دلچسپ:دماغ کے استعمال سے نیا فن

’کرنٹ بیالوجی‘ میں شائع تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس ضمن میں ماہرین نے ایک سروے کیا اور اس کے بعد ہی اپنے نتائج ظاہر کیے ہیں۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ اس تیز رفتار دور میں عام ملازمین کو بھی ترقی حاصل کرنے اور اپنے کام کو بہتر بنانے کے لیے کئی طرح کی ٹریننگ سے گزرنا پڑتا ہے اور یوں سیکھنے کا یہ نیا طریقہ ان کے لیے بہت اچھا ثابت ہوسکتا ہے۔اگرچہ بعض افراد نئے ہنر سیکھنے کے لیے اس کی مسلسل مشق کرنے پر زور دیتے ہیں لیکن مشق (پریکٹس) کے دوران وقفے لے کر دماغ کو پرسکون اور تازہ کرنے سے مہارت حاصل کرنے میں بہت مدد ملتی ہے اور آخر کار اس کے ٹھوس فوائد مرتب ہوتے ہیں۔اس کے لیے ایک دلچسپ تجربہ کیا گیا۔ سیدھے ہاتھ کو استعمال کرنے والے رضاکاروں کے سر پر ایک تکونی ٹوپی جیسا دماغی اسکیننگ کیپ پہنایا گیا۔ اس کے بعد انہیں کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بٹھا کر کچھ نمبر دکھائے گئے۔ ان سے کہا گیا کہ وہ سیدھے ہاتھ کی بجائے اب الٹے ہاتھ سے دس سیکنڈ کے اندر اندر جتنی تیزی سے نمودار ہونے والے نمبروں کو لکھ سکتے ہیں تو کی بورڈ سے لکھیں۔ پھر دس سیکنڈ کا وقفہ کریں اور دوبارہ ٹائپنگ شروع کریں۔ رضاکاروں کو 35 مرتبہ ایسا کرنے کو کہا گیا۔ماہرین نے اسکیننگ ٹوپی کے سگنل سے دیکھا کہ ٹائپنگ کی بجائے دماغی آرام کے وقفے میں رضاکاروں کے دماغ میں سیکھنے کا عمل زیادہ پیدا ہوا۔ پھر یہ صلاحیت ان کی اگلی مشق میں کام آئی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آرام کے وقفے کے بعد شرکا مزید سیکھتے گئے اور ان کی رفتار بڑھتی چلی گئی۔یہ بھی دیکھا کہ آرام کے دوران سیکھنے اور یادداشت کا عمل بھی بہتر اور مضبوط ہوتا چلا گیا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ کام سیکھنے کے دوران وقفہ لینے سے سیکھا ہوا عمل دماغ میں قدم جمانے لگتا ہے اور ہنر دماغی صلاحیت کا حصہ بننے لگتا ہے۔ یہ تکنیک فالج زدہ مریضوں کی بحالی میں بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔سروے کرنے والے ماہر ڈاکٹر لیونارڈو جی کوہن کہتے ہیں کہ سیکھنے کے درمیان وقفے سے خود سیکھنے کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔ اسی بنا پر ہم نئے ہنر آزمانے والوں کو اکتسابی عمل کے دوران دماغ کو چند لمحے آرام کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram