اسلام امن اور رواداری کا مذہب ہے:شفیق الرحمٰن

نئ دہلی:(نامہ نگار)سماجی کارکن شفیق الرحمٰن نے آج کہا کہ اسلام،قرآن اور محمد ﷺ نے ہمیشہ رواداری کی حمایت کی ہے۔اسلام کے ماننے والے کو سختی سے اسے اپنانے کی ہدایت اور سیکھ دی ہے تاکہ سماج میں امن و شانتی اور بھائ چارہ بنا رہے۔اکثر مذہب،ذات،معاشی حالت،تہذیب و ثقافت رنگ و نسل اور طور طریقے میں فرق ہونے کی وجہ سے سماج ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔جس کی وجہ سے عدم تحفظ کااحساس پیدا ہو جاتا ہے۔یہاں تک کہ جانور اور پرندے بھی اپنی ذات کے ساتھیوں کے ساتھ مکمل رواداری کے ساتھ رہتے ہیں اور انسانیت کو رواداری کا پیغام دیتے ہیں۔ شفیق الرحمٰن نے کہا کہ رواداری کی متعدد مثالیں خود محمد ﷺ نے اپنے برتائو کے ذریعے پیش کی ہیں۔ایک دفعہ محمد ﷺ عصر کی نماز کے بعد مسجد نبویﷺ میں صحابہؓ کےہمراہ بات چیت میں مشغول تھے کہ اچانک پچاس ساٹھ افراد پر مشتمل عیسائیوں کا ایک گروہ جس کی قیادت ایک پادری کر رہا تھا ۔وہ گروہ بغیر کسی اجازت کے مسجد میں داخل ہو گیا اور عیسائی مذہب کے طریقے سے عبادت کرنے لگا۔یہ دیکھ کر صحابہؓ غصے میں آ گئے اور اس عیسائی گروہ کو عبادت کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔لیکن محمد ﷺ نے صحابہؓ کو ایسا کرنے سے روک دیا اور انہیں بلا روک ٹوک عبادت کرنے کی اجازت دے دی۔جب عیسائیوں نے اپنی عبادت مکمل کی تو محمد ﷺ نے ان سے بڑی رواداری سے گفتگو فرمائ۔محمد ﷺ نے صحابہؓ کو حکم دیا کہ وہ کسی بھی گرجا گھر کو تباہ نہیں کریں گے۔اس کے ساتھ ساتھ محمد ﷺ نے عیسائیوں کو اپنے مذہب پر آزادی سے عمل کرنے کی اجازت دی۔محمد ﷺ کے ذریعہ دکھائی گئ اس سوجھ بوجھ،رواداری اور بھائی چارہ والی ایسی سوچ کی ابھی بہت ضرورت ہے۔دنیا بھر کی مسجدیں ایسی جگہ بن گئ ہیں جہاں مسلمان اسلام تعلیم حاصل کرتے ہیں۔لیکن گذشتہ کچھ برس سے یہ دیکھا گیا ہیکہ مسلم نوجوان جو دینی تعلیم کی طرف متوجہ رہے ہیں ان کے اندر کچھ کشمکش کی کیفیت پائ جا رہی ہے۔جس کی وجہ یا تو سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ہے یا پھر مسجدوں میں تقریر کرنے کے روایتی طریقے۔جدید دور میں نوجوان انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع سے علم حاصل کررہے ہیں۔وہ دینی تعلیمات اور دین سے متعلق دیگر علوم کو حاصل کرنے کیلئے سوشل میڈیا کو ذریعہ بناتے ہیں۔سوشل میڈیا انہیں بات چیت کرنےاور اظہار خیال کیلئے سب سے اچھا پلیٹ فارم لگتا ہے۔یہ بھی دیکھا گیا ہیکہ مسلم نوجوان مسجدوں میں جاکر علمائوں کی دیکھ ریکھ میں مذہبی فرائض ادا کرنے میں کمی آئ ہے۔اس کے مقابلے میں دینی علوم کےحصول کیلئےجدید ٹکنالوجی کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔یہ اس بات سے بھی ثابت ہوتا ہیکہ بیشتر شدت پسند اور دہشت گرد گروپ نوجوانوں کو انٹر نیٹ کے مختلف طریقوں سے جس میں ڈارک ویو بھی شامل ہے اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔مسلم اسکالروں کو چاہئے کہ نوجوانوں کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے ان کے مذہبی اور روحانی علم میں مکمل عقیدہ پیدا کرنے کیلئے مسجدوں کے رول پر دھیان دے۔آج دنیا بھر کی مختلف مسجدیں نوجوانوں سے مخاطب ہونے کیلئے انٹر نیٹ سمیت دیگر جدید ٹکنالوجی کا استعمال کر رہی ہیں اور مذہب کے تئیں ان کے لگائو اور عقیدے کا جگا رہی ہیں۔بہرحال مسجدوں کو ملک کے نوجوانوں کو شدت پسندی سے بچانے کیلئے آگے آنا ہوگا تاکہ تشدد اور نفرت پر لگام لگائ جا سکے۔مسجدیں مسلمانوں کے تعلیمی معیار کو بھی بلند کر سکتی ہیں۔مسجدیں جدید تعلیم کا بھی ذریعہ بن سکتی ہیں۔اگر ایسا ممکن ہو تو جمہوریت کیلئے خطرناک نظریہ سے آسانی سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔مسجد کے اماموں کو بھی چاہئے کہ وہ مسلم نوجوانوں کو جدید تعلیم اور سوچ سے جوڑیں۔ شفیق الرحمٰن نے مزید کہا کہ محمد ﷺ نے سماجی رواداری کی تعلیم دی ہے۔محمد ﷺ نے فرمایا ہے۔ایمان والے کو کسی مذہب کی تنقید نہیں کرنی چاہئے۔صحیح راستے کے بارے میں سوچنا اور اس پر عمل کرنا اچھے انسان کی خوبی ہے۔غریب اور ضرورت مندوں کی چپکے سے مدد کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest