محفل حمد و نعت زیر اہتمام ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری

مشاورتی پروگرام نمبر ۲۰۵
حمد کی تعریف:
حمد عربی لفظ ہے،جس کے معنی‘‘تعریف‘‘ کے ہیں۔ اللہ کی تعریف میں کہی جانے والی نظم کو حمد کہتے ہیں۔ حمد باری تعالیٰ،ہر زبان میں موجود ہے۔ عربی، فارسی، کھوار اور اردو زبان میں اکثر دیکھی جاسکتی ہے۔
حمد و مناجات کے متبادل انگریزی کے کئی الفاظ وضع کیے گئے ہیں:
Praise of God
اور Hymn
یا پھر Psalm ہے ۔
ان کا لفظی معنی (Literal Meaning) یا حتمی تعریف ثنائے رب کریم ہے۔
اللہ کی تعریف و توصیف ہر زمانے میں ہوتی رہی ہے۔ یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔ اللہ رب العزت یعنی خدا کو انگریزی میں God کہتے ہیں۔
G یعنی Generator ،
Oیعنی Operator ،
D یعنی Destructor مطلب یہ کہ خدا خالق، پالنہار اور قہار یعنی تخریب کار بھی ہے۔
ہندو دھرم میں اس کے متعدد ناموں میں ایک نام ’’نارائن‘‘ ہے۔سنسکرت کے اس لفظ کا اشتقاق کچھ یوں ہے۔ ’’نار‘‘ بمعنی پانی اور ’’آئن‘‘ بمعنی متحرک۔ ڈاکٹر یحییٰ نشیط کے مطابق ادیان سنسکرت نے اس کا معنی قرآن کی آیت ’’وکان عرشہ علی الماء‘‘ (خدا کا عرش پانی پر ہے) سے ملا دیا ہے۔
اس ترکیب کے دوسرے معنی بھی دستیاب ہیں۔ مثلاً ’’نار‘‘ بمعنی آگ اور ’’آئن‘‘ بمعنی ہالہ، گھیرا یعنی نور کے ہالے والا۔ اس معنی کے رو سے بعض نے ’’اللہ نور السمٰوت والارض‘‘ سے ملایا۔ مطلب یہ کہ ثنائے رب جلیل کے عالم انسانیت کے جذبے اور رویے میں یکجہتی اور یکسانیت کے آثار پہلے سے ہی موجود ہیں۔ تفریق و امتیاز محض مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے عقائد میں ہے لیکن سبھی کے عقائد خداوندی میں تلاش وحدت ہی ہے۔
فرہنگ آصفیہ، جامع اللغات، نور اللغات اور دوسری لغت کی کتابوں میں ’’مناجات‘‘ کے لغوی اور فنی معنی اپنا بھید کہنا یا پھر طلب نجات کے لئے خدا کی بارگاہ میں دعا کرنا سے بیان کئے گئے ہیں۔
قرآن کریم اور حمد و مناجات:
مدح کے لغوی معنی تعریف، توصیف، ستائش جبکہ منت سماجت بمعنی عرض معروض، خوشامد اور درخواست ہیں۔
اول الذکر سے ’’حمد‘‘ اور ثانی الذکر سے ’’مناجات‘‘ کی اصطلاحات مشتق ہیں۔ یہ اصطلاحات ذات باری تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ لہٰذا حمد اور مناجات کا اطلاق خدائے وحدہ لاشریک کے علاوہ کسی اور کے لئے روا نہیں رہا۔
مولانا ابوالکلام آزاد حمد کی تعریف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :
’’عربی میں حمد کے معنی ثنائے جمیل کے ہیں یعنی اچھی صفات بیان کرنا۔ اگر کسی کی بری صفتیں بیان کی جائیں تو وہ حمد نہ ہو گی۔ ‘‘ (ترجمان القرآن، جلد اول،ص:۳۱)
قرآن حکیم کی کئی سُوَر کا حمد یا الحمد کے لفظ سے آغاز اس کاغماز اور ترغیب ہے کہ بندے بھی اللہ کی پاکی بیان کریں۔ پس خدائے لم یزل کی پاکی بیان کرنا، اس کی ذات و صفات کی تعریف حمد ہے اور یہ قرآن حکیم کا منفرد اسلوب بیان ہے۔
سورۃ الحشر، الصف ،سورۃ الجمعہ اور التغابن کی ابتدا میں ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اللہ کی تسبیح و حمد کرتا ہے ۔ مؤمنین کو بعض جگہ حکم دیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کیاکریں۔ مثلاً:
’’سبح باسم ربک الاعلیٰ‘‘ (سورۂ الاعلیٰ، آیت نمبر ۱)
’’واللہ الاسماء الحسنیٰ فادعوابھا‘‘ (سورۂ الاعراف، آیت نمبر ۱۸۰)
اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا احاطہ ممکن نہیں اس لئے حمدمیں جو چاہے بیان کر لیں اسے مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت ہی کہا اور سمجھا جائے گا۔
حمد مدح رب العالمین ہے تو مناجات اس سے مانگنے کا ایک مخصوص انداز! بندہ اپنے رب کے حضور خودکو کمتر، حقیر اور گناہ گار پیش کرتے ہوئے التجا کرتا ہے۔ ہر مناجات دعا کا ہی رنگ رکھتی ہے میرا ماننا ہے کہ دعا تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن مناجات کا تعلق ایمان سے ہے۔ سورۂ فاتحہ حمد و مناجات کی بہترین مثال ہے۔
قرآن پاک میں حمد کے مفہوم کی بے شمار آیتیں موجود ہیں جن میں سے چند نمونہ پیش ہیں۔
الحمد اللہ الذی خلق السمٰوٰت والارض (سورۃ الانعام )
ھواللہ الذی لا الہٰ الاھو، عالم الغیب والشھادہ ھوالرحمن الرحیم۔ ھواللہ الذی لا الہٰ الاھو الملک القدوس السلام المؤمن المھیمن العزیز الجبار المتکبر سبحٰن اللہ عما یشر کون۔ ھواللہ الخالق الباریٔ المصورلہ الاسماء الحسنیٰ یسبح لہ مافی السمٰوٰت والارض وھوالعزیز الحکیم۔ (سورۃ الحشر آخری تین آیات)
آیت الکرسی حمد کی بہترین مثال ہے۔
حمد و مناجات اور شریعت:
دعا، مناجات، التجا، گزارش، دہائی، فریاد، معاونت یا استعانت مترادفات ہیں۔ جب ان الفاظ کا رشتہ براہ راست خالق کائنات سے جُڑتا ہے تو نہ صرف ان کا احاطہ فکر وسیع و آفاقی ہو جاتا ہے بلکہ عقیدتوں کی پاکیزگی ، ادب و احترام کی نازکی اور روحانی لطافت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ روحانی اثرات پر مکمل یقین اور اعتقاد رکھنے والا جھونپڑی کا مکین ہو یا محل میں قیام پذیر، آقا ہویا غلام، کسان ہو یا امیر ذیشان، قلندر ہو یا سکندر، شاہ ہو کہ گدا، ڈاکٹر،عالم، انجینئر یا سائنسدان ہو یا ناخواندہ سیدھا سادا ملازم پیشہ انسان۔ اس کی زندگی کے تمام گوشے، سکھ دکھ، اونچ نیچ، دھوپ چھاؤں یہاں تک کہ فرط انبساط اور دلفگار غم میں بھی ایک دلربائی اور چہروں پر قلب مطمئنہ کا جمال نظر آئے گا۔
آستان ناز پر جس کی جبیں ہے سجدہ تو کیا
اس کو کوئی تاج سلطانی بھی پہنائے تو کیا؟
اللہ کو ’’علی کل شیئٍ قدیر‘‘ تسلیم کر کے اپنی عاجزی، انکسار، بے کسی اور مجبوریوں کا اظہار اسلوب مناجات ہے ۔
حضرت فرید الدین عطارؒ فرماتے ہیں :
ذکر حق آمد غذا ایں روح را
مرہم آمد ایں دل مجروح را
حضرت مولانا رومیؒ فرماتے ہیں :
خود چہ شیرین ست نام پاک تو
خوشتر از آب حیات ادراک تو
خاقانیؒ لکھتے ہیں کہ:
پس از سی سال ایں معنی محقق شد بخاقانی
دے با باد حق بودن بہ از ملک سلیمانی
حضرت سعدیؒ اور حکیم سنائی نے اسم ذاتی اللہ کو بہترین حمد و مناجات قرار دیتے ہوئے ’’سلطان الاذکار‘‘ کہا ہے۔
اسلامی معاشرے کا یہ خاصہ ہے کہ
کسی کام کی ابتدا کرے تو کہے، بسم اللہ۔
وعدہ کرے تو کہے، ان شاء اللہ۔
کسی خوبی کی تعریف کرے تو کہے، سبحان اللہ۔
کوئی تکلیف پیش آئے تو کہے، جزاک للہ۔
کسی سے اپنی خیر و عافیت کا ذکر کرے تو کہے، الحمد اللہ۔
جانے انجانے میں گناہ سرزد ہو تو کہے، استغفراللہ۔
کسی کو رخصت کرے تو کہے،فی امان اللہ،
نا زیبا کلمات زبان و قلم پر آئیں تو کہے، نعوذ باللہ اور
موت کی خبر سنے تو کہے، انا للہ و انا اللہ راجعون۔ وغیرہ وغیرہ۔
حمد و مناجات کا اسلوب:
حمد و مناجات کا اپنا کوئی مخصوص اسلوب نہیں ہے۔ غزلیہ ہیئت کے علاوہ قصیدہ، مثنوی، قطعہ، رباعی، نظم، آزاد غزل، مخمس، مسدس، مثلث، مربع، ثلاثی، دوہے، سانٹ، ترائیلے اور ہائیکو جیسی اصناف میں بھی حمدیہ و مناجاتی شاعر ی ہو رہی ہے۔ لیکن غزلیہ ہیئت کو دیگر اصناف کے مقابلے میں زیادہ شہرت ملی ہے۔
حمد کی تاریخی اہمیت:
حمدیہ ترانوں کے ابتدائی نقوش اور تاریخی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر یحییٰ نشیط فرماتے ہیں :
’’ کُلدانیوں اور حُطیوں کے مٹی کی پکی اینٹوں پر کندہ کیے گئے حمدیہ ترانوں سے لے کمپیوٹرائزڈ کتابوں کے دور تک حمدیہ ترانے برابر لکھے اور اَلاپے جا رہے ہیں۔ ان کی گنگناہٹ جہاں فضائے آسمانی کو معمور ہوئے ہے وہاں قلوب انسانی میں بھی ہلچل پیدا کرنے کا سبب ہے اور بعید نہیں کہ ثنائے رب کریم کا یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے۔ ‘‘
حمد کی دینی و ادبی قدر و قیمت:
حقیقی معبود اللہ رب العزت ہے، وہی ادب کا ہنر بھی عطا کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پروردگار نے مجھے ادب عطا کیا ہے۔ دراصل ادب ظاہر اور باطن کی تہذیب اور آراستگی ہے۔ کمال، مکارم اخلاق سے اور مکارم اخلاق، تحسین اور تہذیب خلق سے ہے۔ اردو زبان میں جب سے شاعر ی کا تجربہ ہوا تبھی سے حمد لکھی گئی۔
حمد کی دینی اور ادبی قدر و قیمت کی وجہ سے یہ صرف ہمارے مضطرب جذبات کی تسکین کا سامان، تفنن طبع، احساس جمال، انفرادی لذت کوشی، خوف خدا، بصیرت و بصارت کی توثیق یا شاعر ی برائے شاعر ی ہی نہیں ہے بلکہ ادب میں اس کی مستقل صنفی حیثیت ہے۔ یہ درست ہے کہ عروض و بلاغت اور قواعد ِاصنافِ سخن کی کتب میں حمد و مناجات کی صنفی حیثیت کا ذکر نہیں ہے کیونکہ عقیدت اور بسم اللہ کے طور پر حمدکہی جاتی ہےاور حمد و مناجات کے لئے والہانہ عشق ضروری ہے کیونکہ اظہار افعال و اعمال سے وابستہ ہے۔ مہارت و محاربت، متانت و سنجیدگی اور جوش ربانی کی فراوانی کے بغیر کوئی بھی شاعر حمد میں اظہار عقیدت نہیں کر سکتا۔
الہام، القا، گیان اور دھیان کے تصور سے مملو یہ صنف سخن، ماورائی، داخلی اور ذہنی قوت کی دین ہے۔ شعر ی روایت کے معنوی تسلسل میں حمد تصور و تفکر، عبقریت، ذہنی رفعت اور جذبات و حواس کے ذریعے سے دخیل ہے۔ سیموئل ٹیلر کولرج کہتے ہیں:
’’میں متخیلہ کو بنیادی اور ذیلی سمجھتا ہوں۔ بنیادی متخیلہ وہ ہے جو تمام انسانی ادراک کا محرک ہے اور وہ خارجی تخلیق کاری میں دماغ کے محدود حصہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ جبکہ لامحدود حصہ اس کی ذات “I am” ہوتی ہے۔ ذیلی تصور بنیادی تصور ہی کی بازگشت ہوتا ہے جو شعوری ارادے کے ساتھ منسلک ہوتا ہے لیکن وہ تقریباً بنیادی تصور کی طرح تخلیق کا محرک ہوتا ہے۔ ‘‘
’’میں ہوں ‘‘ کی طرف سے موضوعی تخلیق کا یہ لائحہ عمل داخلی آواز ہے جو Objective Co-relatives میں ضم ہو کر شعر ی روایت کے داخلی اور خارجی عناصر کی Pure Subjectivity کی طرح حمدیہ شاعر ی کے معنوی تسلسل کو جنم دیتی ہے یا تابع بناتی ہے۔
آغازِ سخن وری سے ۱۹۳۷ء تک ادب اور مذہب ہم آہنگ رہےلیکن ترقی پسند تحریک اور روسی اشتراکیت کے نظریے سے متاثر ہونے والوں نے ادب اور مذہب کو تقسیم کرنے کی شعوری کوشش کی جس کا منفی اثر سرمایۂ ادب پر ضرور پڑا۔ لیکن ۱۹۶۰ء خصوصاً ۱۹۸۰ء کے بعد شعرا نے حقیقت سمجھ کر اس سے جان چھڑا ئی اور متعین طرز اظہار ’’حمد‘‘ کو بلا جھجک اپنا لیا ہے۔ قرآن کریم کے سولہویں پارہ میں سورۃ الکہف کی تیسری رکوع کی آخری آیت ہے کہ:
’’قل لوکان الجرمداد الکلمٰت ربی النفدالبحرقبل ان تنفد کلمت ربی ولوجئنا بمثلہٖ مددا۔ ‘‘
حمد سے بے توجہی کی وجہ Anthroposphere ماحول بھی رہا ہے۔ ویسے سچائی یہ بھی ہے کہ اردو میں حمدیہ شاعر ی کا پہلا مجموعہ غلام سرور لاہوری کا ہے جو ’’دیوان حمد ایزدی‘‘ کے نام سے ۱۸۸۱ء میں مطبع نول کشور، لکھنو سے شائع ہوا۔ مثال دیکھئے :
زباں پر ذکر حمد ایزدی ہر دم رواں رکھنا
فقط یاد الٰہی سے غرض اے مری جاں رکھنا
مختلف ادوار میں حمد کے فکری اور اسلوبیاتی تجربے ہوتے رہے اور یہ اسلوبیاتی تغیر مرحلہ وار محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
حمد اور مناجات کی اہمیت و ضرورت:
حمد کا لفظ شکر کے لفظ سے زیادہ عام اور مقبول ہے اس لئے کہ وہ لازم اور متعدی دونوں صفات کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ مخلوق پر اللہ کی نعمتیں ان گنت ہیں ۔ انسان میں عالم اکبر کی تقریباً ساری ہی مثالیں موجود ہیں۔ ہمارا جسم حد نگاہ تک پھیلی ہوئی زمین کی طرح، ہمارے بال، نباتات کی مثال تو ہماری ہڈیاں پہاڑوں کی مانند ہیں۔ جسم کو خون فراہم کرنے والی شریانیں، وریدیں اور عروق شعر یعنی باریک رگیں تو دریاؤں، نہروں اور چشموں کی مثال ہیں جن کے ذریعہ عالم اکبر یعنی زمین کی سرسبزی کی طرح عالم اصغر یعنی ہمارے جسم کی شادابی برقرار رکھی جاتی ہے۔
جملہ نعما متقاضی ہیں کہ انسان اپنے محسن اور منعم یعنی اللہ، الرحمن الرحیم کے احسانات اور انعامات کی شکر گزاری میں اس کی حمد و ثنا کرتا رہے جس کی ترغیب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے کلام پاک کو لفظ ’’الحمد‘‘ سے شروع فرما کر دلائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبادات میں حمد و ثنائے الٰہی کا مقام کلیدی ہے۔
قدیم حمدیہ شاعر ی:
عربی، فارسی کی طرح اردو شاعر ی میں بھی حمد کہنے کی روایت برابر ملتی ہے۔ اردو شعرا نے عقیدت و ایمان کے گل ہائے معطر حمدکی لڑیوں میں پرو کر باری تعالیٰ کے اوصاف حمیدہ اور اسمائے حسنیٰ کے گیسو ہائے معتبر سجائے ہیں۔
’’کدم راؤ پدم راؤ‘‘ (۱۴۲۱ء اور ۱۴۳۴ء ) از فخر الدین نظامی بیدری کو حالیہ تحقیق کے مطابق اردو کی قدیم ترین تصنیف تسلیم کیا گیا جو اردو مثنوی کے عناصر ترکیبی میں حمد و نعت و منقبت کا شہکار ہے۔
پھر عبدلؔ کاابراہیم نامہ،خوب محمد چشتی کا خوب ترنگ، شاہ برہان الدین جانم، غواصی، ابن نشاطی کا ’’پھول بن‘‘ تو صنعات لفظی و معنوی کا بیش بہا خزانہ ہے، نصرتی دکن کی دو مثنویاں ’’گلشن عشق‘‘ اور ’’علی نامہ‘‘،قلی قطب شاہ معانیؔ کا صنعت ردالعجز میں خوبصورت کام، علی عادل شاہ ثانی شاہیؔ کی حمدیہ غزل اور مثنوی ’’خیبرنامہ‘‘ حمد کے ارتقا کی مثالیں ہیں۔ ’’احسن القواعد‘‘ میں محمد نجف علی خاں نے مثنوی کے اقسام، اشعار اور اوزان سے بحث کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’داستان مثنوی کے لیے تمہید شرط ہے اور ربط کلام کا سلسلہ واجب اور مثنوی کے دیباچہ میں کئی چیزیں لازم ہیں توحید، مناجات، نعت، مدح سلطان زماں، تعریف کے دیباچہ میں ان سب باتوں کے موجد حضرت نظامی گنجوی ہیں۔ ان سے پہلے مثنوی کو فقط قصے سے شروع کیا کرتے تھے۔ ‘‘
فنی اعتبار سے مناجات کے اجزائے ترکیبی:
فنی اعتبار سے مناجات کے اجزائے ترکیبی حسبِ ذیل ہیں:
۱ تعریف خداوندی
۲ انسان کی بے کسی و عاجزی
۳ نجات طلبی
۴ حمدیہ استدلال
۵ دعائیہ

نعت:
حضرت اقدس محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ ”مدحِ رسول“ استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ نعت لکھنے والے کو نعت گو شاعر جبکہ نعت پڑھنے والے کو نعت خواں یا ثنا خواں کہا جاتا ہے۔
نعت گوئی کی تاریخ:
گوکہ یہ کہنا مشکل ہے کہ نعت خوانی کا آغاز کب ہوا تھا لیکن روایات سے پتا چلتا ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا ابوطالب نے پہلے پہل نعت کہی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش سے پہلے تبان اسعد ابو کلیکرب اور بعد ازاں ورقہ بن نوفل بھی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی شان میں نعت کہی۔
اردو کے مشہور نعت گو شاعر فصیح الدین سہروردی کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا ابوطالب اور اصحاب میں حضرت حسان بن ثابتؓ پہلے نعت گو شاعر اور نعت خواں تھے۔اسی بنا پر اُنہیں شاعرِ دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی کہا جاتا ہے۔ نمونہ ٔکلام ملاحظہ فرمائیں:
یابکر آمنة المبارک بکرھا ولدتہ محصنة بسعد الاسع
نوراً ضاء علی البریة کلھا من یھد للنور المبارک یھتدی
متی يبد في الداجي البهيم جبينه
يلح مثل مصباح الدجي المتوقد
از دیوان حضرت حسان بن ثابت 153
ترجمہ:”اے آمنہ کے مبارک بیٹے! جس کی پیدائش انتہائی پاکیزہ اور سعد ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ نور ہیں جس نے سب مخلوقات کو منور کر دیا اور اس مبارک نور کی پیروی کرنے والا ہدایت پا گیا۔
شبِ تاریک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جبینِ اقدس اس طرح چمکتی دکھائی دیتی ہے جیسے گھپ اندھیرے میں روشن چراغ ۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود کئی مرتبہ حسان بن ثابت سے نعت سماعت فرمائی۔ حسان بن ثابت کے علاوہ بھی ان اصحاب کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں نعتیں لکھیں اور پڑھیں۔ کعب بن زہیر اورعبداللہ ابن رواحہ نے ترنم سے نعتیں پڑھیں۔
جب حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکے سے ہجرت فرما کر مدینے تشریف لائے تو آپ کے استقبال میں انصار کی بچیوں نے دف پر جو نعت پڑھی اس کا مطلع شہرتِ دوام پاگیا:
طلع البدر علینا من ثنیات الوداع
و جب الشکر علینا ما دعا للہ داع
نعت گو اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم:
مندرجہ ذیل صحابہ کرام کو نہ صرف حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نعت پڑھنے کا شرف حاصل ہوا بلکہ کئی روایات سے ثابت ہے کہ حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود کئی بار ان اصحاب سے نعت سماعت فرمائی:
حسان بن ثابت، اسود بن سریع، عبد اللہ بن رواحہ، عامر بن اکوع، عباس بن عبد المطلب، کعب بن زہیر اور نابغہ جعدی۔
نعت گو علماءِ اُمَّت :
امام ابوحنیفہ، مولانا روم، شیخ سعدی، مولانا جامی، امام بوصیری، احمد رضا خان، علامہ ریاض الد ین سہروردی، محمد قاسم نانوتوی، حکیم الاسلام طیب قاسمی اور سید نفیس الحسینی شاہ۔ وغیرہ
اولیاء اللہ اور نعت خوانی:
اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک سے لے کرعہدِ حاضر تک جہاں صحابہ کرام اور علما نے حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نعتوں کی روایت کو فروغ دیا وہیں اولیاء اللہ نے بھی اسلام کی ترویج و اشاعت کے ساتھ حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عشق کو ایمان کی تکمیل کے لیے ناگزیر قرار دیا اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اظہار کے لیے نعت خوانی کوایک بہترین ذریعہ قرار دیا۔ تمام تر سلاسلِ تصوف میں محافلِ نعت خوانی کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ ایسی برگزیدہ ہستیوں کے نام ذیل میں درج ہیں جنہوں نے نہ صرف نعت خوانی کو فروغ دیا بلکہ خود بھی نعت گوئی کی:
شیخ سیدنا عبدالقادر جیلانی، بابا فرید الدین گنج شکر، سلطان باہو، بابا بلھے شاہ، میاں محمد بخش،خواجہ نظام الدین اولیاء، امیر خسرو،خواجہ عثمان ہارونی اور مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری وغیرہ۔
مسلم نعت گو شعرا:
حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ثناء خوانی کرنے والے ہر دور میں پیدا ہوئے اور آج بھی ہر شاعر نعت لکھنا اپنے لئے اعزاز خیال کرتا ہے۔ یہ بھی سمجھتا ہے کہ حمد و نعت لکھنے کی توفیق ہر ایک کو نہیں ملتی بلکہ یہ رضائے باری تعالیٰ کی ایک نشانی ہے کہ حمد ومناجات اور نعت لکھنے کی توفیق عطاہو۔بعض شعرا نے اپنے اس فن اور ہنر کے طفیل ابدی شہرت پائی۔ ذیل میں ایسے حضرات کی فہرست دی جا رہی ہے:
احمد رضا خان۔ آپ کا مشہور سلام :مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام۔ عوام و خواص میں بے پناہ مقبول ہے،حسن رضا خان، امیر مینائی، الطاف حسین حالی، صائم چشتی، ادیب رائے پوری، علامہ اقبال،خواجہ بیدم وارثی، محمد علی ظہوری، حافظ مظہر الدین مظہر، حفیظ تائب، حامد یزدانی، مولانا کوثر نیازی، بہزاد لکھنوی، عبدالستار نیازی، ریاض حسین چودھری، ضیاء نیر، حسین محی الدین، قمر الدین انجم، قمر اجنالوی، پروفیسر اقبال عظیم، خالد محمود نقشبندی، مولانا ظفر علی خان، ماہرالقادری، علیم ناصری،یزدانی جالندھری، منصور آفاق، مقصود احمد تبسّم، خالد علیم، تنویرپھول، اعجاز رحمانی، پیر نصیر الدین نصیر گیلانی، مولانا الیاس قادری، شاکرالقادری، عباس عدیم قریشی، ندیم رضا فارق، مرزا حفیظ اوج، آصف قادری، نذر صابری، صبا اکبرآبادی، مظفر وارثی، صبیح رحمانی، صہبا اختر اور شعیب جاذب ۔
غیر مسلم نعت گو شعرا:
اللہ تعالیٰ نے آنحضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رحمۃ للعالمین قرار دیاہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت و ثنا خوانی جہاں مسلمانوں کا شعار رہی ہے، وہیں کچھ ایسے غیر مسلم شعرا بھی ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا اور آپ کے اوصافِ حمیدہ ان پر کھلے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بہت عمدہ نعتیہ کلام لکھے۔ خصوصاً بھارتی شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی سحر نے اس سلسلے میں لافانی اشعار حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کہے، جو بہت پسند کیے گئے اور اکثر ان کے ان اشعار کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ:
ہم کسی دین سے ہوں صاحبِ کردار تو ہیں
ہم ثنا خوانِ شہِ حیدرِ کرّار تو ہیں
نام لیوا ہیں محمدؐ کے پرستار تو ہیں
یعنی مجبور پئے احمدِ مختارؐ تو ہیں
اور یہ شہرہ آفاق شعر کہ:
عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمدؐ پہ اجارہ تو نہیں
پاکستان کے مشہور جسٹس رانا بھگوان داس بھی نعت گو ہیں۔ ان کی ایک نعت کے کچھ اشعار درج ہیں:
نبیٔ مکرم شنہشاہ عالی
بہ اوصافِ ذاتی و شانِ کمالی
جمالِ دو عالم تری ذاتِ عالی
دو عالم کی رونق تری خوش جمالی
خدا کا جو نائب ہوا ہے یہ انساں
یہ سب کچھ ہے تیری ستودہ خصالی
ان کے علاوہ جرمنی کے قومی شاعر جناب گوئٹے نے نعت نبی پر ایک پوری کتاب لکھی اور پاکستان میں ایک مشہور معروف عیسائی شاعر جناب نذیر قیصر کا مجموعۂ نعت شائع ہوا جسے پاکستان کے ایک بڑے ادبی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ گویا ہر ایک کو نعت گوئی کی توفیق کہاں؟
نعت خواں:
یہ بھی ایک سعادت ہے کہ کسی کی لکھی ہوئی یا خود لکھ کر نعت کو خوش الحانی کے ساتھ ترنم اور سوز و گداز دل کے ساتھ پڑھنا اور لوگوں میں پذیرائی حاصل کرنا۔ بعض لوگ اس میدان میں بھی کمال حاصل کر لیتے ہیں اور زندہ و جاوید ہو جاتے ہیں۔ چند مشہور نعت خواں حضرات کا ذکر خیر بھی یہاں ضروری ہے:
محمد علی ظہوری، اعظم چشتی، اختر قریشی، نصراللہ خاں نوری، قاری زبیدرسول، محمد شکیل قادری، الحاج عمران شیخ قادری، اویس رضا قادری، عبد الرؤف روفی، خورشید احمد، صبیح رحمانی، مشتاق قادری، محمد افضل نوشاہی، عبدالستار نیازی، مرغوب احمد ہمدانی، محبوب احمد ہمدانی، طاہر قادری، سید منظور الکونین، سید بلال منظور، سید باغ علی شاہ، سید امین گیلانی، قاری حنیف شاہد رامپوری، سید سلمان گیلانی، شاہد عمران عادفی اور حافظ ابوبکر مدنی۔ وغیرہ
محترم قارئین!
حمد و مناجات اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پر میں نے جو تحقیق کر رکھی ہے اس کو اگر میں لکھنا شروع کروں تو ہزار سے زیادہ صفحات ہو جائیں اور یہ ذکر تمام نہ ہو۔ میں نے اجمالاً بہت ساری باتوں کا ذکر کیا اور ان کی تفصیل میں جان بوجھ کر نہیں گیا تا کہ احباب کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔ اس اجمالی خاکے سے بھی آپ کو بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ حمد و مناجات اور نعت کا میدان کتنا وسیع ہے۔ جن مثنویوں کا ذکر خاکسار نے حمد کے حوالہ سے کیا ہے ان کی ساری تفصیل میرے پاس لکھی ہوئی موجود ہے اور ایک ایک شعر پر کام کیا ہوا موجود ہے لیکن یہاں مزید طوالت کے خوف سے اسی پر اکتفا کر رہا ہوں اور آپ کو بتاتا چلوں کی اس کی تقریب اس لئے پیش آئی کہ برقی دنیا میں جناب توصیف ترنل کے سر یہ سہرا بندھتا ہے کہ وہ شعرا کو مختلف موضوعات اور اہداف دے کر ہفتہ وار پروگرام کرواتے ہیں اور اب تک ۲۰۵ پروگرام منعقد کئے جا چکے ہیں۔
پروگرام نمبر ۲۰۵ رمضان المبارک کی آمد کی بدولت حمد و نعت کے عالمی مشاورتی پروگرام کے موضوع پر کیا گیا۔ خاکسار راقم الحروف نے اس کا آئیڈیا پیش کرنے کی سعادت پائی۔
یہ پروگرام 04مئی 2019 بروز ہفتہ، پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے اور ہندوستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجےمنعقد کیا گیا۔
تمام احباب نےوقتِ مقررہ پر تشریف لاکر پروگرام کو رونق بخشی ۔ اس پروگرام کی کرسیٔ صدارت پر محترم تہذیب ابرار بجنور انڈیا سے متمکن ہوئے جن کے کلام کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں:
اپنے دامن میں چھپا لینا مجھے شاہ اُمم
حشر میں سورج کا جب تپتا سماں ہو میں نہ ہوں
اس پروگرام کے مہمانانِ خصوصی محترم سعید سعدی تھے جو بحرین سے اس پروگرام میں شامل ہوئے۔ انہوں نے کلام پیش کیا کہ:
مرے رب مری ہے یہ التجا درِ مصطفےٰ سے جُڑا رہوں
مری ذات میرے عیال پر تری رحمتوں کا نزول ہو
دوسرے مہمان خصوصی محترم رضاءالحسن رضا تھے جن کا تعلق امروہہ یو پی بھارت سے ہے انہوں نے بھی اپنے خوب صورت کلام سے نوازا کہ:
وہ منزل قبر کی ہو یا کہ ہو ہنگامۂ محشر
گنہگاروں کی سرکارے دو عالم پر نظر ہوگی
قارئین محترم! اس پروگرام کے مہمانانِ اعزازی میں پہلی کرسی پر محترم وسیم احسن ٹھاکرگنج بِہار بھارت سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے کلام پیش فرمایا کہ:
اذن ہو گر ترا تو یہ عبدِ ذلیل
دیکھ لے آکے تیری گلی کی چمک
اس پروگرام کے دوسرے مہمان اعزازی ایک مشہور و معروف شاعر جناب فانی ایاز احمد جموں و کشمیر
کی حسین و جمیل وادی سے تشریف فرما تھے انہوں نے کلام پیش فرمایا کہ:
ترے نیک بندوں میں شامل رہوں
تری اور خدا کی رضا چاہئے
قارئین محترم! اس ادارہ کی انتظامیہ حسب ذیل ہے جو دن رات اردو ادب کے فروغ کے لئے کوشاں رہتی ہے:
ادارہ کے بانی و چیئرمین جناب توصیف ترنل ہیں جو ہانگ کانگ میں مقیم ہیں، ادارہ کے وائس چیئرمین محترم ڈاکٹر شفاعت فہیم بھارت سے تعلق رکھتے ہیں، ادارہ کے صدر مقام ایک بہت ہی چوٹی کے شاعر اور نقاد جناب مسعود حساس ہیں جو کویت میں مقیم ہیں، ادارہ کے نائب صدر مقام محتر م شہزاد نیّر ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہے، ادارہ کے جنرل سیکریٹری لیہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے جناب صابر جاذب ہیں، سیکریٹری ادارہ محترم غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان سے تعلق رکھتے رکھتے ہیں، پروگرامز کے چیف آرگنائزر جناب احمر جان رحیم یار خان پاکستان سے ہیں، ادارہ کے ریسرچ سکالرجناب احمدمنیب لاہور پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔
قارئین محترم اس تاریخی اور بابرکت پروگرام کی نظامت محترمہ صبیحہ صدف نے سمبھالی جو بھوپال بھارت سے تعلق رکھتی ہیں اور بہترین انداز میں نظامت کی توفیق پائی۔اس پروگرام کی رپورٹ خاکسار احمدمنیب لاہور پاکستان آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت پا رہا ہے۔
جن شعرا نے حمد و نعت کی اس بابرکت محفل میں شرکت کی توفیق پائی ان کے اسما اور نمونۂ کلام ملاحظہ ہو۔
محترمہ صبیحہ صدف بھوپال بھارت
معطر زندگی میری ہے بس نامِ محمد ؐ سے
تصور ہو تخیل ہو نشاطِ دائمی ہو تم
خاکسار کو پکارا گیا تو خاکسار نے احمدمنیب لاہور پاکستان نے ایک مناجات پیش کرنے کی سعادت پائی اور ایک نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ۔ چنانچہ مناجات کا ایک شعر حاضر ہے اور ایک بند نعت کا:
مناجات
میرا ظاہر حسیں بنایا ہے
میرا باطن اجال دے یا رب
نعت میں سے ایک بند:
بلا کا رعب ہے اُس حسن کے تصور میں
کشش ہے اَمر میں اور جذب ہے تہور میں
سکوت لب میں ہے پنہاں حرا کی تنہائی
نکات کھلتے ہیں ہر لفظ پر تدبر میں
درود پڑھتے ہیں اور ہم سنورتے ہیں
قدم قدم پہ ہیں افضال اس تذکر میں
عدو کے واسطے اس کی نظر تو اخگر ہے
تمام خُلق میں ہر اک نبی سے بڑھ کر ہے

اس کے بعد ناظم مشاعرہ نے محترم ایڈوکیٹ متین طالب ناندورہ بھارت کو پکارا تو وہ بھی حمد باری تعالیٰ کا نذرانہ لے کر محفل میں حاضر ہو گئے:
خالق ہے دوجہاں کا، میرا تُو آسرا ہے
تیری عطا سے مجھ کو، سارا جہاں ملا ہے

جناب عامر حسنی جو ملائشیا سے اس پروگرام میں شرکت فرما رہے تھے انہوں نے ایک خوب صورت نعت پیش کرنے کی سعادت پائی:
آپ فخرِ رسلﷺ آپﷺ مولائے کل
آپﷺ ابرِکرم ، زندگی آپﷺ ہیں
آج عامرؔ کا دل جس میں ڈوبا ہوا
اس کا مقصود بھی ہر خوشی آپﷺ ہیں

عامر حسنی کے بعد محترم محمد زبیرصاحب نے گجرات پاکستان سے حمد پیش کرنے کی سعادت پائی کہ:
ایک اللّٰہ حمد کے لائق
سب جہانوں کو پالنے والا
ہر سہارے کا وہ سہارا ہے
ہر کسی کو سنبھالنے والا

بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک منجھے ہوئے شاعر جناب اصغر شمیم صاحب کولکاتاانڈیا سے اس پروگرام میں شامل ہوئے اور گویا ہوئے:
سرکار جب مدینہ مجھے بھی بلائیں گے
ہوگی نصیب مجھ کو شفاعت رسول کی
مخصوص لب و لہجہ اور جدیدیت کی چھاپ والی ادارہ کی ایک بہت محترم رکن محترمہ ماورا سیدصاحبہ نے کراچی پاکستان سے ہمیں کلام سنایا کہ:
رَه ہدایت کی ان پہ ختم ہوئی
کیسے ان سی کوئی مثال آئے

ایک سنجیدہ اور بہت اعلیٰ پائے کی شاعر اور ایک نفیس شخصیت محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ جو مرادآباد بھارت سے تعلق رکھتی ہیں انہوں نے ایک خوب صورت نعت پیش فرمائی کہ:
بہت بیمار ہےدل سبز گنبد کی زیارت کا
کرم سرکار ﷺ اس دل کی مسیحائی ضروری ہے

اب باری تھی سندھ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک بہت اچھے شاعر جناب اشرف علی اشرف صاحب کی انہوں نے بھی نعت رسول مقبول پیش کرنے کی سعادت پائی:
ہے جب تلک حیات مدینہ کی آس ہو
کیا ذکر ایک بار کا سو بار چاہیے

برقی شمع اب لیہ پاکستان کے ایک ہنر مند شاعر محترم برادرم صابر جاذب صاحب کے سامنے پڑی تھی اور آپ اپنے مخصوص لہجہ میں گویا ہوئے کہ:
آنسووں میں نظر آئے ترے روضے کی جھلک
جب کبھی شام کو میں اُڑتے کبوتر دیکھوں

قارئین محترم کاٹ دار لہجہ کے شاعر مصطفیٰ دلکش جن کا تعلق مہاراشٹر الہند بھارت سے ہے تشریف لائے اور گویا ہوئے:
سامنے نور آقا کے دلکش میاں
چاند سورج کی یہ روشنی کچھ نہیں

ایک بہت سلجھے اور منجھے ہوئے شاعر جناب علی شیدا صاحب نے جموں کشمیر بھارت سے مشاعرہ میں شرکت کی اور گویا ہوئے کہ:
ہر سمت لطف اذنِ شفاعت کا حشر میں
امّت کے آخری ہیں سہارا کہوں تُجھے

نرم و نازک لہجہ والی شاعرہ محترمہ ساجدہ انورصاحبہ نے کراچی پاکستان سے اپنا کلام پیش کیا:
سوال اٹھا جواب آیا
محبتوں کا خطاب آیا
قارئین محترم!
ایک بہت ہی کامیاب اور خوب صورت پروگرام اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا تھا۔ اس سے پہلے ایک بات کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہو ں کہ دوران پروگرام اس بار محترم ضیا شادانی صاحب اورمحترم ڈاکٹر شفاعت فہیم صاحب نے حسبِ معمول شعرا کے کلام پر بے لاگ تبصرہ بھی کیا اور جہاں شعر پر داد و تحسین دی وہاں کمیوں کی طرف بھی توجہ دلائی۔ اللہ تعالیٰ دونوں اصحاب کو صحت و سلامتی والی لمبی فعال اور بامراد زندگی عطا فرمائے اور سلامت رکھے۔ آمین
دوسرے دن جناب مسعود حساس صاحب نے ہر ایک شاعر کے کلام پر بھرپور انداز میں بیش از قیمت نقد و نظر سے نوازا جس سے سب شعرا نے بہت کچھ سیکھا۔
خطبۂ صدارت:
پروگرام کے آخر پر صدر مجلس نے ایک بہت ہی شان دار اور علمی اور پُرمغز خطبۂ صدارت پیش فرما کر اس بابرکت محفل کے اختتام کا اعلان فرمایا:
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
السلام علیکم احباب ذی وقار
اردو زبان اپنی تاریخی وراثت، تہذیب و ثقافت اور جدید ماس میڈیا کے ذرائع کی وجہ سے ایک مقبول ترین زبان کی حیثیت سے عالمی سطح پر جانی جاتی ہے۔
اردو کی ترویج و اشاعت کی دنیا سے وابستہ افراد اس امر سے بخوبی واقف ہوں گے کہ اردو زبان کس طرح انٹرنیٹ پر منتقل ہوئی اور روز افزوں ترقی کی منازل طے کرتی جارہی ہے۔
تقریباً 24 سال قبل 1995 میں پہلی بار نوری نستعلیق خط کے ساتھ دائیں جانب سے لکھی جانے والی زبانیں اردو، فارسی اور عربی کے لئے مکمل پیج لے آ وٹ سافٹ ویئر پیکج”ان پیج اردو “کے نام سے آ یا تھا، جس سے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے اردو سے منسلک اور بہی خواہ حضرات اپنی ضرورتوں کو پورا کر رہے ہیں۔
اب جبکہ تکنیک کے میدان میں مختلف قسم کی آ سانیاں پیدا ہوچکی ہیں تو ان پیج اردو کا دوسرا حصہ ”ان پیج پروفیشنل“ بھی کافی حد تک مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ انٹرنیٹ پر علم کے ہر شعبہ میں معلومات کا حاصل ہونا ایک عظیم نعمت سے کم نہیں۔
آ ن لائن ادبی تقریبات کے انعقاد کو اسی سمت میں ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
جہاں تک ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کا تعلق ہے برقی دنیا میں کام کرنے والے تمام گروپس، ادارہ جات میں اس ادارے کو اس لئے بھی انفراد حاصل ہے کہ ادارہ ہذا نے محض روایتی مضامین کا اعادہ نہیں کیا ، بلکہ نئے تجربوں کے استعمال سے ادب میں مختلف امکانی صورتیں پیدا کیں۔
ادارہ اپنے اخلاقی اور مقصدی نظریہ کے تحت صرف طرحی مشاعروں کے بجائے صنائع و بدائع اور موضوعاتی تجربوں کو فن کی اساس سمجھتا ہے۔
ادارہ کی ایک منفرد نوعیت تمام پروگراموں کا برائے تنقید پیش کیا جانا ہے، تنقید کیلئے ایک مخصوص ، تربیت یافتہ، فن شناش، اور بالیدہ ذہن کی ضرورت ہوتی ہے، جس کیلئے ادارہ کے پاس محترم مسعود حساس، ڈاکٹر شفاعت فہیم، شہزاد نیر جیسے عظیم ناقدین موجود ہیں۔ جو پیش کردہ تخلیقات کے عیوب و محاسن پر بےلاگ گفتگو کرتے ہیں۔
شہزاد نیر اور شفاعت فہیم گاہے گاہے جبکہ مسعود حساس تسلسل سے شعر کے فنی لوازم اور لسانی برتاؤ کے رموز کی گرہ کشائی کرتے ہیں۔بالخصوص مسعود حساس صاحب کا طرز گفتگو، لفظیات کی ادائیگی، بلند آ ہنگ لئے لہجہ کی آ ہستگی اور شائستگی۔ وہ جب شعر پر گفتگو کرتے ہیں تو ان کا موقف شعر کی تخیلی فضا کی تشکیل پر اس طرح اثر انداز ہوتا ہے کہ شاعر کے آ ہنگ کے علاوہ دیگر شعری وسائل مثلاً ترکیب سازی، استعارہ، علامت، پیکریت، کچھ بھی ان کی نظر سے اچھوتا نہیں رہتا ۔
میں منتظمین ادارہ سے ملتمس بھی ہوں اور سفارش گذار بھی کہ وہ ادارہ سے ان علمائے ادب کی وابستگی کو یقینی بنائے رکھے۔
شعراء اور ادارہ کے مابین ایک مستحکم رشتہ بنا ئے رکھنے میں احمر جان صاحب، احمد منیب صاحب اور صابر جاذب صاحب کے ہمہ جہت کردار کو قطعاً نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو ادارہ کی بقاء اور اس کے مقاصد کی تفہیم و ترسیل میں رواداری اور ادب دوستی کے جذبہ سے بےلوث خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
دیگر تمام تخلیق کار ادارے کا قیمتی اثاثہ ہیں جو اپنے اپنے طور پر اردو زبان وادب کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں، ان کی صلاحیتیں اور تخلیقی ہماہمی ادارے کو توانائی بخشے ہوئے ہے۔
ادارہ نت نئے لسانیاتی پروگرام منعقد کرتاہے۔ “نت نئے لسانیاتی پروگرام” یہ جملہ خود میں بڑی معنویت رکھتاہے اس طرح کے پروگرامز سے فنکار کی وابستگی اس کی ادبی شخصیت کے منفرد و مستند ہونے پر دلالت کرتی ہے۔
ادارے کے چیئرمین و روح رواں محترم توصیف ترنل صاحب ایک متحرک و فعال شخصیت کا نام ہے، جنہوں نے ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کے پلیٹ فارم سے زائد از دوصد کامیاب پروگرامز منعقد کرکے ایک تاریخ ساز کارنامہ انجام دے دیا ہے، اس مرحلہ کو سر کرتے ہوئے وہ مختلف نشیب و فراز سے گزرے، زوال پذیر ہوتی ہوئی ادبی قدروں سے بھی ان کا واسطہ پڑا۔ گاہے بگاہے ان کے سمجھ میں نہ آ نے والے بیانات دراصل اسی صورت حال سے پیدا شدہ اضطرابی کیفیت سے دوچار المیہ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ویسے انہیں شاعر کے منصب اور فن شعر کی معیاری قدروں کا پورا ادراک ہے۔ وہ شاعر کو سنجیدہ تہذیبی اور تاریخی روایت کا امین بھی تصور کرتے ہیں۔
توصیف ترنل صاحب نے عرب و عجم، وسط ایشیا اور یورپی ممالک میں بسنے والے شعراء و ادباء کو ادب کیلئے کی جانے والی اپنی بےلوث محنت شاقہ سے کافی حد تک متاثر کیا ہے۔
عالمی ماہنامہ ”آ سمان ادب“ بھی ادارہ کا ایک زرّیں سلسلہ ہے جس کو محترم انور کیفی صاحب و کل مجلس ادارت بحسن و خوبی جاری رکھے ہوئے ہے۔
کسی بھی ادارہ، گروپ، تنظیم میں اشخاص کی شمولیت و اخراج ایک عام سی بات ہے، پھر بھی یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ ایک ادیب و شاعر سماج اور زمانہ کا تجزیہ اور مشاہدہ کر نے کے عمل میں سماج کے دوسرے افراد سے زیادہ حساس ہوتاہے، عزت نفس اس کیلئے عزیز ترین شئے ہے ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہمارا کوئی بھی عمل اس حساس طبقہ کی دل شکنی کا مؤجب نہ بنے اور ہمارا کاروان ادب وسیع تر ہوتا جائے۔۔
مجھ حقیر فقیر کو ادارہ نے اس روحانی محفل میں عہدہء صدارت بخشا اس کیلئے میں سراپا شکر گذار ہوں۔ گرچہ میں بلا مبالغہ کہیں سے بھی اور کبھی بھی خود کو اس قابل نہیں سمجھتا ۔۔
آ خر میں توصیف ترنل صاحب وجملہ منتظمین کی نذر ایک شعر کرتے ہوئے اجازت چاہوں گا۔۔
فراز دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے
و آ خر دعوانا ان الحمد اللہ رب العالمین
تہذیب ابرار بجنور انڈیا
آخر پر خاکسار تمام اراکین ادارہ کی خدمت میں ایک اور کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہے۔
خاکسار
احمدمنیب۔ لاہور پاکستان

مشاورتی پروگرام نمبر ۲۰۵
حمد کی تعریف:
حمد عربی لفظ ہے،جس کے معنی‘‘تعریف‘‘ کے ہیں۔ اللہ کی تعریف میں کہی جانے والی نظم کو حمد کہتے ہیں۔ حمد باری تعالیٰ،ہر زبان میں موجود ہے۔ عربی، فارسی، کھوار اور اردو زبان میں اکثر دیکھی جاسکتی ہے۔
حمد و مناجات کے متبادل انگریزی کے کئی الفاظ وضع کیے گئے ہیں:
Praise of God
اور Hymn
یا پھر Psalm ہے ۔
ان کا لفظی معنی (Literal Meaning) یا حتمی تعریف ثنائے رب کریم ہے۔
اللہ کی تعریف و توصیف ہر زمانے میں ہوتی رہی ہے۔ یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔ اللہ رب العزت یعنی خدا کو انگریزی میں God کہتے ہیں۔
G یعنی Generator ،
Oیعنی Operator ،
D یعنی Destructor مطلب یہ کہ خدا خالق، پالنہار اور قہار یعنی تخریب کار بھی ہے۔
ہندو دھرم میں اس کے متعدد ناموں میں ایک نام ’’نارائن‘‘ ہے۔سنسکرت کے اس لفظ کا اشتقاق کچھ یوں ہے۔ ’’نار‘‘ بمعنی پانی اور ’’آئن‘‘ بمعنی متحرک۔ ڈاکٹر یحییٰ نشیط کے مطابق ادیان سنسکرت نے اس کا معنی قرآن کی آیت ’’وکان عرشہ علی الماء‘‘ (خدا کا عرش پانی پر ہے) سے ملا دیا ہے۔
اس ترکیب کے دوسرے معنی بھی دستیاب ہیں۔ مثلاً ’’نار‘‘ بمعنی آگ اور ’’آئن‘‘ بمعنی ہالہ، گھیرا یعنی نور کے ہالے والا۔ اس معنی کے رو سے بعض نے ’’اللہ نور السمٰوت والارض‘‘ سے ملایا۔ مطلب یہ کہ ثنائے رب جلیل کے عالم انسانیت کے جذبے اور رویے میں یکجہتی اور یکسانیت کے آثار پہلے سے ہی موجود ہیں۔ تفریق و امتیاز محض مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے عقائد میں ہے لیکن سبھی کے عقائد خداوندی میں تلاش وحدت ہی ہے۔
فرہنگ آصفیہ، جامع اللغات، نور اللغات اور دوسری لغت کی کتابوں میں ’’مناجات‘‘ کے لغوی اور فنی معنی اپنا بھید کہنا یا پھر طلب نجات کے لئے خدا کی بارگاہ میں دعا کرنا سے بیان کئے گئے ہیں۔
قرآن کریم اور حمد و مناجات:
مدح کے لغوی معنی تعریف، توصیف، ستائش جبکہ منت سماجت بمعنی عرض معروض، خوشامد اور درخواست ہیں۔
اول الذکر سے ’’حمد‘‘ اور ثانی الذکر سے ’’مناجات‘‘ کی اصطلاحات مشتق ہیں۔ یہ اصطلاحات ذات باری تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ لہٰذا حمد اور مناجات کا اطلاق خدائے وحدہ لاشریک کے علاوہ کسی اور کے لئے روا نہیں رہا۔
مولانا ابوالکلام آزاد حمد کی تعریف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :
’’عربی میں حمد کے معنی ثنائے جمیل کے ہیں یعنی اچھی صفات بیان کرنا۔ اگر کسی کی بری صفتیں بیان کی جائیں تو وہ حمد نہ ہو گی۔ ‘‘ (ترجمان القرآن، جلد اول،ص:۳۱)
قرآن حکیم کی کئی سُوَر کا حمد یا الحمد کے لفظ سے آغاز اس کاغماز اور ترغیب ہے کہ بندے بھی اللہ کی پاکی بیان کریں۔ پس خدائے لم یزل کی پاکی بیان کرنا، اس کی ذات و صفات کی تعریف حمد ہے اور یہ قرآن حکیم کا منفرد اسلوب بیان ہے۔
سورۃ الحشر، الصف ،سورۃ الجمعہ اور التغابن کی ابتدا میں ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اللہ کی تسبیح و حمد کرتا ہے ۔ مؤمنین کو بعض جگہ حکم دیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کیاکریں۔ مثلاً:
’’سبح باسم ربک الاعلیٰ‘‘ (سورۂ الاعلیٰ، آیت نمبر ۱)
’’واللہ الاسماء الحسنیٰ فادعوابھا‘‘ (سورۂ الاعراف، آیت نمبر ۱۸۰)
اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا احاطہ ممکن نہیں اس لئے حمدمیں جو چاہے بیان کر لیں اسے مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت ہی کہا اور سمجھا جائے گا۔
حمد مدح رب العالمین ہے تو مناجات اس سے مانگنے کا ایک مخصوص انداز! بندہ اپنے رب کے حضور خودکو کمتر، حقیر اور گناہ گار پیش کرتے ہوئے التجا کرتا ہے۔ ہر مناجات دعا کا ہی رنگ رکھتی ہے میرا ماننا ہے کہ دعا تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن مناجات کا تعلق ایمان سے ہے۔ سورۂ فاتحہ حمد و مناجات کی بہترین مثال ہے۔
قرآن پاک میں حمد کے مفہوم کی بے شمار آیتیں موجود ہیں جن میں سے چند نمونہ پیش ہیں۔
الحمد اللہ الذی خلق السمٰوٰت والارض (سورۃ الانعام )
ھواللہ الذی لا الہٰ الاھو، عالم الغیب والشھادہ ھوالرحمن الرحیم۔ ھواللہ الذی لا الہٰ الاھو الملک القدوس السلام المؤمن المھیمن العزیز الجبار المتکبر سبحٰن اللہ عما یشر کون۔ ھواللہ الخالق الباریٔ المصورلہ الاسماء الحسنیٰ یسبح لہ مافی السمٰوٰت والارض وھوالعزیز الحکیم۔ (سورۃ الحشر آخری تین آیات)
آیت الکرسی حمد کی بہترین مثال ہے۔
حمد و مناجات اور شریعت:
دعا، مناجات، التجا، گزارش، دہائی، فریاد، معاونت یا استعانت مترادفات ہیں۔ جب ان الفاظ کا رشتہ براہ راست خالق کائنات سے جُڑتا ہے تو نہ صرف ان کا احاطہ فکر وسیع و آفاقی ہو جاتا ہے بلکہ عقیدتوں کی پاکیزگی ، ادب و احترام کی نازکی اور روحانی لطافت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ روحانی اثرات پر مکمل یقین اور اعتقاد رکھنے والا جھونپڑی کا مکین ہو یا محل میں قیام پذیر، آقا ہویا غلام، کسان ہو یا امیر ذیشان، قلندر ہو یا سکندر، شاہ ہو کہ گدا، ڈاکٹر،عالم، انجینئر یا سائنسدان ہو یا ناخواندہ سیدھا سادا ملازم پیشہ انسان۔ اس کی زندگی کے تمام گوشے، سکھ دکھ، اونچ نیچ، دھوپ چھاؤں یہاں تک کہ فرط انبساط اور دلفگار غم میں بھی ایک دلربائی اور چہروں پر قلب مطمئنہ کا جمال نظر آئے گا۔
آستان ناز پر جس کی جبیں ہے سجدہ تو کیا
اس کو کوئی تاج سلطانی بھی پہنائے تو کیا؟
اللہ کو ’’علی کل شیئٍ قدیر‘‘ تسلیم کر کے اپنی عاجزی، انکسار، بے کسی اور مجبوریوں کا اظہار اسلوب مناجات ہے ۔
حضرت فرید الدین عطارؒ فرماتے ہیں :
ذکر حق آمد غذا ایں روح را
مرہم آمد ایں دل مجروح را
حضرت مولانا رومیؒ فرماتے ہیں :
خود چہ شیرین ست نام پاک تو
خوشتر از آب حیات ادراک تو
خاقانیؒ لکھتے ہیں کہ:
پس از سی سال ایں معنی محقق شد بخاقانی
دے با باد حق بودن بہ از ملک سلیمانی
حضرت سعدیؒ اور حکیم سنائی نے اسم ذاتی اللہ کو بہترین حمد و مناجات قرار دیتے ہوئے ’’سلطان الاذکار‘‘ کہا ہے۔
اسلامی معاشرے کا یہ خاصہ ہے کہ
کسی کام کی ابتدا کرے تو کہے، بسم اللہ۔
وعدہ کرے تو کہے، ان شاء اللہ۔
کسی خوبی کی تعریف کرے تو کہے، سبحان اللہ۔
کوئی تکلیف پیش آئے تو کہے، جزاک للہ۔
کسی سے اپنی خیر و عافیت کا ذکر کرے تو کہے، الحمد اللہ۔
جانے انجانے میں گناہ سرزد ہو تو کہے، استغفراللہ۔
کسی کو رخصت کرے تو کہے،فی امان اللہ،
نا زیبا کلمات زبان و قلم پر آئیں تو کہے، نعوذ باللہ اور
موت کی خبر سنے تو کہے، انا للہ و انا اللہ راجعون۔ وغیرہ وغیرہ۔
حمد و مناجات کا اسلوب:
حمد و مناجات کا اپنا کوئی مخصوص اسلوب نہیں ہے۔ غزلیہ ہیئت کے علاوہ قصیدہ، مثنوی، قطعہ، رباعی، نظم، آزاد غزل، مخمس، مسدس، مثلث، مربع، ثلاثی، دوہے، سانٹ، ترائیلے اور ہائیکو جیسی اصناف میں بھی حمدیہ و مناجاتی شاعر ی ہو رہی ہے۔ لیکن غزلیہ ہیئت کو دیگر اصناف کے مقابلے میں زیادہ شہرت ملی ہے۔
حمد کی تاریخی اہمیت:
حمدیہ ترانوں کے ابتدائی نقوش اور تاریخی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر یحییٰ نشیط فرماتے ہیں :
’’ کُلدانیوں اور حُطیوں کے مٹی کی پکی اینٹوں پر کندہ کیے گئے حمدیہ ترانوں سے لے کمپیوٹرائزڈ کتابوں کے دور تک حمدیہ ترانے برابر لکھے اور اَلاپے جا رہے ہیں۔ ان کی گنگناہٹ جہاں فضائے آسمانی کو معمور ہوئے ہے وہاں قلوب انسانی میں بھی ہلچل پیدا کرنے کا سبب ہے اور بعید نہیں کہ ثنائے رب کریم کا یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے۔ ‘‘
حمد کی دینی و ادبی قدر و قیمت:
حقیقی معبود اللہ رب العزت ہے، وہی ادب کا ہنر بھی عطا کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پروردگار نے مجھے ادب عطا کیا ہے۔ دراصل ادب ظاہر اور باطن کی تہذیب اور آراستگی ہے۔ کمال، مکارم اخلاق سے اور مکارم اخلاق، تحسین اور تہذیب خلق سے ہے۔ اردو زبان میں جب سے شاعر ی کا تجربہ ہوا تبھی سے حمد لکھی گئی۔
حمد کی دینی اور ادبی قدر و قیمت کی وجہ سے یہ صرف ہمارے مضطرب جذبات کی تسکین کا سامان، تفنن طبع، احساس جمال، انفرادی لذت کوشی، خوف خدا، بصیرت و بصارت کی توثیق یا شاعر ی برائے شاعر ی ہی نہیں ہے بلکہ ادب میں اس کی مستقل صنفی حیثیت ہے۔ یہ درست ہے کہ عروض و بلاغت اور قواعد ِاصنافِ سخن کی کتب میں حمد و مناجات کی صنفی حیثیت کا ذکر نہیں ہے کیونکہ عقیدت اور بسم اللہ کے طور پر حمدکہی جاتی ہےاور حمد و مناجات کے لئے والہانہ عشق ضروری ہے کیونکہ اظہار افعال و اعمال سے وابستہ ہے۔ مہارت و محاربت، متانت و سنجیدگی اور جوش ربانی کی فراوانی کے بغیر کوئی بھی شاعر حمد میں اظہار عقیدت نہیں کر سکتا۔
الہام، القا، گیان اور دھیان کے تصور سے مملو یہ صنف سخن، ماورائی، داخلی اور ذہنی قوت کی دین ہے۔ شعر ی روایت کے معنوی تسلسل میں حمد تصور و تفکر، عبقریت، ذہنی رفعت اور جذبات و حواس کے ذریعے سے دخیل ہے۔ سیموئل ٹیلر کولرج کہتے ہیں:
’’میں متخیلہ کو بنیادی اور ذیلی سمجھتا ہوں۔ بنیادی متخیلہ وہ ہے جو تمام انسانی ادراک کا محرک ہے اور وہ خارجی تخلیق کاری میں دماغ کے محدود حصہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ جبکہ لامحدود حصہ اس کی ذات “I am” ہوتی ہے۔ ذیلی تصور بنیادی تصور ہی کی بازگشت ہوتا ہے جو شعوری ارادے کے ساتھ منسلک ہوتا ہے لیکن وہ تقریباً بنیادی تصور کی طرح تخلیق کا محرک ہوتا ہے۔ ‘‘
’’میں ہوں ‘‘ کی طرف سے موضوعی تخلیق کا یہ لائحہ عمل داخلی آواز ہے جو Objective Co-relatives میں ضم ہو کر شعر ی روایت کے داخلی اور خارجی عناصر کی Pure Subjectivity کی طرح حمدیہ شاعر ی کے معنوی تسلسل کو جنم دیتی ہے یا تابع بناتی ہے۔
آغازِ سخن وری سے ۱۹۳۷ء تک ادب اور مذہب ہم آہنگ رہےلیکن ترقی پسند تحریک اور روسی اشتراکیت کے نظریے سے متاثر ہونے والوں نے ادب اور مذہب کو تقسیم کرنے کی شعوری کوشش کی جس کا منفی اثر سرمایۂ ادب پر ضرور پڑا۔ لیکن ۱۹۶۰ء خصوصاً ۱۹۸۰ء کے بعد شعرا نے حقیقت سمجھ کر اس سے جان چھڑا ئی اور متعین طرز اظہار ’’حمد‘‘ کو بلا جھجک اپنا لیا ہے۔ قرآن کریم کے سولہویں پارہ میں سورۃ الکہف کی تیسری رکوع کی آخری آیت ہے کہ:
’’قل لوکان الجرمداد الکلمٰت ربی النفدالبحرقبل ان تنفد کلمت ربی ولوجئنا بمثلہٖ مددا۔ ‘‘
حمد سے بے توجہی کی وجہ Anthroposphere ماحول بھی رہا ہے۔ ویسے سچائی یہ بھی ہے کہ اردو میں حمدیہ شاعر ی کا پہلا مجموعہ غلام سرور لاہوری کا ہے جو ’’دیوان حمد ایزدی‘‘ کے نام سے ۱۸۸۱ء میں مطبع نول کشور، لکھنو سے شائع ہوا۔ مثال دیکھئے :
زباں پر ذکر حمد ایزدی ہر دم رواں رکھنا
فقط یاد الٰہی سے غرض اے مری جاں رکھنا
مختلف ادوار میں حمد کے فکری اور اسلوبیاتی تجربے ہوتے رہے اور یہ اسلوبیاتی تغیر مرحلہ وار محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
حمد اور مناجات کی اہمیت و ضرورت:
حمد کا لفظ شکر کے لفظ سے زیادہ عام اور مقبول ہے اس لئے کہ وہ لازم اور متعدی دونوں صفات کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ مخلوق پر اللہ کی نعمتیں ان گنت ہیں ۔ انسان میں عالم اکبر کی تقریباً ساری ہی مثالیں موجود ہیں۔ ہمارا جسم حد نگاہ تک پھیلی ہوئی زمین کی طرح، ہمارے بال، نباتات کی مثال تو ہماری ہڈیاں پہاڑوں کی مانند ہیں۔ جسم کو خون فراہم کرنے والی شریانیں، وریدیں اور عروق شعر یعنی باریک رگیں تو دریاؤں، نہروں اور چشموں کی مثال ہیں جن کے ذریعہ عالم اکبر یعنی زمین کی سرسبزی کی طرح عالم اصغر یعنی ہمارے جسم کی شادابی برقرار رکھی جاتی ہے۔
جملہ نعما متقاضی ہیں کہ انسان اپنے محسن اور منعم یعنی اللہ، الرحمن الرحیم کے احسانات اور انعامات کی شکر گزاری میں اس کی حمد و ثنا کرتا رہے جس کی ترغیب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے کلام پاک کو لفظ ’’الحمد‘‘ سے شروع فرما کر دلائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبادات میں حمد و ثنائے الٰہی کا مقام کلیدی ہے۔
قدیم حمدیہ شاعر ی:
عربی، فارسی کی طرح اردو شاعر ی میں بھی حمد کہنے کی روایت برابر ملتی ہے۔ اردو شعرا نے عقیدت و ایمان کے گل ہائے معطر حمدکی لڑیوں میں پرو کر باری تعالیٰ کے اوصاف حمیدہ اور اسمائے حسنیٰ کے گیسو ہائے معتبر سجائے ہیں۔
’’کدم راؤ پدم راؤ‘‘ (۱۴۲۱ء اور ۱۴۳۴ء ) از فخر الدین نظامی بیدری کو حالیہ تحقیق کے مطابق اردو کی قدیم ترین تصنیف تسلیم کیا گیا جو اردو مثنوی کے عناصر ترکیبی میں حمد و نعت و منقبت کا شہکار ہے۔
پھر عبدلؔ کاابراہیم نامہ،خوب محمد چشتی کا خوب ترنگ، شاہ برہان الدین جانم، غواصی، ابن نشاطی کا ’’پھول بن‘‘ تو صنعات لفظی و معنوی کا بیش بہا خزانہ ہے، نصرتی دکن کی دو مثنویاں ’’گلشن عشق‘‘ اور ’’علی نامہ‘‘،قلی قطب شاہ معانیؔ کا صنعت ردالعجز میں خوبصورت کام، علی عادل شاہ ثانی شاہیؔ کی حمدیہ غزل اور مثنوی ’’خیبرنامہ‘‘ حمد کے ارتقا کی مثالیں ہیں۔ ’’احسن القواعد‘‘ میں محمد نجف علی خاں نے مثنوی کے اقسام، اشعار اور اوزان سے بحث کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’داستان مثنوی کے لیے تمہید شرط ہے اور ربط کلام کا سلسلہ واجب اور مثنوی کے دیباچہ میں کئی چیزیں لازم ہیں توحید، مناجات، نعت، مدح سلطان زماں، تعریف کے دیباچہ میں ان سب باتوں کے موجد حضرت نظامی گنجوی ہیں۔ ان سے پہلے مثنوی کو فقط قصے سے شروع کیا کرتے تھے۔ ‘‘
فنی اعتبار سے مناجات کے اجزائے ترکیبی:
فنی اعتبار سے مناجات کے اجزائے ترکیبی حسبِ ذیل ہیں:
۱ تعریف خداوندی
۲ انسان کی بے کسی و عاجزی
۳ نجات طلبی
۴ حمدیہ استدلال
۵ دعائیہ

نعت:
حضرت اقدس محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت خوانی یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔عربی زبان میں نعت کے لیے لفظ ”مدحِ رسول“ استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ نعت لکھنے والے کو نعت گو شاعر جبکہ نعت پڑھنے والے کو نعت خواں یا ثنا خواں کہا جاتا ہے۔
نعت گوئی کی تاریخ:
گوکہ یہ کہنا مشکل ہے کہ نعت خوانی کا آغاز کب ہوا تھا لیکن روایات سے پتا چلتا ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا ابوطالب نے پہلے پہل نعت کہی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش سے پہلے تبان اسعد ابو کلیکرب اور بعد ازاں ورقہ بن نوفل بھی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی شان میں نعت کہی۔
اردو کے مشہور نعت گو شاعر فصیح الدین سہروردی کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا ابوطالب اور اصحاب میں حضرت حسان بن ثابتؓ پہلے نعت گو شاعر اور نعت خواں تھے۔اسی بنا پر اُنہیں شاعرِ دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی کہا جاتا ہے۔ نمونہ ٔکلام ملاحظہ فرمائیں:
یابکر آمنة المبارک بکرھا ولدتہ محصنة بسعد الاسع
نوراً ضاء علی البریة کلھا من یھد للنور المبارک یھتدی
متی يبد في الداجي البهيم جبينه
يلح مثل مصباح الدجي المتوقد
از دیوان حضرت حسان بن ثابت 153
ترجمہ:”اے آمنہ کے مبارک بیٹے! جس کی پیدائش انتہائی پاکیزہ اور سعد ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ نور ہیں جس نے سب مخلوقات کو منور کر دیا اور اس مبارک نور کی پیروی کرنے والا ہدایت پا گیا۔
شبِ تاریک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جبینِ اقدس اس طرح چمکتی دکھائی دیتی ہے جیسے گھپ اندھیرے میں روشن چراغ ۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود کئی مرتبہ حسان بن ثابت سے نعت سماعت فرمائی۔ حسان بن ثابت کے علاوہ بھی ان اصحاب کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں نعتیں لکھیں اور پڑھیں۔ کعب بن زہیر اورعبداللہ ابن رواحہ نے ترنم سے نعتیں پڑھیں۔
جب حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکے سے ہجرت فرما کر مدینے تشریف لائے تو آپ کے استقبال میں انصار کی بچیوں نے دف پر جو نعت پڑھی اس کا مطلع شہرتِ دوام پاگیا:
طلع البدر علینا من ثنیات الوداع
و جب الشکر علینا ما دعا للہ داع
نعت گو اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم:
مندرجہ ذیل صحابہ کرام کو نہ صرف حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نعت پڑھنے کا شرف حاصل ہوا بلکہ کئی روایات سے ثابت ہے کہ حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود کئی بار ان اصحاب سے نعت سماعت فرمائی:
حسان بن ثابت، اسود بن سریع، عبد اللہ بن رواحہ، عامر بن اکوع، عباس بن عبد المطلب، کعب بن زہیر اور نابغہ جعدی۔
نعت گو علماءِ اُمَّت :
امام ابوحنیفہ، مولانا روم، شیخ سعدی، مولانا جامی، امام بوصیری، احمد رضا خان، علامہ ریاض الد ین سہروردی، محمد قاسم نانوتوی، حکیم الاسلام طیب قاسمی اور سید نفیس الحسینی شاہ۔ وغیرہ
اولیاء اللہ اور نعت خوانی:
اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک سے لے کرعہدِ حاضر تک جہاں صحابہ کرام اور علما نے حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نعتوں کی روایت کو فروغ دیا وہیں اولیاء اللہ نے بھی اسلام کی ترویج و اشاعت کے ساتھ حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عشق کو ایمان کی تکمیل کے لیے ناگزیر قرار دیا اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اظہار کے لیے نعت خوانی کوایک بہترین ذریعہ قرار دیا۔ تمام تر سلاسلِ تصوف میں محافلِ نعت خوانی کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ ایسی برگزیدہ ہستیوں کے نام ذیل میں درج ہیں جنہوں نے نہ صرف نعت خوانی کو فروغ دیا بلکہ خود بھی نعت گوئی کی:
شیخ سیدنا عبدالقادر جیلانی، بابا فرید الدین گنج شکر، سلطان باہو، بابا بلھے شاہ، میاں محمد بخش،خواجہ نظام الدین اولیاء، امیر خسرو،خواجہ عثمان ہارونی اور مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری وغیرہ۔
مسلم نعت گو شعرا:
حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ثناء خوانی کرنے والے ہر دور میں پیدا ہوئے اور آج بھی ہر شاعر نعت لکھنا اپنے لئے اعزاز خیال کرتا ہے۔ یہ بھی سمجھتا ہے کہ حمد و نعت لکھنے کی توفیق ہر ایک کو نہیں ملتی بلکہ یہ رضائے باری تعالیٰ کی ایک نشانی ہے کہ حمد ومناجات اور نعت لکھنے کی توفیق عطاہو۔بعض شعرا نے اپنے اس فن اور ہنر کے طفیل ابدی شہرت پائی۔ ذیل میں ایسے حضرات کی فہرست دی جا رہی ہے:
احمد رضا خان۔ آپ کا مشہور سلام :مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام۔ عوام و خواص میں بے پناہ مقبول ہے،حسن رضا خان، امیر مینائی، الطاف حسین حالی، صائم چشتی، ادیب رائے پوری، علامہ اقبال،خواجہ بیدم وارثی، محمد علی ظہوری، حافظ مظہر الدین مظہر، حفیظ تائب، حامد یزدانی، مولانا کوثر نیازی، بہزاد لکھنوی، عبدالستار نیازی، ریاض حسین چودھری، ضیاء نیر، حسین محی الدین، قمر الدین انجم، قمر اجنالوی، پروفیسر اقبال عظیم، خالد محمود نقشبندی، مولانا ظفر علی خان، ماہرالقادری، علیم ناصری،یزدانی جالندھری، منصور آفاق، مقصود احمد تبسّم، خالد علیم، تنویرپھول، اعجاز رحمانی، پیر نصیر الدین نصیر گیلانی، مولانا الیاس قادری، شاکرالقادری، عباس عدیم قریشی، ندیم رضا فارق، مرزا حفیظ اوج، آصف قادری، نذر صابری، صبا اکبرآبادی، مظفر وارثی، صبیح رحمانی، صہبا اختر اور شعیب جاذب ۔
غیر مسلم نعت گو شعرا:
اللہ تعالیٰ نے آنحضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رحمۃ للعالمین قرار دیاہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدحت و ثنا خوانی جہاں مسلمانوں کا شعار رہی ہے، وہیں کچھ ایسے غیر مسلم شعرا بھی ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا اور آپ کے اوصافِ حمیدہ ان پر کھلے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بہت عمدہ نعتیہ کلام لکھے۔ خصوصاً بھارتی شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی سحر نے اس سلسلے میں لافانی اشعار حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کہے، جو بہت پسند کیے گئے اور اکثر ان کے ان اشعار کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ:
ہم کسی دین سے ہوں صاحبِ کردار تو ہیں
ہم ثنا خوانِ شہِ حیدرِ کرّار تو ہیں
نام لیوا ہیں محمدؐ کے پرستار تو ہیں
یعنی مجبور پئے احمدِ مختارؐ تو ہیں
اور یہ شہرہ آفاق شعر کہ:
عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمدؐ پہ اجارہ تو نہیں
پاکستان کے مشہور جسٹس رانا بھگوان داس بھی نعت گو ہیں۔ ان کی ایک نعت کے کچھ اشعار درج ہیں:
نبیٔ مکرم شنہشاہ عالی
بہ اوصافِ ذاتی و شانِ کمالی
جمالِ دو عالم تری ذاتِ عالی
دو عالم کی رونق تری خوش جمالی
خدا کا جو نائب ہوا ہے یہ انساں
یہ سب کچھ ہے تیری ستودہ خصالی
ان کے علاوہ جرمنی کے قومی شاعر جناب گوئٹے نے نعت نبی پر ایک پوری کتاب لکھی اور پاکستان میں ایک مشہور معروف عیسائی شاعر جناب نذیر قیصر کا مجموعۂ نعت شائع ہوا جسے پاکستان کے ایک بڑے ادبی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ گویا ہر ایک کو نعت گوئی کی توفیق کہاں؟
نعت خواں:
یہ بھی ایک سعادت ہے کہ کسی کی لکھی ہوئی یا خود لکھ کر نعت کو خوش الحانی کے ساتھ ترنم اور سوز و گداز دل کے ساتھ پڑھنا اور لوگوں میں پذیرائی حاصل کرنا۔ بعض لوگ اس میدان میں بھی کمال حاصل کر لیتے ہیں اور زندہ و جاوید ہو جاتے ہیں۔ چند مشہور نعت خواں حضرات کا ذکر خیر بھی یہاں ضروری ہے:
محمد علی ظہوری، اعظم چشتی، اختر قریشی، نصراللہ خاں نوری، قاری زبیدرسول، محمد شکیل قادری، الحاج عمران شیخ قادری، اویس رضا قادری، عبد الرؤف روفی، خورشید احمد، صبیح رحمانی، مشتاق قادری، محمد افضل نوشاہی، عبدالستار نیازی، مرغوب احمد ہمدانی، محبوب احمد ہمدانی، طاہر قادری، سید منظور الکونین، سید بلال منظور، سید باغ علی شاہ، سید امین گیلانی، قاری حنیف شاہد رامپوری، سید سلمان گیلانی، شاہد عمران عادفی اور حافظ ابوبکر مدنی۔ وغیرہ
محترم قارئین!
حمد و مناجات اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پر میں نے جو تحقیق کر رکھی ہے اس کو اگر میں لکھنا شروع کروں تو ہزار سے زیادہ صفحات ہو جائیں اور یہ ذکر تمام نہ ہو۔ میں نے اجمالاً بہت ساری باتوں کا ذکر کیا اور ان کی تفصیل میں جان بوجھ کر نہیں گیا تا کہ احباب کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔ اس اجمالی خاکے سے بھی آپ کو بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ حمد و مناجات اور نعت کا میدان کتنا وسیع ہے۔ جن مثنویوں کا ذکر خاکسار نے حمد کے حوالہ سے کیا ہے ان کی ساری تفصیل میرے پاس لکھی ہوئی موجود ہے اور ایک ایک شعر پر کام کیا ہوا موجود ہے لیکن یہاں مزید طوالت کے خوف سے اسی پر اکتفا کر رہا ہوں اور آپ کو بتاتا چلوں کی اس کی تقریب اس لئے پیش آئی کہ برقی دنیا میں جناب توصیف ترنل کے سر یہ سہرا بندھتا ہے کہ وہ شعرا کو مختلف موضوعات اور اہداف دے کر ہفتہ وار پروگرام کرواتے ہیں اور اب تک ۲۰۵ پروگرام منعقد کئے جا چکے ہیں۔
پروگرام نمبر ۲۰۵ رمضان المبارک کی آمد کی بدولت حمد و نعت کے عالمی مشاورتی پروگرام کے موضوع پر کیا گیا۔ خاکسار راقم الحروف نے اس کا آئیڈیا پیش کرنے کی سعادت پائی۔
یہ پروگرام 04مئی 2019 بروز ہفتہ، پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے اور ہندوستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجےمنعقد کیا گیا۔
تمام احباب نےوقتِ مقررہ پر تشریف لاکر پروگرام کو رونق بخشی ۔ اس پروگرام کی کرسیٔ صدارت پر محترم تہذیب ابرار بجنور انڈیا سے متمکن ہوئے جن کے کلام کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں:
اپنے دامن میں چھپا لینا مجھے شاہ اُمم
حشر میں سورج کا جب تپتا سماں ہو میں نہ ہوں
اس پروگرام کے مہمانانِ خصوصی محترم سعید سعدی تھے جو بحرین سے اس پروگرام میں شامل ہوئے۔ انہوں نے کلام پیش کیا کہ:
مرے رب مری ہے یہ التجا درِ مصطفےٰ سے جُڑا رہوں
مری ذات میرے عیال پر تری رحمتوں کا نزول ہو
دوسرے مہمان خصوصی محترم رضاءالحسن رضا تھے جن کا تعلق امروہہ یو پی بھارت سے ہے انہوں نے بھی اپنے خوب صورت کلام سے نوازا کہ:
وہ منزل قبر کی ہو یا کہ ہو ہنگامۂ محشر
گنہگاروں کی سرکارے دو عالم پر نظر ہوگی
قارئین محترم! اس پروگرام کے مہمانانِ اعزازی میں پہلی کرسی پر محترم وسیم احسن ٹھاکرگنج بِہار بھارت سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے کلام پیش فرمایا کہ:
اذن ہو گر ترا تو یہ عبدِ ذلیل
دیکھ لے آکے تیری گلی کی چمک
اس پروگرام کے دوسرے مہمان اعزازی ایک مشہور و معروف شاعر جناب فانی ایاز احمد جموں و کشمیر
کی حسین و جمیل وادی سے تشریف فرما تھے انہوں نے کلام پیش فرمایا کہ:
ترے نیک بندوں میں شامل رہوں
تری اور خدا کی رضا چاہئے
قارئین محترم! اس ادارہ کی انتظامیہ حسب ذیل ہے جو دن رات اردو ادب کے فروغ کے لئے کوشاں رہتی ہے:
ادارہ کے بانی و چیئرمین جناب توصیف ترنل ہیں جو ہانگ کانگ میں مقیم ہیں، ادارہ کے وائس چیئرمین محترم ڈاکٹر شفاعت فہیم بھارت سے تعلق رکھتے ہیں، ادارہ کے صدر مقام ایک بہت ہی چوٹی کے شاعر اور نقاد جناب مسعود حساس ہیں جو کویت میں مقیم ہیں، ادارہ کے نائب صدر مقام محتر م شہزاد نیّر ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہے، ادارہ کے جنرل سیکریٹری لیہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے جناب صابر جاذب ہیں، سیکریٹری ادارہ محترم غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان سے تعلق رکھتے رکھتے ہیں، پروگرامز کے چیف آرگنائزر جناب احمر جان رحیم یار خان پاکستان سے ہیں، ادارہ کے ریسرچ سکالرجناب احمدمنیب لاہور پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔
قارئین محترم اس تاریخی اور بابرکت پروگرام کی نظامت محترمہ صبیحہ صدف نے سمبھالی جو بھوپال بھارت سے تعلق رکھتی ہیں اور بہترین انداز میں نظامت کی توفیق پائی۔اس پروگرام کی رپورٹ خاکسار احمدمنیب لاہور پاکستان آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت پا رہا ہے۔
جن شعرا نے حمد و نعت کی اس بابرکت محفل میں شرکت کی توفیق پائی ان کے اسما اور نمونۂ کلام ملاحظہ ہو۔
محترمہ صبیحہ صدف بھوپال بھارت
معطر زندگی میری ہے بس نامِ محمد ؐ سے
تصور ہو تخیل ہو نشاطِ دائمی ہو تم
خاکسار کو پکارا گیا تو خاکسار نے احمدمنیب لاہور پاکستان نے ایک مناجات پیش کرنے کی سعادت پائی اور ایک نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ۔ چنانچہ مناجات کا ایک شعر حاضر ہے اور ایک بند نعت کا:
مناجات
میرا ظاہر حسیں بنایا ہے
میرا باطن اجال دے یا رب
نعت میں سے ایک بند:
بلا کا رعب ہے اُس حسن کے تصور میں
کشش ہے اَمر میں اور جذب ہے تہور میں
سکوت لب میں ہے پنہاں حرا کی تنہائی
نکات کھلتے ہیں ہر لفظ پر تدبر میں
درود پڑھتے ہیں اور ہم سنورتے ہیں
قدم قدم پہ ہیں افضال اس تذکر میں
عدو کے واسطے اس کی نظر تو اخگر ہے
تمام خُلق میں ہر اک نبی سے بڑھ کر ہے

اس کے بعد ناظم مشاعرہ نے محترم ایڈوکیٹ متین طالب ناندورہ بھارت کو پکارا تو وہ بھی حمد باری تعالیٰ کا نذرانہ لے کر محفل میں حاضر ہو گئے:
خالق ہے دوجہاں کا، میرا تُو آسرا ہے
تیری عطا سے مجھ کو، سارا جہاں ملا ہے

جناب عامر حسنی جو ملائشیا سے اس پروگرام میں شرکت فرما رہے تھے انہوں نے ایک خوب صورت نعت پیش کرنے کی سعادت پائی:
آپ فخرِ رسلﷺ آپﷺ مولائے کل
آپﷺ ابرِکرم ، زندگی آپﷺ ہیں
آج عامرؔ کا دل جس میں ڈوبا ہوا
اس کا مقصود بھی ہر خوشی آپﷺ ہیں

عامر حسنی کے بعد محترم محمد زبیرصاحب نے گجرات پاکستان سے حمد پیش کرنے کی سعادت پائی کہ:
ایک اللّٰہ حمد کے لائق
سب جہانوں کو پالنے والا
ہر سہارے کا وہ سہارا ہے
ہر کسی کو سنبھالنے والا

ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک منجھے ہوئے شاعر جناب اصغر شمیم صاحب کولکاتاانڈیا سے اس پروگرام میں شامل ہوئے اور گویا ہوئے:
سرکار جب مدینہ مجھے بھی بلائیں گے
ہوگی نصیب مجھ کو شفاعت رسول کی
مخصوص لب و لہجہ اور جدیدیت کی چھاپ والی ادارہ کی ایک بہت محترم رکن محترمہ ماورا سیدصاحبہ نے کراچی پاکستان سے ہمیں کلام سنایا کہ:
رَه ہدایت کی ان پہ ختم ہوئی
کیسے ان سی کوئی مثال آئے

ایک سنجیدہ اور بہت اعلیٰ پائے کی شاعر اور ایک نفیس شخصیت محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ جو مرادآباد بھارت سے تعلق رکھتی ہیں انہوں نے ایک خوب صورت نعت پیش فرمائی کہ:
بہت بیمار ہےدل سبز گنبد کی زیارت کا
کرم سرکار ﷺ اس دل کی مسیحائی ضروری ہے

اب باری تھی سندھ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک بہت اچھے شاعر جناب اشرف علی اشرف صاحب کی انہوں نے بھی نعت رسول مقبول پیش کرنے کی سعادت پائی:
ہے جب تلک حیات مدینہ کی آس ہو
کیا ذکر ایک بار کا سو بار چاہیے

برقی شمع اب لیہ پاکستان کے ایک ہنر مند شاعر محترم برادرم صابر جاذب صاحب کے سامنے پڑی تھی اور آپ اپنے مخصوص لہجہ میں گویا ہوئے کہ:
آنسووں میں نظر آئے ترے روضے کی جھلک
جب کبھی شام کو میں اُڑتے کبوتر دیکھوں

قارئین محترم کاٹ دار لہجہ کے شاعر مصطفیٰ دلکش جن کا تعلق مہاراشٹر الہند بھارت سے ہے تشریف لائے اور گویا ہوئے:
سامنے نور آقا کے دلکش میاں
چاند سورج کی یہ روشنی کچھ نہیں

ایک بہت سلجھے اور منجھے ہوئے شاعر جناب علی شیدا صاحب نے جموں کشمیر بھارت سے مشاعرہ میں شرکت کی اور گویا ہوئے کہ:
ہر سمت لطف اذنِ شفاعت کا حشر میں
امّت کے آخری ہیں سہارا کہوں تُجھے

نرم و نازک لہجہ والی شاعرہ محترمہ ساجدہ انورصاحبہ نے کراچی پاکستان سے اپنا کلام پیش کیا:
سوال اٹھا جواب آیا
محبتوں کا خطاب آیا
قارئین محترم!
ایک بہت ہی کامیاب اور خوب صورت پروگرام اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا تھا۔ اس سے پہلے ایک بات کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہو ں کہ دوران پروگرام اس بار محترم ضیا شادانی صاحب اورمحترم ڈاکٹر شفاعت فہیم صاحب نے حسبِ معمول شعرا کے کلام پر بے لاگ تبصرہ بھی کیا اور جہاں شعر پر داد و تحسین دی وہاں کمیوں کی طرف بھی توجہ دلائی۔ اللہ تعالیٰ دونوں اصحاب کو صحت و سلامتی والی لمبی فعال اور بامراد زندگی عطا فرمائے اور سلامت رکھے۔ آمین
دوسرے دن جناب مسعود حساس صاحب نے ہر ایک شاعر کے کلام پر بھرپور انداز میں بیش از قیمت نقد و نظر سے نوازا جس سے سب شعرا نے بہت کچھ سیکھا۔
خطبۂ صدارت:
پروگرام کے آخر پر صدر مجلس نے ایک بہت ہی شان دار اور علمی اور پُرمغز خطبۂ صدارت پیش فرما کر اس بابرکت محفل کے اختتام کا اعلان فرمایا:
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
السلام علیکم احباب ذی وقار
اردو زبان اپنی تاریخی وراثت، تہذیب و ثقافت اور جدید ماس میڈیا کے ذرائع کی وجہ سے ایک مقبول ترین زبان کی حیثیت سے عالمی سطح پر جانی جاتی ہے۔
اردو کی ترویج و اشاعت کی دنیا سے وابستہ افراد اس امر سے بخوبی واقف ہوں گے کہ اردو زبان کس طرح انٹرنیٹ پر منتقل ہوئی اور روز افزوں ترقی کی منازل طے کرتی جارہی ہے۔
تقریباً 24 سال قبل 1995 میں پہلی بار نوری نستعلیق خط کے ساتھ دائیں جانب سے لکھی جانے والی زبانیں اردو، فارسی اور عربی کے لئے مکمل پیج لے آ وٹ سافٹ ویئر پیکج”ان پیج اردو “کے نام سے آ یا تھا، جس سے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے اردو سے منسلک اور بہی خواہ حضرات اپنی ضرورتوں کو پورا کر رہے ہیں۔
اب جبکہ تکنیک کے میدان میں مختلف قسم کی آ سانیاں پیدا ہوچکی ہیں تو ان پیج اردو کا دوسرا حصہ ”ان پیج پروفیشنل“ بھی کافی حد تک مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ انٹرنیٹ پر علم کے ہر شعبہ میں معلومات کا حاصل ہونا ایک عظیم نعمت سے کم نہیں۔
آ ن لائن ادبی تقریبات کے انعقاد کو اسی سمت میں ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
جہاں تک ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کا تعلق ہے برقی دنیا میں کام کرنے والے تمام گروپس، ادارہ جات میں اس ادارے کو اس لئے بھی انفراد حاصل ہے کہ ادارہ ہذا نے محض روایتی مضامین کا اعادہ نہیں کیا ، بلکہ نئے تجربوں کے استعمال سے ادب میں مختلف امکانی صورتیں پیدا کیں۔
ادارہ اپنے اخلاقی اور مقصدی نظریہ کے تحت صرف طرحی مشاعروں کے بجائے صنائع و بدائع اور موضوعاتی تجربوں کو فن کی اساس سمجھتا ہے۔
ادارہ کی ایک منفرد نوعیت تمام پروگراموں کا برائے تنقید پیش کیا جانا ہے، تنقید کیلئے ایک مخصوص ، تربیت یافتہ، فن شناش، اور بالیدہ ذہن کی ضرورت ہوتی ہے، جس کیلئے ادارہ کے پاس محترم مسعود حساس، ڈاکٹر شفاعت فہیم، شہزاد نیر جیسے عظیم ناقدین موجود ہیں۔ جو پیش کردہ تخلیقات کے عیوب و محاسن پر بےلاگ گفتگو کرتے ہیں۔
شہزاد نیر اور شفاعت فہیم گاہے گاہے جبکہ مسعود حساس تسلسل سے شعر کے فنی لوازم اور لسانی برتاؤ کے رموز کی گرہ کشائی کرتے ہیں۔بالخصوص مسعود حساس صاحب کا طرز گفتگو، لفظیات کی ادائیگی، بلند آ ہنگ لئے لہجہ کی آ ہستگی اور شائستگی۔ وہ جب شعر پر گفتگو کرتے ہیں تو ان کا موقف شعر کی تخیلی فضا کی تشکیل پر اس طرح اثر انداز ہوتا ہے کہ شاعر کے آ ہنگ کے علاوہ دیگر شعری وسائل مثلاً ترکیب سازی، استعارہ، علامت، پیکریت، کچھ بھی ان کی نظر سے اچھوتا نہیں رہتا ۔
میں منتظمین ادارہ سے ملتمس بھی ہوں اور سفارش گذار بھی کہ وہ ادارہ سے ان علمائے ادب کی وابستگی کو یقینی بنائے رکھے۔
شعراء اور ادارہ کے مابین ایک مستحکم رشتہ بنا ئے رکھنے میں احمر جان صاحب، احمد منیب صاحب اور صابر جاذب صاحب کے ہمہ جہت کردار کو قطعاً نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو ادارہ کی بقاء اور اس کے مقاصد کی تفہیم و ترسیل میں رواداری اور ادب دوستی کے جذبہ سے بےلوث خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
دیگر تمام تخلیق کار ادارے کا قیمتی اثاثہ ہیں جو اپنے اپنے طور پر اردو زبان وادب کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں، ان کی صلاحیتیں اور تخلیقی ہماہمی ادارے کو توانائی بخشے ہوئے ہے۔
ادارہ نت نئے لسانیاتی پروگرام منعقد کرتاہے۔ “نت نئے لسانیاتی پروگرام” یہ جملہ خود میں بڑی معنویت رکھتاہے اس طرح کے پروگرامز سے فنکار کی وابستگی اس کی ادبی شخصیت کے منفرد و مستند ہونے پر دلالت کرتی ہے۔
ادارے کے چیئرمین و روح رواں محترم توصیف ترنل صاحب ایک متحرک و فعال شخصیت کا نام ہے، جنہوں نے ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کے پلیٹ فارم سے زائد از دوصد کامیاب پروگرامز منعقد کرکے ایک تاریخ ساز کارنامہ انجام دے دیا ہے، اس مرحلہ کو سر کرتے ہوئے وہ مختلف نشیب و فراز سے گزرے، زوال پذیر ہوتی ہوئی ادبی قدروں سے بھی ان کا واسطہ پڑا۔ گاہے بگاہے ان کے سمجھ میں نہ آ نے والے بیانات دراصل اسی صورت حال سے پیدا شدہ اضطرابی کیفیت سے دوچار المیہ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ویسے انہیں شاعر کے منصب اور فن شعر کی معیاری قدروں کا پورا ادراک ہے۔ وہ شاعر کو سنجیدہ تہذیبی اور تاریخی روایت کا امین بھی تصور کرتے ہیں۔
توصیف ترنل صاحب نے عرب و عجم، وسط ایشیا اور یورپی ممالک میں بسنے والے شعراء و ادباء کو ادب کیلئے کی جانے والی اپنی بےلوث محنت شاقہ سے کافی حد تک متاثر کیا ہے۔
عالمی ماہنامہ ”آ سمان ادب“ بھی ادارہ کا ایک زرّیں سلسلہ ہے جس کو محترم انور کیفی صاحب و کل مجلس ادارت بحسن و خوبی جاری رکھے ہوئے ہے۔
کسی بھی ادارہ، گروپ، تنظیم میں اشخاص کی شمولیت و اخراج ایک عام سی بات ہے، پھر بھی یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ ایک ادیب و شاعر سماج اور زمانہ کا تجزیہ اور مشاہدہ کر نے کے عمل میں سماج کے دوسرے افراد سے زیادہ حساس ہوتاہے، عزت نفس اس کیلئے عزیز ترین شئے ہے ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہمارا کوئی بھی عمل اس حساس طبقہ کی دل شکنی کا مؤجب نہ بنے اور ہمارا کاروان ادب وسیع تر ہوتا جائے۔۔
مجھ حقیر فقیر کو ادارہ نے اس روحانی محفل میں عہدہء صدارت بخشا اس کیلئے میں سراپا شکر گذار ہوں۔ گرچہ میں بلا مبالغہ کہیں سے بھی اور کبھی بھی خود کو اس قابل نہیں سمجھتا ۔۔
آ خر میں توصیف ترنل صاحب وجملہ منتظمین کی نذر ایک شعر کرتے ہوئے اجازت چاہوں گا۔۔
فراز دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے
و آ خر دعوانا ان الحمد اللہ رب العالمین
تہذیب ابرار بجنور انڈیا
آخر پر خاکسار تمام اراکین ادارہ کی خدمت میں ایک اور کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہے۔
خاکسار
احمدمنیب۔ لاہور پاکستان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest