ہندوستانی مسلمان ۔یعنی چکن خوروں کی بھیڑ

 

 

سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ چکن کھانا حرام نہیں بلکہ حلال ہے ۔۔۔ خوب کھاؤ کوئی روکنے والا نہیں ہے مگر اتنا بھی نہیں کھانا چاہئے کہ بس چکن بن کے رہ جاؤ اور دن بھر سوائے چوں چوں کرنے کے، کچھ بھی مت کرو۔
ہندستانی مسلمان تو قرآن وحدیث سے سیکھنے سے رہے کیونکہ یہ کبھی اسے سیکھنے کے لیے بڑھتے ہی نہیں ۔۔۔ عام مسلمان تو دور ہمارے یہاں دارالعلوموں میں بھی یہ چیز سیکھنے سکھانے کے بجائے اکثر تبرک کےلئے ہی پڑھی اورپڑھائی جاتی ہے ۔۔۔ اس سے اوپر اٹھ گیے تو قرآن خوانی اور تراویح سے آگے نہیں بڑھ پاتے ۔
خیر چلو اب کچھ جے این یو ہی سے سیکھ لو ۔۔۔ جس کے بچے آج کل اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے سڑکوں پر لڑ رہے ہیں ۔۔۔ پولیس کی لاٹھیاں اور گالیاں کھارہے ہیں ۔۔۔ ایسا اس لیے نہیں کہ اس کے پیچھے کوئی خاص سیاست ہے ۔۔۔ بات صرف اتنی ہے کہ اگر نیا فیس مینول نافذ ہوگیا تو جے این یو کے تقریبا 40 ؍فیصد بچوں کو گھر بیٹھ جانا پڑے گا ۔۔۔ سیدھے طور پر کہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان چالیس فیصد طلبہ کے پاس کھونے کےلیے کچھ نہیں ہے اس لئے وہ اپنے حقوق اور وجود کی لڑائی لڑ رہے ہیں ۔۔۔ ان کی تعداد بھی بہت زیادہ نہیں ہے ۔۔۔ جے این یو میں محض 5؍ہزار بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
خیر پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہوچکا ہے ۔۔۔ اسی اجلاس میں شہریت ترمیمی بل پیش کیا جائے گا ، جس میں یہ صاف ہے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کرتمام وہ لوگ جو ہندستان میں پناہ گزین ہیں سب کو شہریت دی جائے گی ۔۔۔ اس بل کے بعد ایک اور بل لایا جائے گا جسے ہم سب این آر سی کے نام سے جانتے ہیں ۔۔۔ اس کے مطابق تمام لوگوں کو ثابت کرنا ہوگا کہ ہم ہندستان کے شہری ہیں یا نہیں ۔۔۔ اس میں بھی مسلمانوں کے علاوہ کسی کو کوئی دقت نہیں ہے کیونکہ غیر مسلم اگر نہیں بھی ثابت کر سکے تو ان کو شہریت ترمیمی بل کے ذریعہ شہریت دے دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو اٹھا کر حراستی کیمپ میں ڈال دیا جائے گا۔
کل ملا کر بات اتنی ہے کہ جس طرح جے این یو کے طلبہ کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے اسی طرح مسلمانوں کے پاس بھی کھونے کےلیے کچھ نہیں ہے مگر دونوں میں فرق ہے ۔۔۔ ایک جن کی تعداد مشکل سے محض پانچ ہزار ہے، کچھ ہزار کی فیس بڑھنے پر مستقل زائد از دو ہفتوں سے لڑ رہے ہیں ۔۔۔ دوسرے جن کی تعداد کم ازکم 20 سے 25 کروڑ ہے جو کبھی بھی این آرسی کی چھوری سے ذبح کیے جاسکتے ہیں ، دربے میں مرغوں کی طرح اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔
لنچنگ ہندستانی سماج اور بالخصوص مسلمانوں کو جانچنے کا ایک پیمانہ تھا اور مسلمان اس پر سو فیصد کھرے اترے اور مجھے یقین ہے کہ این آر سی پر بھی کھرے اتریں گے۔
کچھ لوگ بالخصوص جبہ ودستار والے کہتے ہیں کہ چلو اسی بہانے سب کے کاغذات درست ہوجائیں گے ۔۔۔ این آر سی کو دستاویز کی تیاری سمجھنے سے بڑی بھول کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔ اگر صرف کاغذات اور دستاویز کی بات ہے تو آسام جائیے اور ان لوگوں سے ملیے آپ کی آنکھ کھل جائے گی ۔۔۔ان لوگوں کے پاس ایسے ایسے دستاویز اور کاغذات ہیں جو ہم کیا ہمارے باپ دادا نے نام بھی نہیں سنے ہوں گے، مگر وہ این آر سی لسٹ سے باہر ہیں۔
این آرسی نٹھلے پارٹی کارکنان کی کمائی کے ساتھ ساتھ بھارت کو مسلم مکت بنانے کی حکمت عملی ہے ۔۔۔ آپ کو شاید یقین نہ آئے مگر یہ سب اسپین جاکر ریسرچ کرنے کے بعد اٹھایا جارہا قدم ہے۔
ذرا پوچھنے دیجئے کہ اگر جے این یو کے طلبہ سڑکوں پر اپنے حقوق کی لڑائی آکرلڑ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں ۔۔۔ جلی کٹو پر قانون کے خلاف تمل ناڈو کے ایک ہفتہ کے احتجاج ، مظاہرہ اور چکہ جام نے مودی سرکار کو آرڈیننس لانے پر مجبور کردیا تو ہم حکومت کو اس طرح مجبور کیوں نہیں کرسکتے۔؟ ۔۔۔ صرف دس لاکھ کسان دہلی کو چار دن کےلیے جام کر کے اپنی بات منوا لیتے ہیں تو ہم کیوں نہیں۔؟
اس طرح کی ہزاروں مثالیں ہیں مگر ہم یہ سب جب کریں جب ہمیں جلوس ، جلسہ اور چلہ سے فرصت ملے تب نا۔؟
سڑکوں پراترو اور اپنی بقا کی لڑائی لڑو ورنہ بھارت کو اسپین بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔۔۔ اب وجود پر بات آگئی ہے مصلحت کا چوتیاپا بند کرو ۔۔۔ انسان مصلحت تب دیکھتا ہے جب اس کے پاس کچھ کھونے کےلئے ہو اورجب نہ ہو تو بے تیغ بھی مگر میدان میں اترتا ہے ۔۔۔اگر کسی سے نہیں سیکھ سکتے تو دلتوں سے سیکھو۔۔۔ اونا اور سہارنپور۔۔۔ صرف دو واقعے ہوئے اور وہ بھیم آرمی کے نام سے ایک محاذ بنا کر کھڑے ہوگیے ۔۔۔۔ تم ابھی تک لنچنگ میں مارے جا رہے ہو مگر تمہارے پیٹ کا پانی نہیں ہلا ۔۔۔ کیونکہ تمہیں سوشل میڈیا اور ہوٹلوں پرچکن خوری کرکے چوں چوں کرنے سے ہی فرصت نہیں ہے ۔
باقی سب کشل منگل ہے ۔۔۔ خدا حافظ

سیف ازہر
جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی

2 Attachments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram