ہندو پاک کی کشیدگی میں خون کے رشتوں کا درد کون جانے گا؟

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جب بھی کشیدگی بڑھتی ہے اس کا خمیازہ عام لوگوں کو، کھلاڑیوں کو، ادیب و شاعروں کو، فلم اسٹارز کو بھگتنا پڑتا ہے۔ دنیا میں کسی بھی ملک کی سرحد پر اتنے جذباتی رشتوں کا خون نہیں ہوتا جتنی ہندوپاک سرحد پر۔ ابھی بھی خبروں میں دکھایا جارہاتھا کہ اٹاری بارڈر پر سبزیوں، پھلوں اور اناج کے ٹرک بھرے ہوئے کھڑے ہیں ،جن کو پاکستان جانا تھا۔ ہندوستان نے تین ندیوں راوی، ستلج، اور بیاس کا پانی روکنے کا فیصلہ بھی کیا ہے تو گویا پاکستان کا حقہ پانی بند کردیا ہے۔ بی سی سی آئی ۱۶؍جون کو مانچسٹر میں ہونے والے ہندوپاک میچ پر بھی شاید پابندی لگادے گی۔ پاکستان کے آرٹسٹ بھی اب یہاں نہیں آپائیں گے۔ ہندوستان سے شبانہ اعظمی اور جاوید اختر ایک پروگرام میں شرکت کے لیے جانے والے تھے جو کہ اب ممکن نہیں ہے۔
مجھے یہاں نہ ہندوپاک اداکاروں سے مطلب ہے نہ کھلاڑیوں سے نہ ہی ادیب و شاعروں سے ۔ اس سب کو سیاست طے کرے گی یا حکومت۔ حالانکہ میچ نہ کھیلنا بقول ششی تھرووربنا کھیلے ہارنا ہے۔ او ر جہاں تک مجھے یاد ہے ، کارگل کی جنگ کے میدان بھی شاید میچ پر روک نہیں لگی تھی، لیکن ہندوستان میں پلوامہ میں اتنے بڑے حادثے کے بعد حکومت جو بھی پابندیاں لگائے یہ اس کی اپنی پالیسی ہے اور وہ حق بجانب ہے۔ پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے یہ بھی واضح ہوچکا ہے ۔ لیکن اس سب میں سب سے زیادہ نقصان کس کا ہے؟
دونوں ممالک میں رہنے والے رشتے داروں کا ،عزیز و اقارب کا۔ میں دارالخلافہ دہلی میں رہتی ہوں جہاں پرانی دہلی میں مسلمانوں کی آبادی کثرت سے ہے اور اس پوری آبادی میں شاید ہی کوئی گھر ایسانہ ہو جس کے عزیز و اقارب پاکستان میں نہ بستے ہوں۔ کئی گھروں میں پاکستانی لڑکیاں شادی ہوکر آئی ہوئی ہیں ،کئی گھروں سے ہندوستانی لڑکیاں شادی ہوکر گئی ہیں کسی کی ماں یہاں تڑپ رہی ہے توکسی کی بیٹی وہاں تڑپ رہی ہے۔ ویزا کے معاملات ویسے ہی سخت تھے ۔اب ان حالات میں دونوں طرف کے رشتے داروں کا اور خون کے رشتوں کا ملنا ناممکن سا ہوگیا ہے ،او ریہ کام ہندوستانی اور پاکستانی چینلز اور مشکل کررہے ہیں۔ دن رات زہر اگل رہے ہیں مباحثوں میں نفرت کی اتنی شدت ہے جس کا اظہار لفظوں میں نہیں کیاجاسکتا۔ وہی چینلز پاکستانی ریٹائرڈ کرنلز کو اور صحافیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر لارہے ہیں اور اپنے چینلز کی ٹی آرپی بڑھارہے ہیں۔ ابھی تک کسی بھی چینل نے ہندوستانی یا پاکستانی عوام کا درد پیش نہیں کیا ۔ کسی کے رشتے دار کو چینل پر نہیں بلایا جو یہ بتاسکے کہ اس سب سے اُس کا دل کتنا زخمی ہے۔ پاکستانی چینلز پر بھی اینکرز ایسے مباحثے کررہے ہیں جیسے جنگ ہورہی ہو یا بس حملہ ہونے ہی جارہا ہو۔
ا ن حالات میں خون کے رشتوں کا ایک دوسرے سے ملنا ہی ناممکن سا ہوگیا ہے۔ ان کا درد کون جانے گا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest