عالمی تنقیدی پروگرام نمبر 206 بعنوان : عید ملن عالمی مشاعرہ

رپورٹ
احمدمنیب۔ لاہور پاکستان
عید:عاد یعیدعید کے لغوی معنی ہیں لوٹنا۔ اور اصطلاح میں ایسی خوشی جو بار بار لوٹ کر آئے عید کہلاتی ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ۔اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسرًا۔ کہ ہر ایک تنگی کے بعد آسائش آتی ہے مکرر سنو کہ ہر ایک تنگی کے ساتھ آسائش جُڑی ہوئی ہے۔
یہ ایک ایسا درس ہے جو ہر انسان کو دیا گیا ہے تاکہ وہ زندگی میں کبھی مایوس نہ ہو اور امید کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ جانے دے تاکہ محنت اور مسلسل کوشش کر کے کامیابیاں حاصل کر سکے کیونکہ یہ بھی فرمایا کہ لیس للانسان الا ما سعیٰ۔ کہ انسان کے لئے ہر وہ چیز مقدر کر دی جاتی ہے جس کے لئے وہ محنت کرتا ہے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلیٰ رَبِّکَ کَدْحاً ۔ کہ اے انسان تُو محنتِ شاقہ سے کام لے کر اپنے رب کی ملاقات کے لئے کوشش کرتا ہے سو یہ وصل ایسے ہی ممکن ہے۔
قارئین کرام! اسلام سلامتی اور امن کا مذہب ہے۔ یہ اتنا آسان اور پیارا دین ہے کہ اس میں دیگر مذاہب کی طرح رہبانیت، سخت قسم کی چلہ کشیاں، بن باس لینا، صحرا نوردیاں، دشت گردیاں نہ صرف ناپسندیدہ سمجھی گئی ہیں بلکہ صاف الفاظ میں فرما دیا گیا کہ : لا رہبانیۃ فی الاسلام۔ چنانچہ اس کے بالمقابل اسلام نے ایسی حسین عبادات اور پوجا پاٹ کے طریق سکھائے ہیں کہ جن میں انسان کی نہ صرف روحانی غذا کا سامان ہے بلکہ جسمانی صحت کو برقرار رکھنے کے بھی قرائن موجود ہیں ۔
سب سے اول نماز ہے۔ کیا ہی خوبصورت عبادت ہے۔ ایک بار میں ایک آسٹریلین ڈاکٹر کی کتاب پڑھ رہا تھا جس میں اُس نے لکھا کہ میں نے ایک بار کسی مریض کو کچھ ورزشیں بتائیں تو وہ مجھ سے کہنے لگا کہ آپ میرے ساتھ چلیں جب میں اس کے ساتھ چلا تو وہ مجھے مسلمانوں کی ایک مسجد میں لے گیا جہاں نماز باجماعت کا وقت تھا۔ میں نے دیکھا کہ میری بتائی ہوئی تمام ورزشیں اسی ترتیب کے ساتھ وہ سب ایک امام کے پیچھے متواتر کر رہے تھے۔ میں نے استفسار کیا کہ یہ کیا؟ تو میرے اُس مریض نے بتایا کہ یہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کا طریق بتایا ہے۔ تو میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ کے نبی نے آپ کو عبادت کا یہ طریق بتایا ہے تو اس حساب سے اگر کوئی مسلمان پانچ وقت یہ عبادت کرتا ہے تو اسے جسمانی طور پر سوائے استثنائی صورت کے کوئی چھوٹی موٹی بیماری تو لگنی ہی نہیں چاہئے۔ پھر اس مریض نے مجھے جب یہ بتایا کہ اس عبادت سے پہلے ہم وضو کرتے ہیں اور وضو کا طریق بتایا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ میں بھی مریضوں کو یہ بتایا کرتا تھا کہ دورانِ ورزش اپنے ان اعضا کو گیلا بھی کیا کریں۔ یوں میرا یقین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوا کہ وہ ایک کامل انسان تھے اور انہوں نے بالکل ٹھیک ٹھیک رہنمائی فرمائی ہے یعنی اگر کوئی نماز کو مذہبی نقطۂ نگاہ سے نہ بھی پڑھے تو یہ ایک بہترین جسمانی ورزش ہے جس سے آپ کی ہڈیوں کے تمام جوڑ، فشارِ خون کا کنٹرول، خون میں کولیسٹرول کی سطح اور جسم میں چستی برقرار رہتی ہے۔ انسان جب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے تو خون کا دباؤ اس کے سر کی طرف ہو جاتا ہے اور دماغ کے ان حصوں تک بھی خون پہنچ جاتا ہے جو حصے عام طور پر خون سے مستفیض نہیں ہو پاتے۔ سبحان اللہ
قارئین محترم!
اگر مذہبی نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو نماز ایسی عبادت ہے جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا ہے کہ حشر میں سب سے پہلا سوال نماز کے متعلق پوچھا جائے گا۔ حیرت انگیز بات ہے کہ دنیاوی تعلیمی امتحانات کا وقت آتا ہے تو ہر ایک کو سخت گھبراہٹ ہوتی ہے اور قیاس آرائیاں کی جاتیں اور اندازے لگائے جا رہے ہوتے ہیں کہ بھلا کون سا سوال آئے گا۔ پاکستان میں قریشی انوسبل گیس پیپر مشہور ہیں لیکن کیا ہی عجیب بات اور لمحۂ فکریہ ہے کہ سارا پرچہ ہی آؤٹ ہو جائے اور پھر بھی کوئی امیدوار فیل ہو جائے؟ آج جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ قیامت کے روز پہلا اور سب سے اہم سوال نماز کا ہی ہو گا پھر بھی ہم اس سے دور بھاگتے ہیں اور ہمارے پاس نماز پڑھنے کا وقت نہیں ہوتا۔
قارئین محترم!
ارکان اسلام پانچ ہیں: کلمہ، نماز، روزہ، زکات اور حج۔ ان میں سے کلمہ پڑھ کر ہم دائرۂ اسلام میں آ جاتے ہیں۔ روزہ کی فرضیت مشروط ہے یعنی طالب علم، مُرضِعہ یعنی دودھ پلانے والی ماں، حاملہ، بیمار اور مسافر، خواتین کے مخصوص ایام وغیرہ میں روزہ کی حکُماً رخصت ہے، زکات کے لئے چونکہ ایک نصاب مقرر ہے اور ہر ایک پر زَکات بھی واجب نہیں رہتی اسی طرح حج کے لئے بھی شرائط ہیں کہ زادِ راہ ہو اور گھر والوں کے خرچ کے لئے بھی کچھ دے کر جائے اور راستے کا امن بھی میسر ہو تب جا کر حج کر سکتا ہے۔ ان ارکان اسلام میں ایک نماز ایسا رکن ہے جس کی معافی کسی بھی حالت میں نہیں۔ مسلمان مرد پر باجماعت نماز فرض کی گئی ہے۔ کسی جائز عذر کی وجہ سے اگر باجماعت ادا نہ کر سکے تو اکیلا پڑھ لے، اگر کھڑا ہو کر نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر پڑھ لے، اگر بیٹھ کر ممکن نہ ہو تو لیٹ کر پڑھ لے، اگر ایسا بیمار ہے کہ حرکت نہیں کر سکتا تو اشارے سے پڑھ لے لیکن کسی بھی حالت میں سوائے سَکَر ، بے ہوشی اور غشی کے نماز معاف نہیں ہے۔ ایسی حالتوں میں معاف نہیں بلکہ جب انسان پوری طرح ہوش میں ہو تو اپنی رہی ہوئی نماز ادا کرے۔ پس ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں باجماعت نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ایک رکنِ اسلام روزہ ہے۔ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روزے تم پر اسی طرح فرض کیے گئے ہیں جس طرح دیگر اقوام عالم پر فرض کئے گئے تھے۔ چنانچہ سورۃ البقرۃ:184تا186 میں فرمایا:
اے مؤمنو! تم پر بھی روزہ رکھنافرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر۔ تاکہ تم روحانی اور اخلاقی کمزوریوں سےبچو۔
سابقہ اقوام پر روزوں کی فرضیت:
سابقہ اقوام ِعالم کو رمضان المبارک جیسا بابرکت مہینہ نہیں دیا گیا تھا نہ ہی ان کو قرآن کریم جیسی عظیم ، مکمل اور کامل کر دینے والی فطری شریعت دی گئی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن۔ (البقرۃ:۱۸۶)
کہ رمضان کا مہینہ وہ برکت والا مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا اور قرآن کریم میں رمضان کا بیان کیا گیا۔
گو اقوام گزشتہ کو رمضان المبارک جیسا عظیم مہینہ عطا نہیں کیا گیا لیکن گزشتہ انبیاء علیہم السلام نے مختلف قسم کے روزے رکھے اور ان کے ساتھ اُن کے اُمتیوں نے بھی روزے رکھے۔
دنیا کے قدیم ترین مذاہب بدھ مت اور ہندو مت میں روزہ کے بارے میں بہت سی روایات ملتی ہیں کہ روزہ کیا ہے اور کس طرح رکھنا چاہئے؟ اس کے فوائد کیا ہیں وغیرہ وغیرہ۔
“Commonest by far, however, of all the uses of voluntary fasting in the past and present time, is its practice as an act of self-denial wit definite religious intention. By the greater number of religions, in the lower, middle and higher culture alike fasting is largely prescribed, and where it is not required it is nevertheless practiced to some extent by individuals in response to prompting of nature.”
ترجمہ: ”ماضی اور حال میں طوعی روزوں کے دیگر فوائد میں سے ایک عام فائدہ مذہبی مقصداور مدعا کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کو مارنا بھی ہے۔ اکثر مذاہب میں چھوٹے بڑے اور درمیانی طبقات کے لئے مساویہ روزے کا وجود پایا جاتا ہے اور اگر کہیں روزہ جماعتی رنگ میں نہ بھی ہو تو بھی فطرت کی تحریک و ترغیب پر انفرادی رنگ میں اس کا رواج ملتا ہے۔ “
(Encyclopedia of Religion and Ethics 1974 under word FASTING)
چنانچہ کما کتب علی الذین من قبلکم کے حوالے سے اگر یہودیت میں دیکھیں تو عہد نامہ قدیم کی کتاب خروج باب نمبر۳۴ آیت ۲۸ سےحضرت موسیٰ علیہ السلام کے چالیس دن تک روزے رکھنے کا پتہ چلتا ہے۔
۱۔سلاطین باب ۱۹ آیت ۸ سے حضرت ایلیا علیہ السلام کے چالیس دن تک روزہ رکھنے کا پتہ چلتا ہے۔
احبار باب ۲۳ آیت نمبر۲۷سے معلوم ہوتا ہے کہ کَفَّارے کا روزہ یہود کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے جو ساتویں مہینے کے دسویں دن رکھا جاتا تھا۔
زکریا باب ۸ آیت ۱۹ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے لئے سال میں چار مزید روزے رکھنے کا بھی حکم ہے۔
حضرت داؤد علیہ السلام کے روزوں کا ذکر تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے صومِ داؤد بہت پسند ہیں کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کیا کرتے تھے۔ بائبل میں اس کا ذکر زبور باب ۳۵ آیت ۱۳ میں ملتا ہے۔
عہد نامہ قدیم کی کتاب دانی ایل کے باب ۹ آیت ۳ ۔اور یو ایل باب ۲ آیت ۱۲ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت دانی ایل اور حضرت یوایل نبی نے بھی روزہ رکھا اور اپنے ماننے والوں کو بھی روزہ رکھنے کی تلقین فرمائی۔
لوقا باب ۱۸ آیت ۱۲ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود میں کٹر فریسی لوگ ہفتہ میں دو روزے رکھتے تھے۔
عیسائیوں میں روزے:
متی باب نمبر ۴ آیت نمبر ۲ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے چالیس دن چالیس رات کے روزے رکھے۔
متی باب نمبر ۶ آیت نمبر ۱۶تا ۱۸ کے مطابق آپ علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو بھی روزہ رکھنے کی تلقین فرمائی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں میں برنباس اور شمعون نامی حواری بزرگانہ شہرت کے حامل تھے ان کے متعلق آتا ہے کہ وہ بھی باقاعدہ روزہ رکھا کرتے تھے۔ دیکھیں اعمال باب نمبر ۳ آیت نمبر ۲
کُرنتھیوں باب ۶ آیت ۵ میں رقم ہے کہ پولوس نے فاقہ کرنے یعنی روزہ رکھنے والوں کے بارے میں کہا کہ روزہ رکھنا تو خدا کے خادموں کی خوبی ہے۔
لادینی یعنی سیکولر تحریکات میں روزے:
لادینی تحریکات کے پیروکار اور مشرکین میں بھی روزہ کسی نہ کسی حد تک رائج ہے بے شک سارے دن کی بجائے دن کے کچھ حصے کا سہی۔ جزوی روزہ سے مراد یہ ہے کہ جس میں چند ایک اشیا کھانے کی اجازت ہو اور بعض چیزوں کا فاقہ کیا جائے۔ چنانچہ بخاری کتاب الصوم باب وجوب صوم رمضان سے پتہ چلتا ہے کہ قریش مکہ عاشورہ یعنی دس محرم کا روزہ رکھا کرتے تھے۔
رمضان کی فرضیت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے لیکن بعد میں آپ ﷺ نے ترک کر دیا لیکن صحابہ سے فرمایا کہ آپ میں سے جو چاہے رکھ سکتا ہے اسی سنت کی اتباع میں ہم میں سے بعض آج بھی دسویں محرم کا روزہ رکھتے ہیں۔
جزوی روزہ کے بیان میں جزائر انڈیمان کے باشندوں کا روزہ اور قدیم مصریوں اور اہل جاپان کے روزے کا ذکر ملتا ملتا ہے ۔ جزائر کے لوگ بعض ایام میں مخصوص موسمی پھل نہیں کھاتے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ان مخصوص دنوں میں ان کے دیوتا PALUGA کو ان پھلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیں:
(Encyclopedia of Religion and Ethics 1974 under word FASTING)
یوں اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ اسلام میں رمضان کی فرضیت سے قبل روزہ کسی نہ کسی شکل میں دیگر مذاہب اور تحریکات لادینیہ میں مروج تھا۔ نہ صرف مذاہب بلکہ بڑی بڑی اقوام میں بھی روزہ کی کوئی نہ کوئی شکل موجود تھی اور اب بھی ہے۔
قدیم مصریوں میں بادشاہ کی وفات پر گوشت اور گندم کی روٹی اور دیگر لذیز کھانے پینے کی اشیا کی مخالفت ہوتی ہے۔
چین میں جب لوگ چڑھاوا چڑھاتے ہیں تو اس دن کچھ بھی نہیں کھاتے پیتے۔
اہل جاپان کسی کی وفات پر سبزیاں کھانے سے پرہیز کرتے ہیں۔
کوریا میں باپ کی وفات پر بیٹے تین دن تک اور باقی افرادِ خانہ ایک دن کا مکمل فاقہ کرتے ہیں۔
اسلامی روزہ کا حسن:
اسلام کے بنیادی رُکن روزہ اپنے ایک ایسے حسن کا حامل ہے جو دیگر کسی مذہب کے روزہ یا فاقہ میں نہیں ملتا۔سحری کرنا، سحری میں برکت کا رکھا جانا، سارا دن نمازیں اور قرآن کریم کی تلاوت کرنا، جوارح کا روزہ ہونا، اخلاق حسنہ کا بجا لانا اور اخلاق سیئہ سے بچنے کی کوشش کرنا۔ گویا مؤمنین کے لئے رمضان ایک ریفریشر کورس ہے جو انہیں نیکی اور تقویٰ کی تعلیم نہیں بلکہ عملی تربیت دیتا اور ایک احسان ِخداوندی ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
انما سمی رمضان لِاَنَّ الذنوب تُرمض فیہ۔ کہ اس مہینے کا نام رمضان اس لئے رکھا گیا کہ اس میں مومن کے سارے پچھلے گناہ جل جاتے ہیں۔
رمض عربی میں جلن اور سوزش کو کہتے ہیں خواہ یہ جلن دھوپ کی ہو خواہ بیماری کی اس لئے رمضان کا مطلب یہ ہوا کہ ایساموسم جس میں سختی کے اوقات اور ایام ہوتے ہیں۔
مہینوں کا سردار:
الترغیب والترہیب میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
مہینوں کا سردار مہینہ رمضان المبارک ہے۔
پھر فرمایا کہ روزہ رکھنا لازم پکڑ لو کیونکہ اس کا کوئی مثیل اور بدل نہیں ہے۔
حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
روزہ لازم پکڑ لو کیونکہ یہ بہترین نفس کُشی ہے۔ (الترغیب والترہیب)
فرمایا : اللہ تعالیٰ نے رمضان کو تم پر فرض کیا ہے اور میں نے اس کی راتوں کی عبادت تمہارے لئے بطور سنت قائم کر دی ہے۔ (سنن نسائی ابواب الصوم)
قیام اللیل کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں ساری ساری رات عبادت میں مصروف رہتے تھے جبکہ عام دنوں میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ (سنن نسائی ابواب الصوم)
لیلۃ القدر:
رمضان کے بابرکت مہینہ میں ایک رات قبولیت کی ایسی بھی آتی ہے کہ جسے ہزار مہینوں سے بھی افضل قرار دیا گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے آخری عشرہ میں لیلۃ القدر تلاش کرو۔
قارئین محترم!
یہ گنتی کے چند ایام ہیں ۔ مسافر اور مریض کے حکم میں آنے والوں کے علاوہ سبھی پر فرض ہیں اور ان لوگوں پر جو روزہ کی طاقت نہ رکھتے ہوں فدیہ کے طور پر ایک مسکین کا کھانا بشرط استطاعت واجب ہے اور جو شخص پوری فرمانبرداری سے کوئی نیک کام کرے گا تو یہ اس کے لئے بہتر ہوگا۔ اور علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ روزے رکھنا کتنا بہتر ہے۔
رمضان کا مہینہ ایسا بابرکت ہے کہ جس میں نزول قرآن کی ابتدا ہوئی اور اس کے بارہ میں قرآن کریم نازل کیا گیا ہے‘قرآن کریم تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور ہدایت پیدا کرنے والے کھلے دلائل اپنے اندر رکھنے کے ساتھ ساتھ اس میں الٰہی نشان موجود بھی ہیں۔ اس لئے جو شخص اس مہینہ کو پائے اور مریض یا مسافر نہ ہو اسے چاہیے کہ وہ اس کے روزے رکھے اور جو شخص مریض ہو یا سفر میں ہو تو اس پر اور دنوں میں تعداد پوری کرنا واجب ہوگی۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا‘ تا کہ تم تعداد کو پورا کر لو اور اس پر اللہ کی بڑائی کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی ہے اور تا کہ تم شکر گزار بنو۔
صوفیا اور اولیاء اللہ بیان کرتے ہیں کہ رمض کا معنی ہے تپش اور رمضان کا مطلب ہوا دو تپشیں۔ ایک تپش گرمی کے روزہ کی اور ایک تپش اُس عطش کی جو انسان کو اندر سےپڑتی ہے۔ یوں یہ رمض سے تثنیہ کا صیغہ رمضان ہوا۔
رمضان تنویرِ قلب کا مہینہ ہے۔
جسمانی فوائد:
صُوْمُوْا تَصِحُّوا۔ (المعجم الاوسط)
روزے رکھا کرو صحت مند ہو جاو گے۔ اس بارے میں اپنا حاصل مطالعہ پیش کرتا ہوں:
1: مغربی عیسائی محقق ایلن کاٹAllan Cott اپنی کتاب Fasting as way of life
میں روزے کے بارے لکھتے ہیں:
روزے سے انسان کے نظام انہضام اور دماغی نظام کو مکمل طور پر آرام ملتا ہے اور نظامِ انہظام معتدل ہو جاتا ہے۔
بھارت کے ایک ڈاکٹر شانتی رنگوانی کہتے ہیں کہ:
روزے کے دوران چونکہ جسم میں کوئی نئی خوراک داخل نہیں ہوتی اس لیے جسم میں نئے زہریلے مادے پیدا نہیں ہوتے اور جگر پوری تن دہی سے پرانے زہریلے مادوں کو بدن کے اندر سے نکال باہر کرتا ہے۔ جسم کو چونکہ کام کرنے کے لیے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہےاس لیے وہ پہلے سے موجود زہریلے مادے استعمال کر لیتا ہے۔ یہ عمل خون کی تطہیر کرتا ہے جس سے اس کی جلد ترو تازہ ہو جاتی ہے۔
میڈیکل سائنس کے یہ وہ حقائق ہیں جو آج سے تقریبا پندرہ سو سال پہلے ان الفاظ میں بیان ہوئے لکل شیئ زکاة و زکاة الجسد الصوم۔ یعنی ہر ایک چیز کی زکات ہوتی ہے اور جسم کی زکات روزہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ۔ کتاب الصیام)
عمان اردن کے یونیورسٹی ہسپتال کے ایک محقق ڈاکٹر سلیمان نے 1404ہجری کے رمضان میں 15 سے 64 سال کے صحت مند مسلمان رضاکاروں جن میں 42 مرد اور 26 خواتین شامل تھیں، پر تحقیق کی۔ رمضان کے آغاز میں ان کے وزن، خون میں کولیسٹرول، جنسی ہارمونز اور گلوکوز وغیرہ کو ناپا گیا۔ پھر رمضان کے اختتام پر دوبارہ ناپا گیا تو نتیجہ یہ نکلا کہ ان روزہ دار مردوخواتین کا وزن چار سے چھ کلوگرام تک کم ہوا لیکن خون میں تمام اجزا کی مقدار بالکل نارمل رہی۔
کینسر کا علاج:
امریکہ کی ایک یونیورسٹی
University of southern California
کے ممتاز محقق ڈاکٹر والٹر لونگو اور ان کے معاون سائنس دانوں کی ٹیم جس میں امریکہ کے علاوہ اٹلی اور جرمنی کے سائنسدان بھی شامل تھے، نے ریسرچ سے ثابت کیا کہ کینسر کے روزہ دار مریضوں کے علاج کی کامیابی کے امکانات کینسر کے غیرروزہ دار دیگر مریضوں کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔
مغربی ماہر طب ڈاکٹر ایلن باس کہتے ہیں کہ:
روزہ واحد عظیم ترین طریقہ ٔ علاج ہے
تنگی کے ساتھ آسائش:
قارئین محترم جیسا کہ میں نے اس مضمون کی ابتدا قرآن کریم کی اس آیت سے کی تھی کہ ہر ایک تنگی کے ساتھ آسائش جڑی ہے تو کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو بھوک اور پیاس کے ذریعے آزمایا ہو اور انعام کے طورپر کچھ بھی نہ رکھا ہو۔ چنانچہ انتیس یا تیس دن کے روزے رکھنے کے بعد ایک دن خوشی منانے کا بھی دیا ہے جس کانام عیدالفطر رکھا ہے۔
سال بھر کے روزے:
عام طورپر لوگ سمجھتے ہیں کہ عیدالفطر تین دن منانے کی عید ہے جسے وہ ٹرو اور مرو کر کے مناتے ہیں حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم رمضان کےتیس روزے رکھو اور بعد میں یکم شوال کو عید کی خوشی مناؤ اور ۲ شوال سے لے کر چھ روزے مزید رکھ لو تو یہ پورے سال کے روزے شمار ہوں گے۔ یعنی تیس رمضان کے اور چھ شوال کے مل کر ہوئے چھتیس اور ہر ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے تو اس حساب سے یہ ثواب تین سو ساٹھ روزوں پر منتج ہو جائے گا۔ سبحان اللہ ہمارا دین کس قدر آسان، نیکیوں اور اجر و جزائے خیر سے بھرپور ہے۔
پس عیدالفطر ایسا ہی ایک خوشی کا موقع اور تہوار ہے جبکہ حج کے ساتھ منسلک عید الضحٰی تین دن منائی جاتی ہے کیونکہ قربانیوں کا سلسلہ تین دن پر پھیلا دیا گیا ہے۔
ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری ہر اہم موقع پرمل بیٹھنے کے بہانے پروگرام منعقد کرتا ہے۔ چنانچہ اس عید سعید پر بھی ایک عیدملن عالمی مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ اس سے پہلے عالمی ادارہ اردو پوئٹری ۲۰۵ عالمی مشاورتی پروگرام پیش کر چکا ہے جن کی تفصیل ادارہ کی ذاتی ویب سائیٹ اور ادارہ کے مجلے ماہنامہ آسمانِ ادب میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔
یہ پروگرام ۸ جون ۲۰۱۹بروز ہفتہ، پاکستانی وقت کے مطابق، شام سات بجے، اور ہندوستانی وقت کے مطابق، شام ساڑھے سات بجے منعقد ہوا۔ نظامت کے اعتبار سے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلے حصہ کی نظامت محترمہ صبیحہ صدف صاحبہ بھارت کے ذمہ تھی اور دوسرے حصے کی نظامت محترم اشرف علی اشرف صاحب کے ذمے تھی اور دونوں نے نظامت کے فرائض خوب صورتی سے ادا کئے جس پر دونو مبارک باد کے مستحق ہیں۔
یہ پروگرام ۸ جون ۲۰۱۹بروز ہفتہ، پاکستانی وقت کے مطابق، شام سات بجے، اور ہندوستانی وقت کے مطابق، شام ساڑھے سات بجے منعقد ہوا۔ نظامت کے اعتبار سے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلے حصہ کی نظامت محترمہ صبیحہ صدف صاحبہ بھارت کے ذمہ تھی اور دوسرے حصے کی نظامت محترم اشرف علی اشرف صاحب کے ذمے تھی اور دونوں نے نظامت کے فرائض خوب صورتی سے ادا کئے جس پر دونو مبارک باد کے مستحق ہیں۔
یاد رہے کہ اس پروگرام کو جناب عامر حسنی نے ملائشیا سے آرگنائز کیا۔ اس اہم پروگرام کی صدارت کی ذمہ داری خاکسار راقم الحروف احمد منیب صاحب پاکستان کے کندھوں پر ڈالی گئی تھی سو خاکسار پونے تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اس پروگرام میں مسلسل حاضر رہا اور ہر ایک شاعر کی حوصلہ افزائی بھی کرنے کی توفیق پاتا رہا۔شعرا کرام کے علاوہ بھی کئی دوست پروگرام میں ہمارے ساتھ جُڑے رہے اور کلام پر داد دیتے رہے جن میں محترم وسیم ہاشمی، محترم احمرجان اور محترم عتیق دانش نمایاں ہیں۔
مہمانِ خصوصی کی نشست پر میری بہت ہی قابل احترام بہن محترمہ روبینہ میر صاحبہ جموں کشمیر بھارت سے تشریف رکھتی تھیں۔
مہمانان اعزازی کے طورپر برادرم محترم صابر جاذب صاحب پاکستان اور محترم ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی صاحب انڈیا سے تشریف فرما ہوئے۔
اس پروگرام کی رپورٹ لکھنے کی ذمہ داری خاکسار احمدمنیب لاہور پاکستان نے خود اُٹھائی۔
قارئین کرام!
دنیا جانتی ہے کہ ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کے پروگرامز کی خوب صورتی کا ایک راز نقد و نظر میں مضمر ہے۔ چنانچہ اس پروگرام کے لئے ناقدین کی فہرست میں محترم مسعود حساس صاحب کویت، محترم ڈاکٹر شفاعت فہیم صاحب بھارت، محترم شہزادنیر صاحب پاکستان اور محترم غلام مصطفی اعوان دائم صاحب پاکستان سے موجود تھے ۔
دنیا جانتی ہے کہ ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کے پروگرامز کی خوب صورتی کا ایک راز نقد و نظر میں مضمر ہے۔ چنانچہ اس پروگرام کے لئے ناقدین کی فہرست میں محترم مسعود حساس صاحب کویت، محترم ڈاکٹر شفاعت فہیم صاحب بھارت، محترم شہزادنیر صاحب پاکستان اور محترم غلام مصطفی اعوان دائم صاحب پاکستان سے موجود تھے ۔
بیاں کرتا ہے چشمۂ آبِ زم زم
ہے صحرا میں جاری عنایت خدا کی
نعت رسول مقبول کی سعادت محترمہ غزالہ انجم بورے والا پاکستان نے پائی کہ:
حضورﷺ میرے لبوں پر درودِ اطہر ہے
حضور ﷺکیسے کرے گا مرا بُرا کوئی؟
قارئین محترم!
اس کے بعد شعرا و نثر نگار حضرات کا دور شروع ہوا ، سب سے اول جناب عامر حسنی نے ملائشیا سے اپنا کلام پیش کیا:
عید کے روز تمہیں ایسے تحائف بھیجوں
میں دعاؤں سے بھرے سارے صحائف بھیجوں
محترم محمد زبیرصاحب نے گجرات، پاکستان سے کلام عطا فرمایا کہ:
خیال و یاد، خطوط اور ان کی تصویریں
ہماری عید ہے یوں دوستوں کی صحبت میں
ایک خاص لب و لہجہ کی شاعرہ محترمہ غزالہ انجم بورے والا پاکستان نے کلام عطا فرمایا کہ:
سچے مومن کے لئے بھیجی گئی سچی خوشی
سچے رب کی حمد ہم لب پر سجائیں عید ہے
محترم اصغر شمیم،کولکتہ،انڈیا سے گویا ہوئے کہ:
کیا کہوں تیرے لیے پردیس سے
لے کے آیا ہوں میں کنگن عید میں
محترم رضاالحسن رضا امروہہ یوپی بھارت سے گویا ہوئے:
والدہ والد نے رکھا ہاتھ جب سر پر میرے
عید کے دن گھر کے آنگن میں زمانہ مل گیا
محترم تہذیب ابرار بجنور انڈیا نے کلام عطا فرمایاکہ:
میں نے پہنا ہے دوسروں کا غم
عید یوں معنوی لباس میں ہے
محترم علی شیدا صاحب نے عید کے حوالے سے کلام عطا کیا:
مدتوں سے منتظر ہوں اس طرف آئے گی عید
چھوڑ کر اہلِ محبت کو نہ پر جائے گی عید
محترم مصطفیٰ دلکش مہاراشٹر الہند نے خوب صورت کلام پیش کیا:
یوں مہک اٹھتی ہے ہر راہ گزر عید کے دن
غم و آلام کا جھک جاتا ہے سر عید کے دن
محترمہ نیر رانی شفق صاحبہ نے پاکستان سے اس مشاعرہ میں شمولیت کی اور اپنا کلام سنایا:
تحفۂ عید سکھی تجھ کو نرالا بھیجوں
بہرِ تزئین گلو چاند کا ہالہ بھیجوں
محترم ایڈوکیٹ متین طالب صاحب نے ناندورہ بھارت سے نہایت پُرسوز کلام اس کی آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ پیش کیا جو بہرحال بہت ہی پیارا کلام ہے:
اس سال فلسطین میں بھولے سے نہ آنا
اے عید مری طرح کسی کو نہ ستانا
محترمہ ساجدہ انور صاحبہ نے کراچی، پاکستان سے عید کی خوشیوں کو یوں دوبالا کیا:
محبتوں کو محبت سے بانٹنے آئی
فضا میں چار طرف لطف کی گھٹا چھائی
نسیم خانم صبا کوپل کرناٹک انڈیا.
زیست کے ہونے کا امکان بھی مر جاتا ہے
خوب صورت لب و لہجہ کی شاعرہ محترمہ صبیحہ صدف صاحبہ نے بھوپال بھارت سے اپنا کلام سنایا کہ:
تری جانب سے مولا بات کی تائید ہو جائے
تو پھر ان کا بھی ہر دن عید کی تمہید ہو جائے
جناب نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی انڈیا سے اپنا خوب صورت کلام لے کر حاضر ہوئے :
گلشن میں بہت پھول ہیں بے یارومددگار
اے کاش! نفیس ان کی بھی ہو عید مبارک
محترم ڈاکٹر ارشاد خان صاحب نے بھارت سے ایک بہت خوبصورت تحریر اور ایک غزل پیش کرنے کی سعاوت پائی:
ہر شخص شاداں و فرحاں۔۔۔۔ بس دل میں یہی گنگناتا، ہر روز روزِ عید ہو۔۔۔۔
اور غزل کا ایک شعر
بام پہ ٹھہری نظریں کہتیں چاند ہے تو
چاند کا تجھ کو تکتے جانا ،بولونا!
پہلے مہمانِ خصوصی محترمہ روبینہ میر صاحبہ نے جموں کشمیر بھارت سے دو انتہائی متاثر کن آزاد نظمیں پیش فرمائیں:
لاکھ کوشش کے باوجود
میرے گھر کے اندر۔۔۔
قدم نہیں رکھ سکتے۔۔۔
یہاں تک کہ عید کے دن بھی نہیں
کیونکہ تمہارے لئے
میرے گھر کے دروازے
ہو گے بند
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے
اس پروگرام کے پہلے مہمان اعزازی برادرم محترم صابر جاذب صاحب پاکستان نے خوب صورت کلام پیش کیا:
ہلالِ عید بھی تا دیر مسکرا نہ سکا
سحر کی دودھیا پلکوں پہ جگمگا نہ سکا
دوسرے مہمانِ اعزازی محترم ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی صاحب انڈیا سے تشریف فرما تھے گویا ہوئے:
بچھڑے ہوئے دلوں کو ملایا ہے عید نے
اک نغمہ دل کے ساز پہ گایا ہے عید نے
یہ رحمتوں کا دن ہے مرادوں کی رات ہے
پھر دو جہاں کو آج سجایا ہے عید نے
پروگرام اپنے اختتام کی طرف رواں دواں تھا کہ ناظۂ مشاعرہ جناب اشرف علی اشرف سندھ پاکستان نے صدر مجلس کو دعوت کلام دی اور صدر مجلس نے کلام عطا کیا :
خوشی کے لمحے خوشی کی باتیں
ہے عید آئی سجاؤ راتیں
یہ رنگ کیسے بکھر رہے ہیں
یہ لوگ کیسے نکھر رہے ہیں
ہوا بھی کھن کھن کھنک رہی ہے
تو چوڑی چھن چھن چھنک رہی ہے
اس کے بعد صدر مجلس نے خطبۂ صدارت پڑھا اور اس عید ملن محفل کے اختتام کا باقاعدہ اعلان کیا۔
خطبۂ صدارت
عالمی مشاورتی پروگرام نمبر ۲۰۶ بعنوان عید ملن
اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے آخری پارہ میں یتامیٰ، مساکین اور غربا کے حقوق کا ذکر بار بار فرماتا ہے۔جیسے سورہ فجر میں فرمایا کہ رزق میں کمی کے خیال سے یتیم اور مسکین کی عزت میں کمی نہ کرنا ۔
پھر سورۃ البلد میں فرمایا کہ بلندی پر چڑھنے کا ذریعہ یتیم اور مسکین کی خبر گیری ہے۔
پھر الماعون میں فرمایا کہ ایسے نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے جو چھوٹی چھوٹی باتوں سے روکتا اور یتیم کو دھتکارتا ہے۔
پھر الضحٰی میں فرمایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یتیم پا کر پناہ دی اور تلقین فرمائی کہ فاما الیتیم فلا تقھر و اما الیتیم فلا تنھر۔
پھر جب ہم سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوراق پلٹتے ہیں تو زندگی کے ہر ایک شعبہ میں پیار اور انس ہی چھایا دکھائی دیتا ہے۔ غریب ہو یا امیر ، کوئی سربراہ ہو ماتحت ہر ایک کے ساتھ برابری کا سلوک روا رکھتے تھے سب کے لیے پیار کے پھول ہی نچھاور کرتے نظر آتے ہیں۔فرمایا کہ مجھے تلاش کرنا ہو تو غربا میں تلاش کرو۔
ایک دشمنِ اسلام آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غریبوں میں پا کر ایمان لے آیا تھا۔ وہ مدینہ میں یہ کہتے ہوئے داخل ہوا کہ اگر محمدﷺ غریبوں کے ساتھ ہوا تو سچا ہو گا اور میں ایمان لے آؤں گا۔
پہلی وحی کے نزول کے بعد آپﷺ کی جو کیفیت ہوئی اسے دیکھتے ہوئے اُم المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ عنہا نے جو تسلی دی وہ اس بات کی آئینہ دار ہے کہ آپ رشتہ داروں کو جوڑتے، مہمان نواز، صادق و مصدوق، بے نواؤں کی نوا، بے کسوں اور بے آسراؤں کی سرا، آمدنی سے محروم لوگوں کی امداد کرنے میں تاک اور سب سے بڑھ کر تُعِیںُ علیٰ نوائب الحق ہیں یعنی قحط اور وبائی بیماریوں میں مبتلا لوگوں کی تکلیف دور کرنے کے لئے ہمیشہ کمربستہ رہتے ہیں۔
حضرت ابوطالب نے جب آپﷺ کا نکاح حضرت خدیجہ سے پڑھایا تھا تو اسی مضمون کا ایک شعر پڑھا تھا اس کا ترجمہ یہ ہے:
محمد ﷺ کے باخدا ہونے کی وجہ سے قحط کے زمانے میں اس کے منہ کا واسطہ دے کر خدا کے حضور نزولِ بارش کی التجا کی جاتی ہے اور بارش نازل ہو جاتی ہے کیونکہ محمدﷺ یتامیٰ اور بیوگان کے لئے ملجاو ماوٰی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عزیز علیہ ماعنتم۔ یعنی مخلوق خدا کا دکھ درد آنحضور ﷺ پر گراں گزرتا ہے اور انہیں اس وقت تک چین نہیں پڑتا جب تک ان کی تکلیف دور نہ ہوجائے۔
آپﷺ فرمایا کرتے تھے کہ میں مساکین سے محبت رکھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ میری زندگی مساکین کے درمیان گزرے۔
عید کا یہی عظیم پیغام ہے جو سارا رمضان ہمیں دیتا ہے اور رمضان کے اخیر پر غربا سے جذبۂ ہمدردی کے تحت فطرانہ ادا کیا جاتا ہے اور عید اس کا عملی نشان ہے۔
ایک عید پر آنحضورﷺ کا ایسی جگہ سے گزر ہوا جہاں کچھ بچے کھیل رہے تھے اور عید پر ملنے والے تحائف کا ذکر فخریہ انداز میں کر رہے تھے کہ یہ تحفہ میرے ابا نے دیا اور یہ میری امی نے دیا۔ ایک کنارے پر ایک یتیم ناامیدی اور مایوسی کی تصویر بنا سب کچھ دیکھ رہا تھا آنحضورﷺ نے پوچھا کہ تم مایوس کیوں کھڑے ہو؟ اس نے بتایا کہ میرے امی ابا نہیں ہیں جو مجھے عید پر نئے کپڑے اور جوتے لے کر دیتے اور میں بھی خوشی منا سکتا۔ یہ سن کر آنحضرتﷺ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ، آپﷺ بچے کو لے کر گھر آئے اور ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ بی بی! اسے نہلاؤ اور نئے کپڑے پہناؤ۔ اس کے ماں باپ نہیں ہیں اور کہا کہ اے بچے گھبراؤ مت آج سے میں تمہارا باپ اور عائشہ تمہاری ماں ہے۔
ایک عید پر آنحضورﷺ کا ایسی جگہ سے گزر ہوا جہاں کچھ بچے کھیل رہے تھے اور عید پر ملنے والے تحائف کا ذکر فخریہ انداز میں کر رہے تھے کہ یہ تحفہ میرے ابا نے دیا اور یہ میری امی نے دیا۔ ایک کنارے پر ایک یتیم ناامیدی اور مایوسی کی تصویر بنا سب کچھ دیکھ رہا تھا آنحضورﷺ نے پوچھا کہ تم مایوس کیوں کھڑے ہو؟ اس نے بتایا کہ میرے امی ابا نہیں ہیں جو مجھے عید پر نئے کپڑے اور جوتے لے کر دیتے اور میں بھی خوشی منا سکتا۔ یہ سن کر آنحضرتﷺ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ، آپﷺ بچے کو لے کر گھر آئے اور ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ بی بی! اسے نہلاؤ اور نئے کپڑے پہناؤ۔ اس کے ماں باپ نہیں ہیں اور کہا کہ اے بچے گھبراؤ مت آج سے میں تمہارا باپ اور عائشہ تمہاری ماں ہے۔
عید کا یہ درس ہمیں حقیقی عید ملن کی طرف توجہ دلاتا ہے۔
ایک عید پر آنحضورﷺ کا ایسی جگہ سے گزر ہوا جہاں کچھ بچے کھیل رہے تھے اور عید پر ملنے والے تحائف کا ذکر فخریہ انداز میں کر رہے تھے کہ یہ تحفہ میرے ابا نے دیا اور یہ میری امی نے دیا۔ ایک کنارے پر ایک یتیم ناامیدی اور مایوسی کی تصویر بنا سب کچھ دیکھ رہا تھا آنحضورﷺ نے پوچھا کہ تم مایوس کیوں کھڑے ہو؟ اس نے بتایا کہ میرے امی ابا نہیں ہیں جو مجھے عید پر نئے کپڑے اور جوتے لے کر دیتے اور میں بھی خوشی منا سکتا۔ یہ سن کر آنحضرتﷺ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ، آپﷺ بچے کو لے کر گھر آئے اور ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ بی بی! اسے نہلاؤ اور نئے کپڑے پہناؤ۔ اس کے ماں باپ نہیں ہیں اور کہا کہ اے بچے گھبراؤ مت آج سے میں تمہارا باپ اور عائشہ تمہاری ماں ہے۔
آج کے اس عیدملن پروگرام کا مقصد بھی اسی بات کی یاددہانی ہے۔ اور ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کے چئرمین اور دیگر سب انتظامیہ مبارکباد کی مستحق ہے کہ ایسا پروگرام تشکیل دیا گیا جس میں سبھی شعرا اور نثرنگاروں نے کم و بیش اپنے اسی قسم کے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور نیک جذبات قبول فرمائے۔ آمین
آخر پر سب احباب کی خدمت میں ایک اور کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اللہ کرے کہ ہمارا ادارہ اسی طرح کے کامیاب پروگرام کرتا رہے اور اردو ادب کی ترقی میں صفِ اول میں شمار ہو۔
والسلام
خاکسار
احمدمنیب
ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کا یہ کامیاب دو صد چھٹا پروگرام ایک اور سنگ میل طے کرتا ہوا اپنے اختتام کو پہنچا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest