علامہ اقبالؔ اور زبانِ اردو

اقبالؔ نے اردو زبان کو جس بلندی پر پہچایا وہ اقبالؔ سے قبل کسی شاعر کے بس کی بات نہیں تھی۔

کے۔ پی۔ شمس الدّین ترور کّاڈ

ڈاکٹر سرمحمد علامہ اقبالؔ اردو کے عظیم فلسفی شاعر ہیں۔ اقبالؔ شاعری نے اردو زبان و ادب میں ایک الگ مقام پیدا کیا ہے اس بات میں دورائے نہیں ہے کہ اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج میں علامہ اقبالؔ کا بہت بڑا حصّہ رہا ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ اردو کا شعری ادب علامہ اقبالؔ کے بناا دھورا ہے علامہ اقبالؔ پر جتنی تحقیقات ہوئی ہیں، جتنے سمینار اور کتابیں شائع ہوئی ہیں آج تک اردو کے کسی بھی شاعر یا ادیب پر ممکن نہیں ہو سکا ہے۔
اردو زبان کے یہ عظیم شاعر پنجاب میں پیدا ہوئے ان کی مادری زبان پنجابی تھی۔ ساری عمر وہ اپنے اہل خاندان اور خاص احباب سے پنجابی میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ جن لوگوں کو پنجابی سمجھ میں نہیں آتی صرف ان لوگوں سے اردو میں گفتگو کرتے تھے۔ اقبالؔ اپنے فلسفیانہ خیالات اور تخلیقی اظہار کے لیے اردو اور فارسی زبان کا استعمال کرتے تھے پنجابی مادری زبان والے اقبالؔ نے اوائل عمر ہی سے اردو اور فارسی دونوں زبانیں سیکھنا شروع کیں اور ان میں درجہ کمال حاصل کیا کہ مذکورہ دونوں زبانوں کے مایہ ناز شاعر اور دانشور کی حیثیت اختیار کر لی۔
پنجاب کی علاقائی اردو کا اپنا ایک مزاج ہے یہاں کے شہری علاقوں میں اردو بہت کچھ بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ پنجابی علاقائی اردو اور معیاری اردو سے بڑی حد تک مختلف ہے اس کے باوجود پنجاب میں نصابی اور تدریسی زبان معیاری اردو رہی ہے۔ یعنی بچّے گھر میں اور دوستوں بلکہ استادوں سے بھی پنجابی میں بات کرتے اور کتابیں پڑھتے تو معیاری اردو کی اور لکھتے تو بھی معاری اردولکھنے کی کوشش کرتے علامہ اقبالؔ بھی اسی ماحول میں پھلے بڑھے تھے اور ان کی ابتدائی تعلیم اردو زبان میں ہوئی تھی اقبالؔ کو نہایت ہی کم عمری سے اردو سے ایک خاص قسم کی محبت اور اس سے شغف ہو گیا تھا چھ سات سال کی عمر میں ان کو اردو زبان میں بچّوں کی کہانیاں پڑھنے اور پڑھ کر سنانے کا شوق پیدا ہوا۔ جب وہ چھٹی جماعت میں پہنچے تو اسکول کی غیر نصابی سرگرمیوں میں حصّہ لینا شروع کر دیا جماعت میں اردو بیت بازی اور اسکول میں تقریری مقابلوں میں شریک ہوتے ہے۔
اردو زبان و ادب اور شاعری کے غیر معمولی شوق نے علامہ اقبالؔ کو ادبی مجلسوں میں شرکت کرنے پر مجبور کر دیا۔ جب وہ آٹھویں جماعت میں پہنچے تو سیالکوٹ کی شعری محفلوں میں شرکت کرنے لگے تھے اس وقت علامہ اقبالؔ کی عمر محض بارہ سال تھی علامہ اقبالؔ کی اس وقت کی اردو شعری تخلیقات دستیاب نہیں ہیں۔ سولہ سال کی عمر میں علامہ اقبالؔ کی پہلی غزل دہلی کے رسالہ’’ زبان‘‘ میں شائع ہوئی اس غزل کے اشعار کچھ اس طرح سے تھے۔
آبِ تیغِ یار تھوڑا سانہ لے کر رکھ دیا
باغ جنت میں خدا نے آبِ کوثر رکھ دیا
آنکھ میں ہے جوشِ اشک اور سینے میں سوزاں ہے دل
یاں سمندر رکھ دیا اورواں سمندر رکھ دیا
سولہ سال کی عمر میں کہی گئی اقبالؔ کی اس غزل میں زبان نہایت صاف ہے۔ اس غزل کے مطالعہ سے اس بات کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اقبالؔ نے اردو شاعری کا مطالعہ بڑی گہرائی سے کیا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ اردو ہندوستان بھر میں بحیثیت زبان ہر طرف پھل پھول رہی تھی جنوبی ہند میں مدراس، بنگلور جیسے شہروں میں اردو اپنا سکہ جما رہی تھی۔ اردو زبان کی نشو نما کے اس مرحلے میں علامہ اقبالؔ نے شعر گوئی کا آغاز کیا۔ تاہم غالبؔ کا اثر ان پر بہت نمایاں ہے۔ اقبالؔ کے اردو زبان کے اندازِ بیان سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ابتداہی سے ان کو زبان لکھنؤ کا چسکا تھا۔ اردو زبان کے عظیم الشان شعری سر مائے کے مقابل اپنی بے بضاعتی کا اقبالؔ کو صحیح اندازہ تھا۔ اسی لیے اردو زبان سیکھنے کا اپنا سفر جاری رکھا۔ اقبالؔ اپنا کلام داغؔ جیسے ملک الشعرا کے پاس لاہور سے حیدر آباد بھیجتے رہے اس طرح سے وہ داغؔ کی شاگردی میں داخل ہو گئے۔
لڑکپن ہی سے اقبال کاکلام مختلف رسالوں میں شائع ہونے لگاتھا۔ وہ انیسؔ کی شعری زبان سے بے حد متاثر تھے اقبالؔ کا یہ خیال تھا کہ ’’ میرانیسؔ نے اردو زبان کو حدِ کمال تک پہنچایا‘‘ اردو زبان سے غیر معمولی دلچسپی رکھنے والے اقبالؔ جب ایم۔ اے کے طالب علم تھے اس وقت تک اردو زبان پر خاصہ عبور حاصل کر لیا تھا۔ اس دور ان غزلوں کے علاوہ اردو میں کئی نظمیں، قطعات، مسدس اور مختصر مثنویاں لکھ چکے تھے۔ ان سب میں ان کی زبان دانی اور ہنر مندی کی کوشش نمایاں تھی اس وقت کے اقبالؔ کے غزلوں کا مطالعہ کرنے سے یہ بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اقبالؔ اردو زبان سیکھنے اور شاعری میں آگے بڑھنے کے لیے کس تند ہی سے لگے تھے اور اس میں وہ آگے بڑھ رہے تھے اور ان کی زبان پر کئی اساتذہ کا اثر ہے اقبال کے اوّلین غزل کا ایک مقطع ملاحظہ فرمائیے
نسیمؔ و تشنہؔ ہی اقبالؔ کچھ نازاں نہیں اس پر
مجھے بھی فخر ہے شاگردی داغؔ سخن داں کا
۱۹۰۰ ؁ء کے بعد سے اقبالؔ کو فنِ شعر اور اپنی زبان دانی دونوں پر اعتماد حاصل ہو چکا تھا۔ چنانچہ اسی دور سے انھوں نے اپنا کلام ’ بانگ درا‘ میں شامل کیا۔ زبان کے لحاظ سے اقبالؔ کی جو زبان ۱۹۰۰ ؁ء تک بن چکی تھی اب وہی اردو زبان ایک پختہ شکل اختیار کر رہی تھی۔ پنجابی مادری زبان والے علامہ اقبالؔ کے اردو اشعار پر تنقید و اعتراض کرنے والے لوگ بھی تھے پنجابیوں کی ہنسی اڑانے والے اور اقبالؔ کی زبان پر ٹوکنے والوں کو وہ نہایت انکساری کے ساتھ اس کا مدلل جواب دیتے تھے۔ اکتوبر ۱۹۰۲ ؁ء میں شائع کیا گیا رسالہ ’’ مخزن ‘‘ میں علامہ اقبالؔ نے ’ اردو زبان پنجاب میں ‘ ایک مضمون لکھا۔ اس مضمون سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں :
’’ آج کل بعض اخباروں اور رسالوں میں اہل پنجاب کی اردو پر بڑی لے دے ہو رہی ہے اور یہ ایک عجیب بات ہے کہ اس بحث کے فریق زیادہ تر ہمارے نئے تعلیم یافتہ نوجوان ہیں ادھر ایک صاحب’ تنقید ہم درد‘جو اخلاقی جرأت کی کمی یا کسی نا معلوم مصلحت کے خیال سے اپنے نام کو اس کی نقاب میں پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں۔ ناظرؔ و اقبالؔ کے اشعار پر اعتراض کرتے ہوئے پنجابیوں کی ہنسی اڑاتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارے دوست ’’ تنقید ہم درد‘‘ اس پر مصر ہیں کہ پنجاب میں غلط اردو کے مروج ہونے سے یہی بہتر ہے کہ اس صوبے میں اس زبان کا رواج ہی نہ ہو۔ لیکن نہیں بتاتے کہ غلط اور صحیح کا معیار کیاہے۔ جو زبان بہمہ وجوہ کا مل ہو اور ہر قسم کے ادائے مطالب پر قادر ہو۔ اس کے محاورات و الفاظ کی نسبت تو اس قسم کا معیار خود بخود قائم ہو جات ہے۔ لیکن جو زبان ابھی زبان بن رہی ہے اور جس کے محاورات اور چند جدید ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً اختراع کیے جا رہے ہوں اس کے محاورات و غیرہ کی صحت و عدم صحت کا معیار قائم کرنا میری رائے میں محالات میں سے ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ اردو زبان جامع مسجد دہلی کی سیڑھیوں تک محدود تھی مگر چونکہ بعض خصوصیات کی وجہ سے اس میں بڑھنے کا مادہ تھا۔ اس واسطے اس بولی نے ہندوستان کے دیگر حصوں کو بھی تسخیر کرنا شروع کیا اور کیا تعجب نہیں ہے کہ کبھی تمام ملک ہندوستان اس کے زیر نگیں ہو جائے۔ ۔ ۔ اس مضمون کا مقصدان اعتراضات کا جواب دینا ہے جو ’ تنقید ہم درد‘ صاحب نے میرے اور ناظرؔ کے اشعار پر کیے ہیں میں نے یہ جواب اس وجہ سے نہیں لکھا کہ صاحبِ تنقید نے میرے یا میرے دوست حضرت ناظرؔ کے کلام کو اپنی نکتہ چینی کی آماجگاہ بنایا ہے بلکہ میری غرض صرف یہی ہے کہ ایک منصف مزاج پنجابی کی حیثیت سے ان غلطیاں کا ازالہ کروں جو عدم تحقیق کی وجہ سے اہل پنجاب کی اردو کی طرف منسوب کی گئی ہیں۔ ۔ ۔ ‘‘
اقبالؔ کی اردو ذوق وشوق کو مدّ نظر رکھتے ہوئے رسالہ’’ مخزن‘‘ کے ایڈیٹر نے ڈاکٹر وائٹ برجنٹ صاحب کا اردو زبان پر لکھا ہوا مختصرسا انگریزی مضمون ترجمہ کرکے بھیجنے کی درخواست کی۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنا انگریزی مضمون اقبالؔ کو تحفت ًدیاتھا۔ ستمبر ۱۹۰۴ ؁ء کے رسالہ ’’ مخزن‘‘ میں علامہ اقبالؔ کا ترجمہ کیا گیا یہ مضمون ’ زبان اردو‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔
۱۹۰۵ ؁ء تا ۱۹۰۸ ؁ء کا دور علامہ اقبالؔ نے یوروپ میں گزارے ۱۹۰۸ ؁ء میں جب اقبالؔ ہندوستان واپس آئے تو اس وقت ان کا میلان زیادہ اردو نظم گوئی کی طرف تھا اور اردو کے شعری سرمائے کے مطالعہ کا سلسلہ جاری تھا۔ غالباً اس وقت انھیں ایک ایسی نظم کہنے کا خیال آیا جسے کہہ کر وہ سارے ہندوستان کو چونکا سکیں چنانچہ انھوں نے اسی سانچے پر اپنی دونوں نظمیں ’شکوہ‘ اور ’ جواب شکوہ‘ لکھیں جنھوں نے ہندوستان بھر میں اردو پڑھنے والوں میں ہل چل مچا دی۔ اس طرح سے اقبالؔ نے اردو کی شعری زبان کو جس مقام پر پہنچایا ہے اس میں اور اردو کی روایتی شاعری میں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔
علامہ اقبالؔ کے اس دور میں اردو ہندوستان کی سب سے مقبول اور رابطہء عامہ کی زبان تھی، اب لسانی تعصب کے بوجھ تلے دبائی جا رہی تھی۔ انگریزوں کی طرف سے اردو کے خلاف ہندی کو ہندومذہب کی علامت کے طور پر ترقی دینے کے منصوبے بنائے جا چکے تھے اور اس طرح اردو کے خلاف جو ایک مشترکہ تہذیب کی نشانی تھی ایک سیاسی اور لسانی سازش رچی گئی تھی اور اردو جو ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ میراث تھی اسے دو فرقوں کے درمیان تقسیم کیا جا رہا تھا او یہ بات تحریک آزادی کے لیے بہت بڑی رکاوٹ تھی۔ اس پس منظر میں مہاتما گاندھی نے اردو اور ہندی کے مسئلہ کو ہندوستانی کے تصوّر کے ذریعہ حل کرنے کوشش کی علامہ اقبالؔ اتحادِ وطن کی خطر ہی نہیں بلکہ تمام تر لسانی ادراک و شعور کے ساتھ اردو ہندی کے جھگڑے کو نا پسند کرتے تھے اردو اور ہندی کے اس جھگڑ کے بارے میں اقبالؔ نے اپنے ایک شعر میں اس طرح اشارہ کیا ہے۔
یا با ہم پیار کے جلسے تھے دستور محبت قائم تھا
یا بحث میں اردو ہندی ہے یا قربانی یا جھٹکا ہے
اردو ہندی کے مسئلہ پر علامہ اقبالؔ گاندھی جی کے نظریہ کے مساوی اپنا نظریہ قائم کر چکے تھے اردو ہندی اور قومی زبان کے تعلق سے جو افکار اقبالؔ نے پیش کیے ہیں ان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ گاندھی جی کے بر عکس جو اس مسئلہ کو سیاسی نوعیت سے دیکھ رہے تھے، اقبالؔ کی نظر ایک ماہر زبان کی حیثیت سے تھی۔ اقبالؔ اردو کو تعصب کے بنا پر دبائے جانے خلاف تھے سیاست سے اقبالؔ کا رشتہ کمزور سا تھا اور وہ مسلم لیگی تھے اور مسلم لیگ اپنی سیاسی اہمیت کے پس پشت ’’ اردو‘‘ کی بقاء اور اس کی اہمیت کے پیش نظر آواز اٹھا رہی تھی چنانچہ کہ محب وطن شاعر علامہ اقبال’’ سارے جہاں سے اچّھا ہندوستاں ہمارا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ کے خالق بھی اس سے پرے نہ تھے۔ لیکن اقبالؔ اردو کے معاملے میں جذباتی نہیں تھے بجائے جوش کے ہوش سے کام لینے کے خواہش مند تھے، اسی لیے انھوں نے نظریہ زبان پر اپنا ایک الگ فلسفہ پیش کیا۔ اقبالؔ نے زبانوں کی اہمیت اور لفظ و معنی کے رشتے کو جس زاویہ نگاہ سے دیکھا ہے وہ سیاسی نظریہ سے بالکل مختلف تھا۔
(بشکریہ مضامین ڈاٹ کام)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest