دِلچسپ اِنتخابی قِصّہ۔۵

 

 

 

 

 

 

 

 

 

رئیس صِدّیقی
سابق آئی بی ایس ( ڈی ڈی اردو؍ آل اِنڈیا ریڈیو) )

جب شیوشنکر یادو نے غلط کام نہ کرنا پڑے، اس لئے دوسری بار لوک سبھا ایم پی کا ٹکٹ ٹھُکرا دیا

یہ تو آپ جا نتے ہی ہیں کہ آج کل سیاست ایک نفع بخش تجارت کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ایم ایل اے یا ایم پی کا ٹکٹ لینے کے لئے بڑی بڑی سفارشیں لگائی جاتی ہیں۔اپنی عوامی طاقت دکھانے کے لئے جلسے منعقد کئے جاتے ہیں، جلوس نکالے جاتے ہیں تاکہ متعلقہ پارٹی پر دبائو ڈالاجاسکے۔یہاںتک کہ اگر اپنی پارٹی سے ٹکٹ ملنے کی امید نہ ہو، تو اپنی پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی اپنا نے میں ایسے سیاسی حضرات تاخیر نہیں کرتے۔ گویا کہ اپنا سیاسی نظریہ بدلنے میں بھی کسی قسم کی شرم نہیں آتی ۔ دوسرے لفظوں میں اب سیاست میں کردار لفظ کے معنی بدل گئے ہیں۔
لیکن اسی سیاسی دنیا میں، ستتر اسّی کی دہائی میں ایسے پاک صاف سیاسی لوگ بھی تھے کہ پہلی بار ایم پی بننے پر جب عملی سیاسی تجربے ہوئے تو اسکی بنیاد پر انہوں نے دوسری بار اپنی ہی پارٹی کی طرف سے لوک سبھا کا ٹکٹ ٹھکرا دیا۔ایسی ہی ایک ایماندار اور شاندا ر شخصیت کے مالک تھے۔شیوشنکریادو
دراصل واقعہ یوں ہے کہ 1971میں پاکستان کو شکست دینے کے بعد، اندرا گاندھی کی مقبولیت آندھی پر سوار تھی اور انہوں نے مخالف پارٹیوں کے نیتائوں کی قسمت میں شکست لکھ دی تھی۔ اس صورت حال میں بھی، شیوشنکر یادو عام لوک سبھا انتخاب جیت گئے تھے۔ لہٰذا انکی پارٹی ،سنیکت سوشلسٹ پارٹی نے شیوشنکر یادو کو بہار کی کھگڑیا سیٹ سے 1977کے عام لوک سبھا انتخابات لڑنے کا حکم دیا ۔ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر جیت یقینی تھی ۔
لیکن شیوشنکر یادو جی نے دوسری بار ایم پی بننے کی پیشکش ٹھکرا دی ،یہ کہتے ہوئے کہ
ایسا ایم پی بننے کا کیا مطلب کہ ووٹر غلط کاموں کی پیروی کرانے آنے لگیں۔
غلط کاموں کی پیروی سے انکار کرتے کرتے میں عاجز آچکا ہوں۔
میرا ضمیر مجھے اور تنگ ہوتے رہنے کی اجازت نہیں دیتا !
جب شیوشنکر یادو جی کا انتقال ہوا توانکے پاس صر ف سات روپے تھے !!
اب کہاں ایسے لوگ نظر آتے ہیں!!!
Email: rais.siddiqui.ibs @gmail.com
Mob: 98101 41528

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest