دلچسپ اِنتخابی قِصہ

 

 

 

 

 

 

 

 

.رئیس ِصدّیقی

جب دلیپ کمار نے نہرو جی کے کہنے پر کرشن مینن کو لوک سبھا انتخابات میں جیت دلائی!یہ 1962 کی بات ہے ۔ عام انتخابات میں غالباً پہلی بار کسی سپر اسٹار یعنی دلیپ کمار نے سیاسی نیتا، ملک کے وزیر دفاع، کرشن مینن کے لٔے انتخابی جلسے میں انکی حمایت میں تقریر کی تھی۔
دراصل اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے اپنے وزیر دفاع کرشن مینن کو انتخابات میں جتانے کے لٔے انکے حق میں چناؤ پرچار کرنے کے لٔے دلیپ کمار سے کہا تھا۔
تب شمال ممبٔی سیٹ پر کانگریسی نیتا کرشن مینن کا مقابلہ انکے شدید مخالف ، سوشلسٹ پارٹی کے آچاریہ جے بی کرپلانی سے تھا۔
مینن ملک کے وزیر دفاع تھے اور بھارت کو ۱۹۶۲ کی جنگ میں چین پر سبقت حاصل نہیں ہو سکی تھی۔
حزب اختلاف کی جانب سے مینن کو ہٹانے کا مطالبہ ہو رہا تھا۔
لیکن نہرو جی اپنے وزیر دفاع کو ہٹانے کے لیٔ قطٔی تیار نہیں تھے۔
جے بی کرپلانی بھی جوش میں تھے۔انہوںنے بہار کے سیتامڑھی کی اپنی محفوظ سیٹ چھوڑ کر ممبٔی سے کرشن مینن کے خلاف پرچۂ نامزدگی داخل کر دیا۔ ظاہراً انکی جیت کے امکانات نطر آرہے تھے ۔
ایک اخبار نے تو کرشن مینن کے خلاف ایک کویتا بھی شأیع کر دی ؎
چینی حملہ ہوتے ہیں ۔مینن صاحب سوتے ہیں
سونا ہے تو سونے دو ۔۔کرپلانی جی کو آنے دو
درحقیقت، کرپلانی، مینن کے لٔے چنوتی تھے لیکن نہرو جی اسے اپنے لٔے بھی ایک چیلنچ مان رہے تھے،
فلمی دنیا کے اپنے وقت کے سپر اسٹار محمد یوسف خان عرف دلیپ کمار کی خودنوشت سوانح حیات وجود اور پرچھأیں
THE SUBSTANCE AND SHADOW
کے مطابق، پنڈت جواہر لعل نہرو نے اپنے ذاتی مراسم اور بے تکلفی کی بنا پر، دلیپ کمار سے اپنے وزیر دفاع کی حمایت میں چناؤ پرچار کرنے کے لٔے کہا تھا۔
گوکہ لیپ کمار کو کسی سیاسی نیتا کے حق میں تقریر کرنے کا قطٔی کو یٔ تجربہ نہیں تھا لیکن وہ نہرو جی کی بات نہ ٹال سکے اور
دلیپ صاحب نے کرشن مینن کے حق میں ایسا پرچار کیا کہ کرپلانی ہار گٔے اور کرشن مینن جیت گٔے ۔
شاید اسی وقت سے سیاست کو یہ احساس ہو گیا کہ فلمی ستارے بڑے کام کے ہوتے ہیں !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest