فیلنگ پرائوڈ ۔ ہما فلک

آج اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا –
خوش ہوتی بھی کیوں نہیں بات ہی ایسی تھی – سر مخدوم  نے خود اسے پیغام بھیجا تھا کہ وہ اپنے رسالے میں اس کا افسانہ شائع کر رہے ہیں-
وہ خوشی سے جھومتی ہوئی سب کو وہ پیغام دکھاتی پھر رہی تھی –
“دیکھو سر مخدوم نےخود میسج کیا ہے___ سر مخدوم نے!
پتہ ہے نا وہ کون ہیں ان کا ایک نام ہے اور ان کے رسالے میں شائع ہونا تو ____اففف میں  خوشی سے پاگل ہی نہ ہو جاؤں -” وہ انیلا کو بازوؤں سے پکڑ کر گھماتے ہوئے بولتی جارہی تھی –
“ہاں بابا جانتی ہوں کون ہیں وہ اور ان کا کیا مقام ہے لکھتی نہِیں ہوں مگر پڑھتی تو ہوں نا !”
انیلا, شبانہ کی خوشی میں خوش تھی .
“اچھا اب ایک بات سنو جیسے تمہاری عادت ہے نا ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پر موبائل پکڑ کر شروع ہو جاتی ہو ،اس خبر کو فی الحال وہاں نشر نہ کرنے بیٹھ جانا افسانہ چھپ کر آجائے تو ایک ہی بار میں سرپرائز دینا ۔”
“افف تم تو جانتی ہو مجھ سے صبر نہیں ہوتا۔ “
” ہاں مگر اس بار تمہیں صبر کرنا ہی ہوگا سر مخدوم کا ذہن بدل بھی سکتا ہے یا درمیان میں کوئی مجبوری کوئی انہونی بھی ہو سکتی ہے توبس ۔۔”
“اچھا ٹھیک ہے اب پتہ نہیں کتنا انتظار کرنا ہوگا ۔”
افسانہ چھپ کر آیا تو افسانےکے ساتھ اس کی ایک بہت خوبصورت تصویر بھی   تھی ۔
اسے جیسے ہی  رسالےکے سرورق اور اپنے افسانے کی تصاویر موصول ہوئیں، اس نے سوشل میڈیا پر ان تصاویر کو ایک تحریر کے ساتھ لگا دیا ۔
اس تحریر میں محسوسات کی جگہ لکھا تھا، “feeling proud “
مجھے فخر ہے کہ میرا افسانہ سر مخدوم کے معتبر جریدے “اردو دوست” میں شامل ہے- اس کے لئے میں سر مخدوم کی شکر گزار ہوں ۔
اس کےبعدوہ موبائل کی سکرین آن کر کے بیٹھ گئی۔ وہ جانتی تھی کتنوں نے اندر ہی اندر حسد محسوس کیا ہوگا ،کتنے صرف سر مخدوم کی نظروں میں آنے کے لئے مبارکباد دینے پہنچیں گے ،اور کتنے اس کی فہرست دوستی کا حق ادا کریں گے کہ وہاں تو “لائکس ” کے لین دین کا ہی سلسلہ چلتا تھا اس ہاتھ دو اس ہاتھ لو۔
ایک گھنٹے میں سو لائکس اور سو سے اوپر مبارکباد کے تبصرے ! وہ خوشی سے سب کو شکریہ کہہ رہی تھی ۔
سب سے پہلا لائک اور کمنٹ سر مخدوم کا ہی تھا ،جس میں انہوں نے اس کی تحریر کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی تحریر تھی ہی اس قابل کہ اسے” اردو دوست” کی زینت بنایا جاتا ۔
اس تبصرے نے تو جیسے اسے ساتویں آسمان پر پہنچا دیا تھا ۔
شبانہ مزمل کو اب اپنا نام عجیب سا محسوس ہو رہا تھا کچھ اچھا سا قلمی نام ہو جو کسی کتاب کے سر ورق پر جچتا ہو ۔
بہت سوچ کر اس نے اپنا نام شبانہ سحر  کر لیا ۔
اب وہ دن کا بیشتر حصہ سوشل میڈیا پر گزارتی سر مخدوم کی ہر تحریر پر تبصرہ کرتی اس کی کوشش ہوتی تبصرہ ایسا ہو جس میں کوئی نئی بات ہو  اور  جو عام سی نہ ہو اس میں زبان یا املا کی کوئی غلطی نہ ہو –
ایک کے بعد دوسرا افسانہ شائع ہوا  تو اس کی خوشی اور بھی بڑھ گئی ۔
مگر افسانہ مانگتے ہوئے سر مخدوم نے جب اس کی تازہ ترین تصویر کی فرمائش کی تو اس نے کہا کہ سر وہی لگا لیں جو پچھلی بار لگائی تھی۔مگر انہوں نے نرمی سے جواب دیا کہ رسالے کی پالیسی ہے رائیٹر کی ہمیشہ تازہ تصویر ہی لگے گی ۔
اسے حیرت ہوئی اور یہ کہتے کہتے رہ گئی کہ کئی لکھنے والے  ایسے بھی ہیں ،جن کے افسانے اس رسالے میں تصویر کے بغیر چھپتے ہیں  ۔
مگر خاموش رہی ، ایسا نہ ہو کہ وہ اس کا افسانہ ہی شائع نہ کریں ۔
افسانہ چھپ کر جب تصویریں ملیں تو ایک بار پھر سوشل میڈیا پر اس نے اس بار بے پناہ خوشی کے محسوسات کے ساتھ اپنی تحریر لگا دی ۔
جیسے ہی اس کی تحریر لگی اس کے موبائل پر کال آنے لگی ۔اور اس وقت اسے خوشگوار سی حیرت ہوئی کہ کال سر مخدوم کی تھی
انہوں نے ذاتی طور پر مبارکباد دے کر بات کا سلسلہ منقطع کر دیا –
اب ہر دوسرے تیسرے دن کبھی وہ اس کا اور اس کے بچوں کا حال پوچھنے کے لئے یا یونہی ہلکی پھلکی بات چیت کے لئے اسے کال کرنے لگے۔وہ بھی جب  فارغ ہوتی تو آرام سے بات کیا کرتی۔  اس کا شوہر احمر نوکری کے سلسلے میں دوسرے شہر ہوتا تھا- اور ہفتے میں ایک بار اس کا چکر لگتا ۔
اس دن سر مخدوم کی کال آئی تو رسمی سلام دعا کے بعد اس نے پوچھا
 “آپ بتائیں سر آپ کیسے ہیں؟”
“میں ___کیا بتاؤں اپنے بارے میں ___ ؟”
“کیوں کیا ہوا سر سب ٹھیک ہے ؟ “
“ہاں سب ٹھیک ہے چلو رات میں بات کریں گے  ۔”
“رات میں تو آپ گھر پر  ہونگے سر ؟”
“تو کیا ہوا ؟”
“نہیں ___ وہ میرا مطلب تھا کہ وہ تو آپ کا فیملی ٹائم ہوتا ہے ، آپ نے خود ہی بتایا تھا ۔”
“اب تم سے کیا چھپانا جانے کیوں تم اپنی اپنی سی لگتی ہو دل کرتاہے دل کھول کے تمہارے سامنے رکھ دوں ۔”
“ایسی کیا بات ہے سر ۔۔؟”
“کہا نا رات میں بات کریں گےرات میں میں بالکل تنہا ہوتا ہوں ۔”
جی سر ؟ ”  اس نے حیرت سے پوچھا
“چلو ابھی کے لئے بائے !”
انہوں نے کال منقطع کردی-
رات دوبارہ ان کی کال آنا شروع ہوئی تو اس نے خود کو عجیب مخمصے میں محسوس کیا ،بچے سو چکے تھے اور وہ اکیلی تھی۔
 بات کرنے میں کوئی حرج بھی نہِیں تھا، مگر سر مخدوم نے اس سے پہلے اس انداز میں اس سے کبھی بات بھی نہ کی تھی ۔
“نہ جانے کیسےبات کریں کیا بات کریں ؟
ہوسکتا ہے واقعی دکھی ہوں اپنا بوجھ ہلکا کرنا چاہتے ہوں ۔”
پھر اسے اپنے اس قسط وار ناول کا خیال آیا ،جس کو شائع کرنے کی دو دن پہلے ہی سر مخدوم نے حامی بھری تھی۔
اس بات کا خیال آتے ہی اس نے سر مخدوم کی کال لے لی، جو اب وہ تیسری، چوتھی بار کر رہے تھے۔
“کیسی ہو جان من ؟”
اس کی آواز سنتے ہی وہ چہک کر بولے ۔
“جی سر ___یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟”اسے لگا اس کی سماعت کو دھوکا ہوا ہے۔
” چھوڑو سب تکلفات ___ اس وقت تم بھی اکیلی ہو اور میں بھی اپنے اس ڈبل بیڈ میں سنگل ہوں -“
” ‏سر آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں، مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی -“
” ‏خیر اتنی نا سمجھ تو نہیں ہو، بہت اچھی طرح  جانتی ہو میں کیا کہہ رہا ہوں ۔”
“سر میں ایک شریف عورت ہوں اور آپ اس طرح ___”
” ‏ہاء ____شریف عورت جو رات کے اس پہر غیر مرد سے گفتگو میں مصروف ہے ۔”
” ‏آپ کو شرم آنی چاہیئے یہ  آپ کیسی بات کر رہے ہیں ؟”
” ‏تم دو ٹکے کی لکھنے والی جسے سیدھی طرح قلم بھی پکڑنا نہیں آتا میں نے اسے نام دیا مقام دیا ورنہ تمہاری اوقات کیا ہے ایک جملہ تو تم سیدھا لکھ نہیں سکتی ہو  کتنی محنت لگتی ہے تمہارے لکھے کو سیدھا کرنے میں___”
 ‏اسے لگ رہا تھا کوئی اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال رہا ہو –
 ‏  “جاؤ اب جاکر سٹیٹس لکھو
” ‏feeling proud “
 ‏کال بند ہوچکی تھی -شرم اور غصے سے اس کا برا حال تھا ،دل چاہ رہا تھا کہ موبائل دیوار پر دے مارے لیکن اس میں موبائل کی کیا غلطی تھی ۔
 ‏کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا
 ‏اس نے فیس بک کھولی اور لکھنا شروع کیا ۔
“میں نے اس دنیا میں قدم رکھا ، کچھ لکھنے اور کچھ پڑھنے کے لئے بہت اچھے لوگوں سے رابطہ ہوا، مگر ان میں کچھ ایسے بھی تھے جن کے مقاصد کچھ اور تھے جو کسی عورت کی تحریر سے زیادہ اسے ہی  پڑھنے کے خواہاں ہوتے ہیں  ۔
ہوتی ہیں کچھ عورتیں ایسی بھی جو اپنی جنس کو بہت ارزاں فروخت کرتی ہیں ۔جن کی تخلیق کی صلاحیت بانجھ ہو جاتی ہے تو گھاگ شعرا   سے  کلام لکھوا کر نام و نمود سمیٹتی ہیں- ایسی شاعری یا ایسی کسی بھی تخلیق کو میں ٹیسٹ ٹیوب شاعری یا تخلیق  کا نام دیتی ہوں ۔
رہی بات میری ،اگر میری تخلیق میں جان ہوئی تو زندہ رہ جائے گی، ورنہ اپنی موت آپ مر جائے گی -مگر میں اسے ان شکاریوں کی ہوس کی تسکین کا سامان نہیں بننے دوں گی ۔
چاہے میں بے نام و نشان رہوں –
ہاں میں لکھوں گی
Feeling proud !”
اس نے فیلنگز میں  لکھا اور فیس بک سے لاگ آوٹ کر دیا ۔
تحریر : ہمافلک
Attachments area

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram