انٹر فیتھ افطار کے ذریعے دوریاں مٹاتی مسلم خواتین

انڈیا میں گزشتہ تین برسوں سے چند خواتین مل کر رمضان میں ان غیر مسلم افراد کو افطار کی دعوت دیتی ہیں جنہوں نے کبھی مسلمانوں کے ساتھ کھانا نہیں کھایا یا دوستی نہیں رکھی۔افطار کی ان دعوتوں کے ذریعے وہ مسلمانوں کے بارے میں انڈیا میں مختلف تعصبات کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس مشن کے آغاز کی کہانی کافی دلچسپ ہے۔انڈین مصنفہ نازیہ ارم کی کتاب ‘مدرنگ اے مسلم اس وقت تک شائع نہیں ہوئی تھی۔ اسی کتاب کے سلسلے میں وہ ریسرچ کر رہی تھیں جب انہوں نے پڑھا کہ ’انڈیا میں محض 33 فیصد غیر مسلم افراد ہی مسلمانوں کو اپنا دوست سمجھتے ہیں‘ اور پہلا سوال جو نازیہ کے ذہن میں آیا وہ یہی تھا کہ کیا باقی افراد مسلمانوں کو جانتے بھی ہیں؟
نازیہ ارم نے طے کیا کہ وہ افراد جو مسلمانوں کے گھر کبھی نہیں گئے، جنھیں مسلمانوں کی طرز زندگی کے بارے میں کچھ نہیں پتہ، انہیں مسلمانوں کے گھروں میں دعوت دی جانی چاہیے۔ان کے اس مشن میں چند دیگر خواتین نے ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ شہلا احمد، رخسار سلیم، حانہ خان اور مورخ اور مصنفہ رانا صفوی ان خواتین میں شامل ہیں۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ان خواتین کا یہ مشن انڈیا میں غیر مسلم اور مسلم افراد کے درمیان دوریاں کم کرنے کی ایک بنیادی کوشش ہے۔گذشتہ برس ان تعصبات کو سمجھنے کے لیے افطار میں شامل ہونے والی خواتین سے کہا گیا کہ انھوں نے مسلمانوں کے بارے میں جو سنا تھا اسے بغیر اپنا نام لکھے ایک پرچی پر لکھ دیں۔دلی سے شروع ہونے والا ‘انٹر فیتھ افطار کا سلسلہ اب انڈیا کے مختلف شہروں جیسے ممبئی، پونے، بھوپال اور بنگلور تک پہنچ چکا ہے۔ ان شہروں میں بھی متعدد مسلم خواتین ایک ساتھ مل کر ایسے افطار کا انتظام کرتی ہیں تاکہ اس میں شامل ہونے والی خواتین کی مسلمانوں کی طرز زندگی اور روزے کو سمجھنے میں مدد ہو سکے۔
انچ خواتین کی کوششوں سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ صرف دلی میں ہی اب تقریباً بیس خواتین تک پہنچ چکا ہے۔یہ خواتین افطار کے انتظامات کی ذمہ داری آپس میں بانٹ لیتی ہیں۔نازیہ ارم اور ان کی ساتھیوں کو یقین ہے کہ نفرت اور فاصلوں سے لڑنے کا سب سے بہتر طریقہ محبت ہے۔ان کا خیال ہے کہ چھوٹے چھوٹے قدم لے کر ہی ہم دوریاں کم کرتے ہیں۔

افطار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram