جہاز روکے تو اسرائیل کو سخت جواب دیا جائے گا، ایران

ایرانی وزارت دفاع نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی بحریہ نے اس کے تیل کے جہازوں کے خلاف کوئی کارروائی کی، تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا
ایرانی وزارت دفاع کی جانب سے یہ ردعمل اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیلی بحریہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں کے نفاذ کے لیے ایرانی تیل کی اسمگلنگ کو روکنے کی خاطر ایرانی بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے سے نکلنے کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے خلاف دوبارہ سخت ترین پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر کہہ چکے ہیں کہ وہ ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک لانا چاہتے ہیں تاکہ ایران کو جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ میزائل پروگرام سے بھی باز رکھا جائے۔
گزشتہ ہفتے اسرائیلی بحریہ کے افسروں سے خطاب میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی تیل کی برآمد جاری رکھے ہوئے ہے، جسے روکنے کی کوشش کی جانا چاہیے۔ایرانی خبررساں ادارے ارنا نے وزیر دفاع عامر حاتمی کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی جہازوں کے خلاف کسی بھی اسرائیلی کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔ ایرانی وزیردفاع نے کہا کہ تہران کے پاس عسکری صلاحیت موجود ہے کہ وہ اسرائیلی مداخلت کا جواب دے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایسے کسی اقدام کی صورت میں بین الاقوامی برادری کو بھی اس کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔حاتمی نے کہا، ’’ایسی کوئی کارروائی قزاقی سمجھی جائے گی اور اسے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا، ’’ایرانی مسلح افواج کے پاس صلاحیت موجود ہے کہ وہ ملکی شپنگ لائن کا دفاع کر سکیں اور سپلائی لائن کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے بہترین انداز سے ردعمل ظاہر کریں۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest