ہندوستانی تہذیب اور تمدن داؤ پر

جاوید جمال الدین

ہندوستان میں کچھ عرصہ سے ’می ٹو‘مہم نے اچھے اچھے کو زمین چٹا دی ہے،اور یہ کچھ عرصہ اور چلی تومزید سفید پوش دیوقامت دھول چاٹتے نظرآئیں گے ،ابھی کل جمعرات کی بات ہے ، تقریباًسات دہائی سے زیادہ وقت تک ہندستانی سیاست کی چوٹی پر چمکنے والے اترپردیش کے تین بار اور اتراکھنڈ کے پوری مدت کرنے والے وزیراعلیٰ رہے نارائن دت تیواری اس جہاں سے رخصت ہوئے ،لیکن زندگی کے آخری حصہ میں کچھ واقعات نے ان کی شبیہ کو نقصان پہنچایا تھا۔پہلے آندھراپردیش راج بھون میں جنسی اسکینڈل پیش آنے اور پھر ان کی ایک قریب معاون کے ان کی زوجہ ہونے کے انکشاف نے انہیں کافی رسوا کیا اور ڈی این اے رپورٹ کے بعد2014 میں انہیں اپنی دوست اجولا سے شادی کرنی پڑی تھی اور اس کے لڑکے کو اپنابیٹاتسلیم کرنا پڑا تھا۔
مجاہدآزادی ہونے اور ایک تجربہ کار سیاستداں ہونے کے ساتھ ساتھ نارائن دت تیواری 90کے دورمیں جی رہے تھے اور ان ہی چنداسباب اوران کی پیرانہ سالی کی وجہ سے انتظامیہ اور نہ ہی ذرائع ابلاغ نے ان کے خلاف محاذ کھولا تھا۔وہ ایک ایسے دورمیں دنیا سے منہ موڑکرچلے گئے ،جب ’می ٹو‘مہم جاری ہے اور اگرتیواری عمر میں بیس تیس سال چھوٹے ہوتے تووہ بھی سولی پر نظرآتے ،جیسے جہاندیدہ اور تجربہ کار صحافی،سیاستداں اور ہر لمحہ اصولوں اور ضابطوں کی باتیںکرنے والے مبشرجمال اکبرعرف ایم جے اکبر چڑھے نظرآرہے ہیں ۔
ایم جے اکبر کے بارے میں عام خیال ہے کہ ان کے الفاظ میں جاودئی انداز ہوتا تھا ،ان کی بڑے پیمانے پر فروخت ہونے والی غیر فکشن کتاب ’بلڈ برادرس۔ اے فیملی ساگا‘کے اندازِبیان کی انتہائی پذیرائی ہوئی جس کے بارے میں کہا جاتاہے کہ یہ ایم جے اکبر کی فیملی خاص طورپر ان کے دادا کے ایک سے زیادہ رخ کی عکاسی کرتی ہے۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ آج وہی عورتیں ایک ایسے ’مثالی ایڈیٹر‘ کے زوال کی ذمہ دار ہیں جواپنے الفاظ کے اندر جادوئی طاقت رکھتاتھا۔
ایم جے اکبر نے مودی وزارت سے استعفا دے دیا ہے اوراب وہ ان خواتین سے قانونی طور پر نبرد آزما ہیں جن کا ان پر1990کی دہائی میں وقفہ وقفہ سے جنسی استحصال کا الزام ہے۔ اس زمانہ میں وہ ’دی ایشین ایج‘ کے بااختیار ایڈیٹر ہوا کرتے تھے۔ واضح رہے کہ اکبر کو جو کانگریس کے ترجمان ہوا کرتے تھے اور آنجہانی وزیر اعظم راجیو گاندھی اور چندر شیکھر سے بہت قریب سمجھے جاتے تھے، 2016میں وزیر اعظم نریندر مودی کی وزارتی کونسل میں شمولیت پر کسی کو کوئی حیرانی اس لئے نہیں ہوئی تھی کہ وہ کانگریس کے سخت ترین ناقد بن گئے تھے۔ حالانکہ ایم جے اکبر 2002 کے فسادات کے دوران گجرات کے سابق وزیر اعلی نریندرر مودی کے بھی زبردست ناقد رہے تھے ،لیکن پھرانہوںنے راہل گاندھی کو” ہندوستانی جمہوریت کا ’بگڑا ہوا بچہ‘ قرار دے کر اپنے آپ کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی نظروںمیں کافی اوپراٹھا لیا تھا۔می ٹو مہم کے تحت جنسی استحصال میں پھنسے سینئر صحافی یم جے اکبر اپنے دفاع میں درجن ،دودرجن یا پانچ چھ درجن وکلاءکھڑے کردیں ،لیکن انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اب دیر ہوچکی ہے اور ان کی شبیہ داغدار ہوچکی ہے ،اس کے لیے انہیں معذرت طلب کرلینا چاہئے ۔
یہاں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ دوشعبوں فلم انڈسٹری اور سیاست کو عام طورپراس طرح کے معاملات ”دلدل“کہاجاتا ہے۔ ،لیکن صحافتی میدان میں یہ سب کچھ ہوتا ضرورتھا ، اتنے پڑے پیمانے پر اس کاکسی کو گمان تک نہیں تھا،حالانکہ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ ہی طبقہ سب سے زیادہ آزادی اظہار رائے ،خواتین کے حقوق اور ان کی آزادی خیال اور انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار تھا ،ایک عشرہ قبل جب میں ایک اردوروزنامہ میں برسرروزگار تھا ،اُس وقت انتظامیہ نے نئے دفتر میں اردوشعبہ ادارت کے عملے کو بھی اپنے انگریزی شامنامہ کے ادارتی عملے کے ساتھ ہی ایک کشادہ اور وسیع ہال میں بیٹھنے کا انتظام کیا ،اخبار کے نام نہاد پبلشر اورآرگنائزنگ ایڈیٹر نے ڈسپلن کی دہائی دی کہ بے چارے اردووالے سہم کررہ گئے اور چند ایک کو چھوڑکر انگریزی عملے کے سامنے بھیگی بلی بنے رہتے تھے ،جبکہ انگریزی صحافی جشن وسرور کی محفلیں سجاتے اور شوروہنگامہ میں لگے رہتے ،ان میں شامل خواتین صحافیوں نے ان بے چارے اردووالوں کو ”گاندھی وادی‘’قراردے دیا بلکہ ہنسی ہنسی میں چند ایک تو انہیں” گاندھی کے تین بندر“ بھی کہہ دیتی تھیں۔
یاد ماضی عذاب،،،خیر اس سے آگے بڑھتے ہیں،اس صحافتی میدان کے اصول پرست اور غیر جانبداری کے گھناؤنے چہرے سے سب سے پہلے پردہ اُس وقت نوچا گیا جب چند سال قبل گوا میںایک کانفرنس میں شریک ہونے گئی تہلکہ میگزین کی ایک جونیئر صحافی نے ہوٹل کی لفٹ میں بدسلوکی کرنے والے ایڈیٹر کو معاشرے کے سامنے ننگا کردیاتھا،اور مذکورہ ہائی فائی مدیراعلیٰ آج بھی سلاخوں کے پیچھے ہے۔
کہتے ہیں وقت کروٹ بدلتا ہے ،میرے ایک صحافی دوست عبدالرحمن صدیقی نے کبھی معاشرے میں بڑھتی بے حیائی اور فحاشی پر تبادلہ خیال کے دوران اس بات کا ذکر کیا تھا کہ 1940کی دہائی میں کسی فلم میں مشہور زمانہ اداکارہ دیویکا رانی نے پردہ ¿ سمیں پر رقص کے دوران اپنی ساڑی کو ٹخنے سے اوپراٹھالیا تھا ، پھر کیا تھا اُس نتیجہ یہ ہوا کہ سنیما ہال میں فلم دیکھ رہے ، نوجوانوں نے جوش وجذبات میں ہال کی سیٹیں پھاڑدیں تھیں ،گزشتہ دوتین دہائیوں سے ہندی فلموںمیںآرٹ یا فن کے نام پر جوکچھ دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے ،وہ عریانیت اور فحاشی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ،لیکن یہی صحافی برادری جوآج ان خواتین کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا ڈھونگ کررہی ہے ،ایسی فلموں اور لوگوں کی وکالت کرتے نہیں تھکتے ہےں۔بچپن میں سنتے تھے کہ آگ بجھانے جارہے فائرانجن کوتمام ریڈ لائٹ کو توڑنے کی اجازت ہے یعنیانہیں ’سات خون‘معاف ہیں ،یہی فلم انڈسٹری کا حال ہے پہلے دودرجہ کی ’یو ‘اور ’اے ‘سرٹیفکٹ کی فلمیں آتی تھیں اور اب ایسے سرٹیفکٹ کی منظوری دے دی گئی جس کے تحت والدین کے ہمراہ بچے بھی فلم دیکھ سکتے ہیں ،ہیرواور ہیروئین کے درمیان تعلقات اور ’لیوان‘کی داستان بھی مشہور ہے،بھلا ہو تنوشری کا جنہوںنے ایک معروف اداکار ناناپاٹیکر کو قانونی میدان میں گھسیٹ لیا ،لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران جوکچھ ان کے ساتھ ہواتھا ، اس کو پہلے ہی وہ بیان کرچکی تھیں،لیکن راکھی ساونت جیسی اداکارہ نے انہیںکھری کھری سنائی اور نانا کے دفاع میں کھڑی نظرآئیںاور آج بھی انہیں سیاسی پشت پناہی حاصل ہے۔
’ٹومی ‘مہم میں یہاں تک تو سب ٹھیک ٹھاک ہے ،لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ اپنے کرئیر کی بہتری یا ترقی کے لیے کسی بھی معاملہ میں رضامندی ظاہرکرنااور خاموشی اختیار کرلینا حق بجانب نہیں ہے ،بلکہ تہلکہ کی صحافی کی طرح اُسی وقت آواز بلند کردیناچاہئے تھا ۔اب ایک عرصے بعد گڑھے مردے اکھاڑنے کی کوشش سے ایک نہیں بلکہ جس پر الزام عائد کیا گیا ،اس کی زندگی کے ساتھ ساتھ جڑے اہل خانہ کی زندگیاں بھی متاثر ہوںگی ،اس لیے اس معاملہ میں بھی احتیاط برتناانتہائی ضروری ہے کہ کوئی بے قصور مہم کاشکارنہیں بن جائے۔ آخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ان معاملات میں اتنا شور مچایا جارہا ہے اور دوسری ہم جنس پرستی اور شادی شدہ عورت کے ناجائز تعلقات کو بھی بُرا نہیں سمجھنے کی عدالتیں ہدایات دے رہی ہیں ،یہ سب کچھ ہندوستانی تہذیب اور تمدن کے خلاف ہے ،ارباب اقتدار اور ان کی ہمنوا تنظیمیں اور حامی ہر روز ہندوستان اور ہندوستانیت کی دہائیاں دےرہے ہیں ،لیکن ان معاملات می ں ان کی حرکتیں عجیب وغریب نظرآرہی ہیں ،کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ’سبھی حمام میں ننگے ہیں۔“

Javed Jamaluddin,
Editor In Chief ./HOD
Contact :9867647741.
02224167741

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *