیا تھا۔انہوں نے 1997تا 1998میں آئی کے گجرال اور 2004سے منموہن سنگھ کی کابینہ میں خدمات انجام دی تھیں۔1998میں بہترین پارلیمنٹرین کا ایوارڈ بھی ان کوملا تھا۔ان کا تعلق جنوبی ہند سے ہے اور وہ کم عمر سیاستداں تھے جن کو یہ ایوارڈ ملا تھا۔ان کی لاش کو حیدرآباد کے جوبلی ہلز میں واقع ان کی قیام گاہ منتقل کیاگیا۔کانگریس کے ایم پی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کانگریس کی طرف سے ان کی قیام گاہ پہنچ کر ان کو خراج پیش کرنے والی پہلی اہم شخصیت تھے۔کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ان کی لاش کو دیکھ کر روپڑے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest