دِلچسپ اِنتخابی قِصّہ۔6

 

 

 

 

 

 

 

 

 

رئیس صِدّیقی
(سابق آئی بی ایس ڈی ڈی اردو ؍ آل اِنڈیا ریڈیو )

جب راجیو گاندھی کی وجہ سے این ٹی راماراؤ نے تیلگو دیشم پارٹی بنائی

یہ 1982 کا واقعہ ہے۔سنجے گاندھی کی ہوائی حادثہ میں موت ہو گئی تھی۔ کانگریس کو سنبھالنے کے لئے راجیو گاندھی کو کانگریس پارٹی کا جنرل سیکریٹری بنایا گیا۔
اسی دوران راجیو گاندھی کو کسی کام سے آندھرا پردیش جانا پڑا۔حیدرآباد میں بیگم پیٹ ہوائی اڈہ پر راجیو گاندھی کا جہاز اترا۔
یہاں جیسے ہی کانگریسی کارکنوں اور نیتائوں کوراجیو گاندھی کی آمد کی خبر ملی تو اچھی خاصی بھیڑ جمع ہو گئی۔ راجیو گاندھی کا استقبال کرنے کے لئے خود وزیر اعلیٰ ٹی انجیا ایرٔ پورٹ پہنچے۔
چونکہ راجیوگاندھی کی عملی زندگی ایک ایٔر پائلیٹ کی حیسیت سے شروع ہوئی تھی۔ اس لئے ابھی انکو سیاسی ہوا نہیں لگی تھی۔ انکوسیاسی بھیڑ بالکل پسند نہیں آئی۔ وہ بلا وجہ کی اتنی بھیڑ دیکھ کر ناراض ہو گئے۔
چونکہ وزیر اعلیٰ ٹی انجیا کو بھی راجیو گاندھی کی ناراضگی کی وجہ معلوم نہیں تھی، اس لیے انہوںنے بھیڑ ہٹانے کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا۔
راجیو گاندھی ان پر غصے میں بری طرح برس پڑے۔ راجیو گاندھی ان پر اس قدر برہم ہوئے کہ انہوں نے انجیا کو مسخرہ تک کہ ڈالا۔
انجیا کی سرعام یہ بے عزتی دیکھ تیلگو فلموں کے سپر اسٹار این ٹی راما راؤ کو یہ بات چبھ گئی۔ انہوں نے اسے پوری تیلگو برادری کی بے عزتی مانا ۔
اس واقعہ کے کچھ دن بعد اندرا گاندھی نے انجیا سے استعفیٰ دینے کے لئے کہ دیا۔
گوکہ استعفیٰ دینے سے ایک دن پہلے انکے تیس ہزار پیروکاروں نے یکجا ہو کر احتجاج کیا لیکن انجیا نے استعفیٰ دے ہی دیا۔
اسی سال این ٹی راما راؤ نے تیلگودیشم پارٹی( ٹی ڈی پی) کی بنیاد رکھی ۔
اگلے ہی سال این ٹی راما راؤ کی تیلگو دیشم پارٹی اسمبلی انتخابات میں اتری۔
راجیو گاندھی کے ذریعہ انجیا کی سرے عام بے عزتی کو انتخابی مدعا بنایا گایا ۔
تیلگو دیشم پارٹی کو چناؤ میں اکثریت مل گئی۔ایک سال پہلے جنمی پارٹی کو اسمبلی کی 294
میں سے 201 نشستیں ملیں۔
راجیو گاندھی مزاجاً شریف آدمی تھے۔ وہ غیر سیاسی کانگریسی تھے۔ انہیں بھیڑ اکٹھا ہونے جیسی شوشے بازی قطعی پسند نہیں تھی۔انہیں یہ بھی قطعی اندازہ نہیں تھا کہ انکی اس برہمی کو تیلگو اسمتا کا مدعا بنا لیا جائے گا۔
بہر حال،راجیو گاندھی کی ناراضگی اور غیر مناسب الفاظ کا استعمال آندھرا پردیش میں ایک نئی پارٹی کو جنم دینے کا باعث بنی !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest