دلچسپ انتحابی قصہ۔۲

رئیس صِد ّیقی
( سابق آئی بی ایس ڈی ڈی اُرد و؍ آل اِنڈیا ریڈیو)
جب این۔ڈی۔تیواری یوسف خان عرف دلیپ کمار کی وجہ سے ہار گٔے !
کانگریسی نیتا نارائن دت تیواری جو اتر پردیش کے تین بار اور اتراکھنڈ کے ایک بار وزیر اعلا، لوک سبھا اور راجیہ سبھا ممبر ، مرکزی وزیر اور آندھرا پردیش کے گورنر رہ چکے ہیں اور جو راجیو گاندھی کی موت کے بعد ممکنہ وزیر اعظم بننے کی فہرست میں بھی شامل تھے نیز چونکہ تیواری جی بہت سینیر نیتا تھے اس لٔے انکا وزیر اعظم بننے کا دعوا سب سے زیادہ مظبوط تھا لیکن کہا جاتا ہے کہ چوںکہ تیواری جی 1991 میں لوک سبھا انتخاب ہار گٔے تھے ، اس لٔے پی۔وی۔نرسمہا رأو وزیر اعظم بن گٔے۔
چناوی قصہ یوں ہے کہ این ڈی تیواری ۱۹۹۱ میں لوک سبھا کا چناؤ نینی تال سے لڑ رہے تھے۔ تیواری جی کے مد مقابل بھاجپا کا امیدوا ر بلراج پاسی سے تھا۔ لگ رہا تھا کہ تیواری جی آسانی سے چناؤ جیت جایٔنگے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
چناؤ میں صد فی صد جیت حاصل کرنے کے لٔے تیواری جی نے اپنے قریبی شناسا دلیپ کمار سے چنأو میں پرچار کرنے کے لٔے کہا۔
دلیپ کمار نے بہیڑی میں لوگوں سے تیواری جی کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی۔
تب بہیڑی ، ضلع بریلی کی اسمبلی سیٹ، نینی تال لوک سبھا سیٹ کا حصہ تھی۔
بقول تیواری جی کے کہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ دلیپ کمار کا اصلی نام محمد یوسف خان ہے۔ لیکن بھاجپا نیتأوں کو دلیپ کمار کا اصلی نام معلوم تھا۔ لحاظہ تیواری جی کے مخالفین نے بہیڑی کے لوگوں کو زو ر دیکر بتایا گیا کہ محمد یوسف خان تیواری جی کی سفارش کر رہے ہیں۔
پھر کیا تھا ،آپ خود سمجھ جائیں۔
تیواری جی کو ہر جگہ سے جیت ملی لیکن بہیڑی کے لوگوں نے انہیں ووٹ نہیں دیٔے۔ تیواری جی کو سبھی اسمبلی حلقوں میں کافی ووٹ ملے لیکن بہیڑی میں انکے حلاف ووٹ پڑے اور تیواری جی گیارہ ہزار ووٹوں سے ہار گٔے۔
اسطرح ، جس دلیپ کمار کی وجہ سے شمال ممبٔی میں کرشن مینن کو 1962 میں جیت ملی انہی دلیپ کمار کی وجہ سے نینی تال یوپی میں این۔ڈی۔تیواری ہار گٔے !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram