مشہورومعروف افسانہ نگار اقبال مجید نہیں رہے

بھوپال: مشہور و معروف ادیب و افسانہ نگار اقبال مجید کا گزشتہ روز بھوپال میں انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ہندوستان کے مشہور و معروف ادیب اقبال مجید بھوپال اردو اکیڈمی کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ انھوں نے اردو میں بے شمار کتابیں ، کہانیاں  اور ڈرامے لکھے ہیں۔ ریختہ کی سائڈ میں ان کی کتابوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ انہوں نے اردو ڈراموں کی ہدایت کاری بھی کی ۔اس کے علاوہ ان کے ادبی خدمات اتنے وسیع تھے کہ ان کو کئی قومی اور علاقائی سطح کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ مشہور و معروف ادیب و افسانہ نگار گزشتہ کچھ عرصوں سے بیمار چل رہے تھے۔ انہوں نے اردو ادب کی بھی آبیاری کی۔ اردو ادب میں ان کی بے شمار خدمات ہیں، انہوں نے ’شہر بدنصیب، قصہ رنگ شکستہ، نمک ، کسی بھی دن ، ایک حلفیہ بیان، تماشہ گھر، دو بھیگے ہوئے لوگ ‘جیسی مشہور و معروف اور مقبول ترین کتابیں تصنیف کیں۔ آ پ کو بتادیں کہ اقبال مجید کی کہانیاں اور افسانے جدید عہد کی عکاس ہیں۔ انہوں نے اپنی کہانیوں اور افسانوں میں ہمیشہ ادب کے تقاضوں کا پاس و لحاظ بھی رکھا ۔ ان کے انتقال سے جو خلا پر ہوا ہے ان کا بھرپانا ممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہے۔ انتہائی ملنسار اور ادب نواز انسان تھے۔ یقینا ان کے انتقال سے زبان وادب کا بڑا نقصان ہواہے۔ اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا کرے اور پسماندگان کو نعم البدل عطا کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *